Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حدیث قبول کرنے میں احتیاط علمی مذاکرہ اور نامعلوم مسائل کے بارے میں استفسار

  علی محمد الصلابی

حدیث قبول کرنے میں احتیاط

ایک مرتبہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، لیکن اجازت نہ ملی شاید حضرت عمرؓ کسی کام میں مشغول تھے، ابو موسیٰ اشعریؓ واپس لوٹ گئے، جب حضرت عمرؓ اپنے کام سے فارغ ہوئے تو کہا: کیا میں نے عبداللہ بن قیسؓ ابو موسیٰ اشعری کی آواز نہیں سنی؟ ان کو آنے کی اجازت دے دو، آپؓ کو بتایا گیا کہ وہ واپس چلے گئے۔ آپؓ نے ان کو بلوایا اور واپس جانے کی وجہ پوچھی، ابو موسیٰؓ نے جواب دیا کہ ہم اسی بات کا حکم دئیے جاتے تھے، یعنی اجازت نہ ملے تو واپس ہوجائیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنی بات پر کوئی گواہ لاؤ۔ چنانچہ ابو موسیٰؓ انصار کی مجلسوں میں گئے اور ان سے پوچھا کہ اور کسی نے اس حدیث کو سنا ہے انہوں نے کہا: اس حدیث کی گواہی ہمارا سب سے چھوٹا آدمی دے گا۔ ابو سعیدؓ کھڑے ہوئے اور کہا: ہاں ہم اس بات کا حکم دئیے جاتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ کا یہ فرمان میں نہیں جان سکا۔ کاروبار اور تجارت نے مجھے اس سے غافل کر دیا۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 2153)

اور ابو سعید خدریؓ کی روایت میں ہے کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اتنے میں گھبرائے ہوئے ابو موسیٰؓ آئے اور کہا: میں نے عمرؓ سے تین بار اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہ ملی تو میں واپس ہو گیا۔ انہوں نے بعد میں مجھ سے پوچھا کہ تم کیوں واپس چلے گئے؟ تو میں نے بتایا کہ تین مرتبہ میں نے اجازت مانگی تھی لیکن جب اجازت نہ ملی تو میں واپس ہو گیا، اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:

إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُکُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ فَلْیَرْجِعْ۔

ترجمہ: ’’جب تم میں کوئی تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو چاہیے کہ لوٹ جائے۔‘‘

میری یہ بات سن کر حضرت عمرؓ کہہ رہے ہیں کہ اس حدیث پر کوئی گواہ ضرور لاؤ۔ لہٰذا کیا آپ میں سے کسی نے یہ حدیث نبی اکرمﷺ سے سنی ہے؟ حضرت ابی بن کعبؓ نے کہا: تمہارے ساتھ اس سلسلے میں گواہی دینے اس جماعت کا سب سے چھوٹا آدمی جائے گا اور پھر میں ابو موسیٰؓ کے ساتھ کھڑا ہوا اور حضرت عمرؓ کو بتایا کہ نبی کریمﷺ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 2153)