Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

دھوکہ نمبر 32

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

دھوکہ نمبر 32

شیعہ علماء کی ایک جماعت بڑی سعی و کوشش سے اہل سنت کی تفاسیر اور سیرت کی ان کتابوں میں جو علماء اور طلباء میں بہت کم معروف و مشہور ہوں یا نادر الوجود ہوں، ایسی جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ جو شیعہ مذہب کی تائید اور اہل سنت کے مذہب کی تردید کرتی ہوں۔

چنانچہ باغ فدک کے ہبہ کا قصہ بعض تفاسیر میں داخل کر دیا ہے اور اس کی روایت یوں بیان کی کہ جب آیت وَاتِ ذَا القُرْبى حقه (اور دیجئے اقرباء کو ان کا حصہ) نازل ہوئی تو حضورﷺ نے حضرت فاطمتہ الزہراء رضی اللّٰه عنہا کو بلایا اور باغ فدک ان کو عطا فرما دیا۔ مگر اس کو کیا کیجئے کہ ان بد بختوں کو جھوٹ بولنا بھی نہ آیا۔ اور وہ یہ بھول گئے کہ یہ آیت تو مکی ہے یعنی کہ

کے قیام کے زمانہ میں نازل ہوئی ہے اس وقت باغ فدک ملا ہی کہاں تھا۔ وہ مکہ میں تو تھا نہیں۔ پھر آیت میں صرف ذو القربیٰ ہی کو دینے کا حکم تو نہیں تھا۔ مساکین اور ابن سبیل کو بھی بخشش و عطا میں شامل کیا گیا تھا۔ ان کو اس عطیے اور بخشش سے کیوں محروم رکھا گیا۔ اس آیت کے مطابق ان کو بھی تو ان کا حصہ دیا جانا چاہیے تھا تا کہ پوری آیت پر عمل ہو جاتا۔ علاوہ ازیں، اعطاها فدک کے الفاظ سے ہبہ و تملیک تو ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے لئے تو ان کو وحبھا کا لفظ

گھڑنا چاہیے تھا۔ مگر پھر یہ رسوائی اور شرمندگی انہیں کہاں ملتی؟ اسی طرح بعض اور کتب تفاسیر و سیرت میں اسی قسم کی جھوٹی ملاوٹ کا پتہ چلتا ہے اس جھوٹ میں بھی اکثر بےخبر علما و سنت الجھ جاتے اور ذہنی تشویش کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دہلی کے بادشاہ محمد شاہ کے زمانہ میں امراء شیعہ میں دو افراد، مرتضٰی خاں اور مرید خاں نامی تھے ، ان کا وطیرہ ہی یہ تھا کہ اہل سنت کی کتابوں مثلاً صحاح ستہ مشکٰوۃ یا بعض تفاسیر کو خوش خط لکھواتے اور امامیہ کی کتابوں سے اپنے مطلب کی کوئی حدیث لے کر ان میں شامل کر دیتے ، پھر اس مخطوطہ کو جلدوں ، اور آب زر سے مزین کر کے نہایت کم قیمت پر گلی کوچوں میں فروخت کرتے اور دھوکہ دہی کا یہ طریقہ آغا ابراہیم بن علی شاہ کے زمانہ میں جو سلاطین صفویہ کا بڑا بادشاہ تھا ۔ اس کا ایک امیر اصفہان میں استعمال کرتا تھا۔ لیکن ان کا یہ دھوکہ کچھ چلا نہیں اس لئے کہ اہلسنت کی جو مشہور و معروف کتب ہیں وہ تو علما و طلباء کے ہر دم زیر مطالعہ رہتی تھیں اور بکثرت شائع اور دستیاب تھیں اس لئے ان میں رد و بدل کرنا مشکل تھا۔ اور اس کا پتہ بھی آسانی سے لگ سکتا تھا۔ اور جو کتابیں مشہور نہیں تھیں وہ ناقابل اعتبار سمجھی جاتی تھیں۔ اسی لئے محققین علماء اہلسنت نے غیر مشہور کتابوں سے نقل و حوالہ کو جائز نہیں رکھا۔ البتہ ترغیب خوف دلانے کے مسائل میں ان کو سابقہ انبیاء کے صحف کا سا درجہ دیا ہے، کہ ان میں رد و بدل اور تحریف کے احتمال کی وجہ سے ان سے عقیدہ و عمل کا کوئی مسئلہ نہیں لے سکتے ۔