رواداری و اعلیٰ ظرفی
علی محمد الصلابیسیدنا عطاء بن فروخ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے زمین خریدی، اس نے قیمت وصول کرنے میں تاخیر کی، آپؓ اس سے ملے اور کہا: تمہیں اپنا مال لینے میں کیا چیز مانع ہوئی؟ اس نے کہا: آپؓ نے مجھے دھوکا دیا ہے، جس سے بھی ملتا ہوں وہ مجھے ملامت کرتا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: کیا یہ چیز مانع ہوئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؓ نے فرمایا: تمہیں اختیار ہے خواہ اپنی زمین لے لو یا قیمت، پھر فرمایا: رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
ادخل اللّٰه الجنۃ رجلا کان سھلا مشتریا و بائعا، و قاضیا و مقتضیا
(مسند احمد: صفحہ، 410 حسن لغیرہ)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا جو خرید و فروخت اور لینے و دینے میں سہل اور روا دار ہو۔
یہ بیع و شراء میں رواداری کی اعلیٰ ترین مثال ہے، اور جود و سخا اور دنیا سے بے اعتنائی جو حضرت عثمانِ غنیؓ کی فطرت میں داخل تھی اس کی اعلیٰ دلیل ہے۔ وہ مکارمِ اخلاق کے فروغ کے لیے دنیا کو غلام بناتے تھے جس میں سے ایک آپؓ کا اہم ترین ایثار ہے۔ دنیا آپؓ کو اپنا غلام نہیں بنا سکتی تھی کہ آپؓ کو انانیت میں مبتلا کر دے اور آپؓ اپنے خاص مصالح کو ترجیح دینے لگیں اگرچہ لوگوں کا نقصان ہو۔
(التاریخ الاسلامی: جلد، 17، 18 صفحہ، 126)