دھوکہ نمبر 37 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 37

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 3

ماہر عربیت کو اس آیت کے الفاظ کا پھس پھسا پن اس کے من گھڑت ہونے کی چغلی کھاتا نظر آتا ہے۔ کیونکہ وہ آپﷺ کے کلام بلیغ سے ادنیٰ مناسبت بھی نہیں رکھتے۔ دوسری بات یہ وہی جارود تو ہے جس کا بیٹا منذر نامی جناب امیر کی خلافت میں عامل تھا اور وہ تمام متعلقہ علاقوں کا خراج وصول کر کے فرار ہو گیا اور جناب امیر کے دشمنوں سے جا ملا۔ جناب امیر نے سرزنش و ملامت کے بہت سے خطوط لکھے۔ مگر اس نے کسی ایک کو بھی قابل توجہ نہ سمجھا اور ساری رقم ہضم کر گیا ۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس کا باپ جناب امیر رضی اللّٰه عنہ اور آپ کی اولاد سے اتنا واقف اور معتقد تھا۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اس نے اپنے بیٹے کو آپ کی جلالت شان سے واقف نہ کر دیا ہو۔ اور پھر ایسے باپ کا بیٹا ان کے ساتھ ایسی غداری کرتا اور بے حیائی سے پیش آتا ۔ پھر اسی جارود کے بیٹے نے جو حضرت انس بن مالک رضی اللّٰه عنہ کا مصاحب خاص تھا اور شاگرد بھی۔ اس نے ائمہ اطہار سے علم کیوں حاصل نہیں کیا ۔ انس بن مالک کی شاگردگی ہی پر قانع ہو کر کیوں بیٹھا رہا۔

صحیح اور قابل اعتبار کتابوں سے جارود کا صرف اتنا سا حال معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کہا

وَ الَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ وَجَدْنَا وَصَفَكَ فِي الْإِنْجِيلِ وَلَقَدْ بَشَرَنَا بِكَ ابْنُ البتول- (اس ذات کی قسم جس نے آپ کو دین حق کے

ساتھ مبعوث فرمایا کہ آپ کا وصف ہم نے انجیل میں موجود پایا اور ابن مریم علیہ السلام نے ہم کو آپ کی بشارت دی ) ۔

البتہ قِس بن ساعده الایادی کا حال حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰه عنہ کی روایت سے یوں معلوم ہوا ہے ۔

قال إن وند بكر بن وائل قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا نَزَعُوا مِنْ حَرَاجهِمْ قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم هَلْ فيْكُمُ احَدٌ يَعْرِفُ قس بن ساعدة الآيَادِي قَالُوا قُلْنَا نَعْرِفُهُ قَالَ مَا فَعَلَ قَالُوا هَلَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلمَ کا فِي بِهِ عَلَى جَمَلِ أَحْمَرَ بِعکاظ قَائِمَا يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ إِجْمَعُوا وَاسْمَعُوا دوموا فكل مَنْ مَاشَ مَاتَ وكُلِّ مَنَ مَاتَ وَكُل ما هو ات ات انَّ فِي السَّمَاءِ لَخَيْراً وَإِنَّ فِي الأَرضِ لعبرا عاد موضوعُ وَسَقْفُ مَرْفُوعَ وَبِجَارُ تَمُورُو تجارة لن تبور - ليل واجٍ وَسَماء ذَاتَ أَبْرَاج اقسم قس حَقًّا لئن كان فِي الأَمْورضی ليَكُونَنَّ بَعْدَهُ سَخَطُ وان الله عزتُ قدُ رَاتُهُ دِينَا هُوَ احَب إِلَيْهِ مِنْ دينكم الذي انتُم عَلَيْهِ مَالِي أَرَى النَّاسِ يَذْهَبُونَ ولا يرجعون أَرَضُوا فَا قامو امرک كُم اننا مواثم ائشد أبو بكر شعرًا كَانَ يَحْفَظُ لَهُ - بيت في النَّاهِبِيْنَ الْأَوَّلِينَ مِنَ الْقُرُونِ لَنَا بَصَارُ كمان ایت موارِ والكُمُوتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادر درایت توفِي نحوهَا يَسْعَى الأَصَاغِرُ و الاكابر لا يرجع الماضي إلى وَلَا مِنْ بادِينَ عَابر ايقنت أني لا محالة حيث صَارَ القومُ صَارك

آپﷺ کی خدمت میں بکر بن وائل کا ایک وفد آیا۔ جب وہ اپنے کاموں سے فارغ ہو چکے تو رسولﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم میں سے کوئی قِس بن ساعدہ کو جانتا ہے انہوں نے کہا ہم سب اس کو جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اب اس کا کیا حال ہے۔ وہ کہنے لگے اس کا تو انتقال ہو گیا ۔ اس پر آپ نے فرمایا، میری نظروں میں وہ منظر ابھی تک ہے کہ وہ عکاظ میں سرخ اونٹ پر بیٹھ کر وہ کہہ رہا ہے۔ لوگو! آؤ سنو اور یاد رکھو کہ جو زندہ ہے وہ مرے گا اور جو مر گیا وہ فنا ہو گیا ۔ اور جو آنے والا ہے وہ ضرور آئے گا۔ البتہ آسمان میں بھلائی ہے اور زمین کی عبرتیں! ایک ستون ہے گڑا ہوا۔ اس پر چھت ہے ڈالی ہوئی سمندر مو بران ہے سودا ہے بے نقصان ! رات اندھیری ہے اور آسمان پر برجوں والا ہے اور قِس قسم کھا کر کہتا ہے کہ اس وقت اگر کام میں خوشی ہے تو بعد میں اس میں نا خوشی ہو گی اور اس اللّٰه کے نزدیک جس کی قدرت سب پر غالب ہے ایک دین ہے جو اس کو تمہارے دین سے زیادہ پسند اور محبوب ہے ۔ کیا بات ہے کہ نہیں لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ دنیا سے چلنے جا رہے ہیں اور پھر واپس نہیں ہوتے۔ کیا ان کو کوئی ایسی چیز ملی ہے کہ وہیں رک گئے ! یا معاف کر دیئے گئے تو سکون سے وہیں سو رہے۔

پھر بو بکر نے ایک شعر پڑھا جو اس کو یاد تھا۔ (ترجمہ یہ ہے)

"پچھلی صدیوں کے گزرے ہوئے لوگوں میں ہمارے لئے عبرت و نصیحت ہے کہ موت ایک دن آئے گی، اور اس پر اترنے کی جگہ تو ہے مگر واپسی کی جگہ نہیں اور میں نے دیکھا کہ میری قوم کے چھوٹے اور بڑے اسی کی طرف دوڑے جا رہے ہیں نہ گیا ہوا کوئی لوٹتا ہے اور نہ ہی بقیہ میں سے کوئی باقی رہے گا۔ تو میں نے یقین کر لیا کہ میں بھی ضرور وہیں جاؤں گا جہاں میری قوم چلی گئی۔ "

اب اس عبارت اور پچھلی عبارت میں جو قِس کی بتائی جاتی ہے زمین و آسمان کا فرق ہے عربی لغات کا انبار لگا دینے سے بھی کہیں کلام میں بلاغت پیدا ہوتی ہے، قس کا شمار عرب کے چوٹی کے بلغاء میں تھا اور پچھلی عبارت میں بلاغت و فصاحت کا شائبہ تک نہ تھا صرف قاموس کے لغت اکٹھے کر دیئے گئے اور بس اور جن کو فصاحت و بلاغت میں زرا بھی درک ہے وہ اسے خوبی سمجھ لیں گے۔

صفحہ 2 از 3