Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زیادہ مہرباندھنے سے عمرؓ نے منع کیا اور کہا جو شخص زیادہ مہر مقرر کرے گا وہ مہر بیت المال میں داخل کر دی جائے گی۔

  زینب بخاری

زیادہ مہرباندھنے  سے عمرؓ نے منع کیا اور کہا جو شخص زیادہ مہر مقرر کرے گا وہ مہر بیت المال میں داخل کر دی جائے گی۔ایک عورت کھڑی ہوئی اور کہا کہ حق تعالیٰ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو اللہ تعالی نے فرمایا:-

وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا

ترجمہ: اور تم ان میں سے کسی کو ڈھیروں مال دے چکے ہو تو ان سے واپس نہ کرو۔

عمرؓ نے جواب دیا:-

کل افقہ من عمر حتیٰ المخدرات فی الحال

جواب حضرت عمرؓ کا غلو مہر سے منع کرنا رسول ﷺ کے ارشاد گرامی کے عین مطابق تھا۔

خطابی" غریب الحدیث" میں روایت کرتا ہے:-

ان النبی ﷺ قال تیاسروا فی الصدق الحدیث

رسول ﷺ نے فرمایا مہروں  میں آسانی کو ملحوظ رکھو۔

صحیح ابن حبان میں ہے:-

عن ابی عباس قال قال رسول اللہ ﷺ صحیح النساء جن صداقا۔

رسول ﷺ فرما تے ہیں بہترین عورتیں وہ ہیں جن کے مہریں آسان ہیں۔

عن عائشۃؓا انہ ﷺ قال من یمن المراتہ سھل اندھا قلتہ صداقھا۔

عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا عورت کی برکت سے ہے  اس کے امور کا آسان ہونا اور مہر کا کم ہونا۔

امام احمد اور امام بہیقی رحمتہ اللہ روایت کرتے ہیں:

اعظم النساء برکتہ الیسرھن صداقا۔

جن عورتوں کی مہریں آسان ہوتی ہیں وہ زیادہ برکت والی ہیں۔

اس کی سند جید ہے:

 حضرت عمرؓ کا عورت کی بات تسلیم کر لینا اس وجہ سے تھا کہ مہر بہرحال مشروع ہے چاہے کثرت ناپسند اور مکروہ ہے،حکام وقت کو یہ اختیار ہے کہ مباح امور پر جن میں کراہت ہو بوقت ضرورت پابندی لگا سکتے ہیں رسول ﷺ نے حضرت زیدؓ کو زینب کی طلاق سے منع فرمایا۔

امسک علیک زوجک واتق اللہ۔

اپنی بیوی اپنے پاس رکھو اور خدا کا خوف کرو۔

حالانکہ طلاق مباح ہے۔حضرت عمرؓ کا یہ فرمانا کہ زیادہ مہر بیت المال میں جمع کر دی جائے گی ایک سیاسی حکم ہے اور منع کرنے میں مبالغہ کے طور پرہے۔

حضرت عمرؓ کا فرمان ہے کہ عمر سے سب افقہ ہے حتی کہ عورتیں بھی تواضع اورکسر نفسی کے طور پر ہے،یہ مقصد نہیں کہ عورت کی بات درست ہے اور عمر کی بات غلط، ورنہ حضرت عمرؓ عورت کی بات سن کر اپنے فیصلہ سے رجوع کر لیتے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایام خلافت عمرؓ میں مغالاتہ مہر سے ہمیشہ منع کیا جاتا رہا استدلال میں حضرت عمرؓ نے فرمایا:-

ماتزوج رسول اللہ ﷺ ولا زوج نباتہ باکثر من اربعہ مائتہ درھم رواہ اصحاب السنن الاربعہ۔

رسول اللہ ﷺ نے شادیاں کیں اور اپنی بیٹیوں کو بیاہا مگر چار سو درہم سے زیادہ مہر نہ بنائی۔

 بر تقدیر تسلیم یہ بات محل طعن ہی نہ ہے کہ ایک مرد عالم اور افقہ کسی ایک مسئلے کے جواب میں خطا کرے اور کوئی بچہ یا عورت درست جواب دے اس واقعہ سے تو الٹا عمرؓ کے انصاف و عدالت کا پتہ چلتا ہے-

  علیؓ کا ایک اسی طرح کا واقعہ دیکھے:-

اخرج ابن جریر وابن عبد البر عن محمد بن کعب۔

* قال سال رجل علیا عن مسئلتہ فقال فیہا فقال رجل لیس ھکذا ولکن کذاوکذاقال علیؓاصبت واخطانا وفوق کل ذی علم علیم*۔

محمد بن کعب کہتا ہے۔

ایک مرد نے علیؓ سے ایک مسئلہ پوچھا انہوں نے اپنی رائے فرمائی۔ مرد نے کہا مسئلہ ایسے نہیں ہے ،اس طرح ہے علیؓ نے فرمایا تم نے ٹھیک کہا ہم نے غلط کہا اور ہر علم والے کے اوپر علم والا ہے۔

 کسی نے کیا خوب کہا:-

پسندید زو شاہ مردان جواب

کہ من برخطا بودم واوبرصواب