Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حسنات اور باقیات

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفانؓ کے غلام حارث کا بیان ہے کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفانؓ بیٹھے اور ہم لوگ بھی آپؓ کے ساتھ بیٹھے، اتنے میں آپؓ کے پاس مؤذن نماز کی اطلاع دینے آیا، آپؓ نے پانی ایک برتن میں منگایا، میرے خیال میں اس میں ایک مد پانی رہا ہو گا پھر آپؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ‏ کو اپنے اس وضوء کی طرح وضوء کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپﷺ‏ نے فرمایا:

من توضأ وضوئی ھذا فصلی صلاۃ الظھر غفرله ما بینھا و بین الصبح، ثم صلی العصر غفرله ما بینھا و بین صلاۃ الظھر، ثم صلی المغرب غفرله ما بینھا و بین صلاۃ العصر، ثم صلی العشاء غفرله ما بینھا و بین صلاۃ المغرب، ثم لعله أن یبیت یتمرغ لیلته، ثم ان قام فتوضأ و صلی الصبح غفرله ما بینھا و بین الصلاۃ عشاء وھن الحسنات یذھبن السیئات

ترجمہ: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر ظہر کی نماز ادا کی تو اس کے اور صبح کے درمیان واقع ہونے والے گناہ بخش دیے گئے، پھر عصر کی نماز ادا کی تو اس کے اور ظہر کے درمیان واقع ہونے والے گناہ بخش دیے گئے، پھر مغرب کی نماز ادا کی تو اس کے اور عصر کے درمیان واقع ہونے والے گناہ بخش دیے گئے، پھر عشاء کی نماز ادا کی تو اس کے اور مغرب کے درمیان واقع ہونے والے گناہ بخش دیے گئے پھر شاید لوٹ پوٹ کر اس نے اپنی رات گزاری پھر اگر اٹھ کر وضو کیا اور صبح کی نماز ادا کی تو اس کے اور عشاء کے درمیان واقع ہونے والے گناہ بخش دیے گئے، یہی وہ حسنات ہیں جو سیئات کو مِٹا دیتے ہیں۔

لوگوں نے عرض کیا: اگر یہ حسنات ہیں تو باقیات کیا ہیں؟ تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

وہ لا إله إلا اللّٰه، سبحان اللّٰه، الحمد للّٰه، اللّٰه اکبر، اور لا حول ولا قوۃ إلا باللّٰه ہیں۔

(مسند احمد: صفحہ، 513 اسنادہ حسن)