Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ صدقہ کے اونٹوں کا علاج کرتے تھے

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گرمی کے موسم میں دوپہر کے وقت عراق سے ایک وفد آیا، اس میں احنف بن قیس بھی تھے اور حضرت عمرؓ سر پر پگڑی باندھ کر صدقہ کے ایک اونٹ کو تارکول وغیرہ لگا رہے تھے۔ آپؓ نے فرمایا: اے احنف! اپنے کپڑے اتارو اور آؤ اس اونٹ میں امیر المؤمنین کی مدد کرو، یہ صدقہ کا اونٹ ہے، اس میں یتیم، بیوہ، اور مسکین کا حق ہے۔ وفد کے ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ آپ کی مغفرت کرے، آپؓ کسی خادم کو کیوں نہیں کہہ دیتے کہ وہ آپ کا یہ کام کر دے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھ سے اور احنف سے بڑا خادم کون ہو سکتا ہے؟ جو شخص مسلمانوں کا حاکم ہو، اس پر خیر خواہی اور امانت کی ادائیگی کے سلسلہ میں مسلمانوں کے وہی حقوق لازم ہیں جو ایک غلام پر اس کے آقا کے لیے لازم ہوتے ہیں۔

(أخبار عمر: صفحہ 343، بحوالہ: ابن الجوزی )