سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی علم علماء اور مبلغین اسلام پر خصوصی توجہ
علی محمد الصلابیحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا علم سے شغف
علم امتِ اسلامیہ کے غلبہ و قوت کا ایک اہم سبب ہے یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو غلبہ و حکمرانی عطا کرے جو جاہل اور علم سے پیدل ہو۔ قرآنِ کریم کو بغور پڑھنے والا یہ بات واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ اس میں علم کی عظمت اور حصولِ علم کی طرف رغبت دلانے والی آیات بھری پڑی ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کی سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت کریمہ پڑھنے اور علم حاصل کرنے کا حکم دیتی ہے:
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ ۞(سورۃ العلق: آیت 1)
ترجمہ:’’پڑھو اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
اسی طرح قرآن نے علم کو کفر کے مقابل میں ذکر کیا، جو مکمل جہالت اور گمراہی ہے۔ اللہ نے فرمایا:
قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ۞(سورۃ الزمر: آیت 9)
ترجمہ:’’آپ کہہ دیجیے کیا وہ لوگ جو علم والے ہیں اور وہ جو علم والے نہیں ہیں، برابر ہو سکتے ہیں؟ بے شک اہلِ عقل و دانش نصیحت پکڑنے والے ہوتے ہیں۔‘‘
اور علم ہی ایک ایسی چیز ہے جسے زیادہ سے زیادہ طلب کرنے کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔
(التمکین للأمۃ الإسلامیۃ: صفحہ 62)
فرمایا :
وَقُلْ رَّبِّ زِدۡنِىۡ عِلۡمًا۞ (سورۃ طه: آیت 114)
ترجمہ: ’’اور کہیے اے میرے رب میرے علم میں زیادتی کر دے۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے کہ شریعت کا علم، اور دین کی سمجھ تائید و نصرتِ الہٰی کا سبب ہے، اس لیے وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرنے اور کتاب و سنت کی تعلیم سیکھنے کے حریص رہے، ان کے حصولِ علم میں خلوص و للہیت تھی، انہوں نے شرعی احکام کو دلائل کے ساتھ سیکھنا چاہا۔ انہیں یقین تھا کہ علم کے ساتھ عمل ضروری ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ علم کی برکت چھین لے گا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دعا سیکھی تھی:
اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عِلْمٍ لَّا یَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَمِنْ نَّفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَۃٍ لَا یُسْتَجَابُ لَہَا۔
(صحیح مسلم: حدیث 2722 )
ترجمہ: ’’اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو نفع نہ دے اور ایسے دل سے جو خوف نہ کھائے، اور ایسے نفس سے جو آسودہ نہ ہو اور ایسی دعا سے جسے قبول نہ کیا جائے۔‘‘
امتِ مسلمہ نے حضرت عمرؓ کی علمی گہرائی کی شہادت دی ہے اور یہ اعتراف کیا ہے کہ اسلام کے شروع دور میں آپؓ امت مسلمہ کے فقیہ تھے، فکر و فہم کی گہرائی، تحلیل و تجزیہ کی قدرت اور استنباط کی مہارت میں آپؓ نے شہرت پائی۔ اللہ کے فضل و توفیق کے بعد آپ مذکورہ جن خصوصیات و اوصاف سے متصف ہوئے حقیقت میں اس ممتاز مقام و منصب کے لیے وہ ضروری بھی تھیں۔ چنانچہ جب خلافت سیدنا عمرؓ کے ہاتھ میں آئی تو آپؓ مسلمانوں کے فقیہ بن کر ابھرے اور اسلام کی حقیقی معرفت نیز اس کی جوہر شناسی کے نتیجہ میں آپؓ نے اپنے اجتہادات کے ذریعہ سے عدالت و ثاقت کے قواعد وضع کیے، فقیہ سمجھے جانے والے صحابہؓ میں آپؓ سب سے آگے تھے۔
سلف صالحین نے آپ کے علم، سمجھ اور شرعی احکام کی دقیق معرفت کو خوب سراہا ہے۔ آپؓ حدیث قبول کرنے میں بہت محتاط تھے اور صحابہ کے ساتھ علمی مذاکرہ کا اہتمام کرتے تھے۔ جن مسائل کو رسول اللہﷺ سے نہیں سیکھ سکے تھے انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھتے تھے، طلب علم پر رغبت دلانے والے بہت سے اقوال آپؓ سے ثابت ہیں، اپنی رعایا کو تعلیم و توجیہ سے نوازا، فقہ و فتویٰ کے لیے آپؓ نے مدینہ میں ایک گھر خاص کیا، جو بعد میں مدرسہ کی شکل اختیار کر گیا اور اس سے قاضی و حکمران بن کر نکلنے لگے اس مدرسہ نے صحابہؓ کی ایک ایسی منتخب جماعت تیار کی جنہوں نے فتوحات کے موقع پر علمی اداروں مسجدوں کی قیادت کی۔ انہوں نے کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کی روشنی میں مفتوحہ اقوام کو اسلامی تعلیم و تربیت دی۔ اس طرح علمی مدارس کی تاسیس میں سب سے پہلی اینٹ سیدنا عمرؓ نے رکھی اور یہ علمی مدارس جیسے بصرہ، کوفہ اور شام کے مدارس امت مسلمہ کے دلوں میں کافی مؤثر ثابت ہوئے۔ حضرت عمرؓ نے مکی اور مدنی مدارس کو خصوصی ترقی عطا کی۔