Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہلِ بدعت اور خلافِ شرع مجلسوں میں جانے کا حکم


اہلِ بدعت اور خلافِ شرع مجلسوں میں جانے کا حکم

سیدنا علیؓ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں نے ایک دفعہ کھانا تیار کیا اور حضور اکرمﷺ ‎سے شرکت کی درخواست کی۔ آپﷺ‎ تشریف لائے دیکھا کہ گھر میں تصویریں ہیں تو واپس تشریف لے گئے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب (کسی مجمع میں) احکام الٰہیہ کے ساتھ استہزا اور کفر ہوتا ہو تو اُن لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو جب تک کو وہ (ایسی باتوں کو چھوڑ کر) کوئی اور بات شروع نہ کریں کہ اس حالت میں تم بھی گناہ میں انہی جیسے ہو جاؤں گے۔ (سورة النساء، آیت 140)

صاحب روح المعانیؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فاسقوں اور بدعتیوں کے ساتھ بیٹھنا حرام ہے ان سے اعراض میں اعراضِ قلبی کافی نہیں بلکہ ان کی مجلس سے اٹھنا ضروری ہے۔

معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو ہر ایسی مجلس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہئے جس میں اللہ تعالٰی یا اس کے رسولﷺ‎ یا شریعتِ اسلامیہ کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں اور اس کو بند کرنا یا کم از کم حق بات کا اظہار کرنا اس کے اختیار و قبضہ میں نہ ہو۔

(فتاویٰ عباد الرحمٰن جلد 7، صفحہ 258)