دھوکہ نمبر 37 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 37

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 3 از 3

در اصل وہ قصہ سر تا پا ، من گھڑت اور جھوٹ کی پوٹ ہے ۔ اس کے جھوٹا ہونے کی پہلی دلیل تو یہ ہے کہ جناب امیر اور آپ کی اولاد کی ولایت شب معراج میں طے پا جاتی تو حضورﷺ با التفصیل اور بالترتیب ان ائمہ کے نام بتاتے اور وہ بطریق تواتر تم تک پہنچتے جس طرح نماز کی فرضیت اور دیگر واقعات معراج بوضاحت بیان فرمائے اور وہ بطریق تواتر ہم تک پہنچے، یا کم از کم جناب امیر اور آپ کا خاندان تو اس سے مطلع ہوتا تاکہ یہ پھر امت کے معاملہ میں آپس میں نہ جھگڑتے۔ اور اگر کتب سابقہ میں یہ قصہ مذکور ہوتا تو یہود و نصارٰی تو باخبر ہوتے، جبکہ جاہلیت اولیٰ کے عربوں کو بھی ضرور اطلاع ہوتی ۔ اور وہ اس کی خبر دیتے ۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ شیعوں کے سارے فرقے یہ روایت بیان کرتے اور کیسانیہ ، اسماعیلیہ، وافقیہ ، زیدیہ، اس معاملہ میں اثنا عشریوں کے ساتھ موافق ہوتے ۔

اس کے علاوہ اسی قِس کی طرف منسوب کردہ کلام میں ائمہ کی طرف نفاة الاباطیل سے کی گئی ہے۔ یعنی برائیوں اور لغویات کے مٹانے والے، جب کہ ان حضرات کرام کو تو باطل کے مٹانے کی قدرت ہی حاصل نہ ہو سکی اس لئے کہ اثنا عشری شیعوں کے گمان و خیال کے موافق تو ان حضرات کی ساری زندگی تقیہ اور دشمنوں کے خوف میں بسر ہوئی۔ ان کے زمانہ میں عباسی اور مروانی لغویات کا رواج و چرچا ہوتا رہا۔ مگر یہ ایک حرف زبان سے نہ نکال سکے۔

اسی طرح ان کو صادق القیل ( کہ وہ سچ بولنے والے ہیں) کہا گیا۔ حالانکہ بقول ان ہی شیعوں کے کہ تقیہ کی وجہ سے ان ائمہ کو عمر بھر حرف سچ زبان پر لانے کا موقعہ ہی نہیں ملا ۔

پھر ان کی مدح میں درستہ الانجیل (انجیل کے پڑھنے پڑھانے والے ہیں) کے الفاظ بھی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کسی ایک صاحب سے بھی انجیل کا پڑھنا پڑھانا ثابت نہیں۔


صفحہ 3 از 3