Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

وضو میں رسول اللہﷺ‏ کی اتباع

  علی محمد الصلابی

حمران بن ابان سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پانی منگایا پھر وضو فرمایا، کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو تین تین بار دھویا، اور سر کا مسح کیا، اور دونوں قدموں کو دھویا، پھر ہنس پڑے پھر اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم مجھ سے دریافت نہیں کرو گے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین آپؓ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ‏ کو دیکھا کہ آپﷺ‏ نے تھوڑا سا پانی طلب کیا پھر جیسا میں نے وضو کیا ہے وضو فرمایا، پھر ہنس پڑے، پھر فرمایا: تم مجھ سے پوچھتے نہیں کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ‏! آپﷺ‏ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟ آپﷺ‏ نے فرمایا: بندہ جب وضو کے لیے پانی طلب کرتا ہے اور پھر اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے جو گناہ بھی صادر ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے، اور جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ اسی طرح معاف کر دیتا ہے، اور جب مسح کرتا ہے تو سر کے گناہ اسی طرح معاف کر دیتا ہے اور جب اپنے دونوں قدموں کو دھوتا ہے تو اس کے قدموں کے گناہ اسی طرح معاف کر دیتا ہے۔

(الموسوعۃ الحدیئیۃ، مسند احمد: صفحہ، 415 صحیح لغیرہ)