Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نرمی اور عفو و درگزر

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ نے اس بات پر رسول اللہﷺ‏ پر احسان جتلایا ہے کہ اس نے آپﷺ‏ پر اور اپنے بندوں پر رحم کھاتے ہوئے نرمی کی صفت سے آپﷺ‏ کو متصف قرار دیا۔ ارشادِ الہٰی ہے:

فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَهُمۡ وَبِصَدِّهِمۡ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَثِيۡرًا ۞

(سورۃ النساء: آیت 160)

ترجمہ: غرض یہودیوں کی سنگین زیادتی کی وجہ سے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال کی گئی تھیں۔ اور اس لیے کہ وہ بکثرت لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے۔

اس آیت کریمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نرمی کی صفت اللہ کی رحمت ہے اور وہ اپنے جس بندے کو چاہتا ہے عطاء کرتا ہے، اور رسول اللہﷺ‏ کو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ‏ پر اور آپﷺ‏ جن کی طرف مبعوث کیے گئے تھے ان پر رحم کھاتے ہوئے اس صفت سے متصف کیا تھا، اور اس آیت سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ جو نرمی کی صفت سے متصف ہوتا ہے لوگ اس کو محبوب رکھتے ہیں اور اس کے گرویدہ ہوتے ہیں اور اس کے اوامر و نواہی کی لوگ پابندی کرتے ہیں۔

(الکفاءۃ الإداریۃ: صفحہ، 69)

نرمی ان بہترین اور پاکیزہ صفات میں سے ہے جس سے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ متصف تھے۔ آپؓ اپنی رعایا کے لیے انتہائی نرم اور انتہائی شفیق و مہربان تھے، آپؓ کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مصیبت زدہ ہو اور اس کی خبر نہ مل سکے، اور پھر آپؓ اس کی ضرورت پوری نہ کر سکیں۔ لوگوں کے حالات برابر معلوم کرتے رہتے تھے، کمزور کی مدد کرتے اور طاقتور سے حق وصول کرتے۔

عفو و درگزر

سیدنا عمران بن عبداللہ بن طلحہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے نکلے، اور اس دروازہ سے مسجد میں داخل ہونے لگے جس سے عام طور پر داخل ہوتے تھے، اتنے میں دروازہ تنگ ہو گیا، فرمایا دیکھو کیا بات ہے؟ لوگوں نے دیکھا تو ایک شخص خنجر یا تلوار لیے دروازہ کے ساتھ چھپا تھا۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ اس شخص نے کہا: میں آپؓ کو قتل کرنے کے ارادہ سے کھڑا تھا۔ آپؓ نے فرمایا: سبحان اللہ! تم کس بات پر مجھے قتل کرنا چاہتے تھے؟ اس نے کہا: آپؓ کے عامل نے یمن میں مجھ پر ظلم کیا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: کیا تو نے اپنا معاملہ میرے پاس پیش کیا، اور پھر میں نے اپنے عامل سے تمہارا حق نہیں دلایا جس کی وجہ سے تو نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا؟ پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: آپ لوگ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین دشمن پر اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو قدرت بخشی ہے پکڑ میں آ چکا ہے۔ (بدلہ لے لینا چاہیے)

سیدنا عثمانِ غنیؓ نے فرمایا: بندے نے گناہ کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے مجھے بچا لیا، جاؤ کوئی ضامن لے کر آؤ جو اس بات کی ضمانت دے کہ جب تک میری امارت ہے تم مدینہ میں داخل نہیں ہو گے، وہ اپنے لوگوں میں سے ایک شخص کو بطورِ ضامن لے آیا تو آپؓ نے اس کو چھوڑ دیا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد، 17، 18 صفحہ، 22 بحوالہ تاریخ المدینۃ المنورۃ: صفحہ، 1027، 1028)

یہ امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنیؓ کی طرف سے عظیم تسامح اور شفقت و مہربانی ہے کہ آپؓ نے اس شخص کو معاف کر دیا جو آپؓ کو قتل کرنا چاہتا تھا پس قدرت کے باوجود عفو و درگزر کرنا آپؓ کے صفاتِ کمال میں سے ہے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؓ نفس پرستی اور انانیت سے بالکل آزاد تھے، دنیا سے تعلق کم اور آخرت سے آپؓ کا تعلق گہرا تھا۔ اور یہ صفت عملِ صالح ہونے کے ساتھ ساتھ جس سے آخرت میں درجات بلند ہوں گے، دنیا میں حکیمانہ سیاست بھی ہے، اگر یہ شخص جس نے آپؓ کو قتل کرنا چاہا تھا قتل کر دیا جاتا یا اس کو سزا دی جاتی تو اس سے فتنہ پیدا ہو سکتا تھا، اس کے قبیلہ کے لوگوں کے سینوں میں عداوت و انتقام کی آگ بھڑک سکتی تھی، لیکن عفو و درگزر کی وجہ سے خود اس کے لوگ اس کو اس کے کیے پر سرزنش کریں گے، اور فتنہ اپنی جگہ پر بجھ جائے گا، اور عفو و درگزر کرنے والے کا مقام لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جائے گا اور لوگ اس سے محبت کرنے لگیں گے۔ 

(التاریخ الاسلامی: جلد، 17، 18 صفحہ، 22)