Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دھوکہ نمبر 45

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

دھوکہ نمبر 45

شیعوں میں یہ بات معروف و مشہور ہے بلکہ ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی بھی ہے کہ

خلفائے راشدین، ازواج مطہرات خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ معظمہ رضی اللّٰه عنہم کو سب شتم کرنا عبادات میں سب سے افضل واکمل عبادت ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ کو گالی دنیا " ذکر اللّٰه اکبر سے زیادہ بہتر ، اب ان کے احمق اور بے وقوف لوگ اس عقیدہ سے گمراہ ہو کر بہت سی فرض عبادت کو چھوڑ بیٹھتے ہیں، اور اس افضل عبادت پر بڑی پابندی سے کاربند رہتے ہیں۔

اور اتنی بات نہیں سمجھتے کہ جو بھی انسان گمراہ ہوتا ہے وہ شیطان کے ورغلانے سے، اور شیطان اپنے اس مشن میں اتنا بلند مرتبہ ہے کہ انسان کا تو خیال بھی اس بلندی کو نہیں چھو سکتا۔ اس کے باوجود کسی مذہب میں بھی شیطان پر لعن طعن کو عبادت شمار نہیں کیا گیا۔ نہ قربت کا سبب و معیار بنایا گیا۔

(حضرت اکبر الہ آبادی رحمۃ اللّٰہ کا ایک حسبِ موقعہ شعر ملاحظہ فرمائیے۔)

نئی ترکیب شیطان نے نکالی ہے یہ اغوا کی

خدا کی حمد کیجئے ترک بس مجھ کو بُرا کہیئے

چہ جائیکہ ان بزرگ ہستیوں کی شان میں جنہوں نے مدتوں خیر البشرﷺ کی بابرکت صحبت اٹھائی اور آنجناب سے سسرال و قرابت کے گہرے رشتے رکھتے تھے۔ اہل سنت کی ایک عظیم اکثریت ، بلکہ ان کے علاوہ دوسرے فرقے مثلاً کرامیہ، معتزلہ اور نجاریہ ان بزرگوں کی ہمیشہ تعظیم و توقیر کرتے رہے۔

پھر یہ بھی معلوم ہے کہ فرقہ اسلامیہ میں بڑے سے بڑا فرقہ اہل سنت ہی کا رہا ہے ان میں ایک جماعت ایسی بھی گزری ہے جس نے لوگوں کے حالات کو جانچا، پرکھا، مدح کے قابل کی مدح سرائی کی، قابلِ مذمت کی مذمت کی۔ اور حضورﷺ کی روایات کے نقل میں انتہائی احتیاط سے کام لیا۔ جن کی ذکاوت و ذہانت اور سلیم عقول ضرب المثل ہیں۔ چنانچہ عقلیہ، فلسفیات ، ریاضیات اور طبعیات میں انہوں نے ایسی ایسی بخثیں اور گہرے نکات نکالے کہ اگر ان علوم کو مرتب کرنے والے ان موشگافیوں کو دیکھ پائیں تو یقیناً ان کے سر احسان مندی سے ان کے سامنے خم ہو جائیں بلکہ بعض علوم مثل علم اصول یا فنون ادبیہ کے تو یہ حضرات خود موجد بھی ہوئے۔ تو ایسے عقیل و فہیم صاحبان علم و دانش کی اکثریت جن کی مدح و تعریف، عزت و توقیر اور تعظیم پر متفق ہو تو لا محالہ ان کے سامنے متفقہ فیصلہ پر رد و قدح اور لعن طعن کرنے والا کب معتبر قرار دیا جا سکتا ہے۔ایسے ہی آدمی کا کردار مشتبہ ہو گا نہ کہ ان ہستیوں کا اور دورخی بات پر یقین کسی عقلمند کا کام نہیں ہو سکتا اور پھر ایسے پیشواؤں پر ان کا مغرور ہونا ان سے دھوکا کھانا جن کا حل آگے کھلے گا ، دانشمندی سے بعید اور منافی ہے۔