دھوکہ نمبر 49 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 49

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 1 از 4

دھوکہ نمبر 49

ان کے بعض راوی اپنے ائمہ پر بہتان باندھتے ہیں ۔ چنانچہ اپنے امام سے یوں روایت منسوب کرتے ہیں کہ

" میں نے خواب میں رسول اللّٰہﷺکی زیارت کی ، تو آپ ایک شیعہ شاعر کی بڑی ستائش فرما رہے تھے اور اس کے لئے دعائے خیر فرما رہے تھے، کیونکہ اس نے ایک قصیدہ لکھا ہے۔ جس میں محبت اہل بیت کا خلفائے ثلاثہ و دیگر صحابہ کرامؓ پر تبریٰ کا مضمون باندھا ہے اور وہ حضور بار ربا پڑھ اور اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔"

چنانچہ سہل بن دینار نے اسی قسم کا ایک واقعہ لکھا ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں ایک روز اور شیعوں کے آنے سے پہلے امام رضا کی خدمت میں باریاب ہوا امام اس وقت تنہا اور تخلیہ میں تھے میری آمد پر امام نے مجھے خوش آمدید کہی اور فرمایا ابن دینار تم خوب آئے میں تم کو کسی کے ذریعہ ابھی بلوانے والا تھا۔

امام اس وقت انگشت بر زمیں ، کسی سوچ میں غرق تھے۔ میں نے عرض کیا جناب مجھے کسی غرض سے یاد فرما رہے تھے، فرمایا میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے مضطرب و بے چین کر رکھا ہے؟ اور میری نیند اڑا دی ہے ۔ میں نے عرض کیا خیر تو ہے ، بات کیا ہے۔ فرمایا کہ میں نے سوزینوں کی ایک سیڑھی دیکھی جس پر میں چڑھ گیا ہوں میں نے عرض کیا مبارک ہو کہ آپ سو سال تک ذندہ رہیں گے۔ فرمایا پھر میں نے دیکھا کہ سبز رنگ کا ایک برج ہے جو اتنا صاف و شفاف ہے کہ اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے صاف نظر آتا ہے اور اس برج میں رسول اللّٰہﷺ رونق افروز ہیں۔ آپ کے دائیں بائیں دو خوش جمال جوان رعنا، بیٹھے ہیں۔ ان میں ایک نے ایک بوڑھے کے زائد کا تکیہ لگایا ہوا ہے ۔ بوڑھا اتنا ضعیف و عمر رسیدہ ہے کہ اس کی بھنویں آنکھوں پر پڑی ہوئی ہیں حضورﷺ مجھ سے ارشاد فرما رہے ہیں اپنے دادا حسن وحسین رضی اللّٰه عنہا کو سلام کرو ، چنانچہ میں نے ان کو سلام کیا۔ پھر فرمایا اور اس شاعر کو بھی سلام کرو۔یہ ہمارا شاعر اور دین و دنیا میں ہمارا مصاحب اور دوست ہے۔ یعنی اسمعیل بن محمد حمیری میں نے ان کو بھی سلام کیا ۔ اس گفتگو کے بعد حضورﷺ نے شاعر سے کہا ہاں !لا، وہی قصیدہ جس میں ہم مشغول تھے۔ بوڑھے شاعر نے ایک طویل قصیدہ پڑھنا شروع کیا۔ جب اس شعر پر پہنچا

قَالُوا لَهُ لَوشِئْتَ أَهْلَمْتَنَا

إلى مَنِ الْغَايَةِ وَالْمَقزَعُ

(انہوں نے اس سے کہا کہ تو اگر چاہتا تو ہم کو بتا دیتا کہ مال کار اور جائے پناہ کیا ہے)

تو رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا اسمعیل ذرا ٹھہر ! پھر آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا "اے میرے خدا اے میرے سردار ! تو گواہ ہے کہ میں نے ان کو باخبر کر دیا تھا۔ کہ خوف کے وقت کس کے پاس جائیں۔ اور کس کی پناہ لیں، اور آپ اس وقت ہاتھ کا اشارہ امیر المؤمنین (رضی اللّٰه عنہ) کی طرف فرماتے جا رہے تھے۔ پھر میری طرف رخ کر کے فرمایا کہ اے علی، اس قصیدہ کو تو خود بھی یاد کرے اور ہمارے شیعوں سے کہہ دے کہ وہ بھی یاد کر لیں۔ اس قصدہ کو جو بھی یاد کر لے گا اس کا بہشتی ہونے کا میں ضامن ہوں۔

امام رضا کہتے ہیں کہ میرے دادا رسول اللّٰہﷺ وہ قصیدہ بار بار دہرا کر مجھے یاد کرواتے رہے تاآنکہ مجھے وہ یاد ہو گیا۔ "

وہ قصیدہ جس کے چار شعر ایسے ہیں کہ ان میں صحابہ کرامؓ کی شان ارفع میں نہایت گندی اور سب وشتم سے لبریز زبان استعال کی گئی ہے کوئی بھی مسلمان اس کو زبان پر لانا تو در کنار نوک قلم پر لانا بھی گوارہ نہ کرے۔

مگر ہم ( نقل کفر کفر نباشد کے مصداق ) اس کو اس لئے نقل کر رہے ہیں کہ شیعوں کی طرف سے نرم گوشہ رکھنے والے اور غیر جانبدارانہ رویے والے افراد کہیں اسے محض تہمت سمجھ کر ان کے جرم میں گستاخی کو نظر انداز کر کے ان سے کسی چیز کے متوقع نہ ہو بیٹھیں اور وہ از راہِ انصاف اس پر غور فرمائیں کہ ان لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کے خلاف کتنا کینہ اور بعض وعناد بھرا ہوا ہے جو بات اہل عقل و مروت ، کے نزدیک فرعون و ہامان کے لئے بھی کہنا جائزہ نہیں ۔ ان اساطین اسلام کو ان کا ہدف بنانا کب جائز اور کہاں کی شائستگی اور شرافت ہے۔ اور پھر اس نازیبا حرکت اور معاندانہ طرزِ عمل کو بہشت کی ضمانت قرار دیتے ہیں۔ تو ہے اس جسارت و گمراہی کا کوئی جواب ؟۔

وہ قصیدہ یہ ہے

لام عمر و با للوى مُرَبِّع

طَامِسهُ أَعلامُهُ بلقع

ام عمرو کا ریگستان میں مسکن تھا جو اب بے نشان و ویران پڑا ہے ۔

كمَا وَقَفْتُ العِيسَ فِي رَسُمهَا

وَالْعَيْنُ مِنْ عَرَفَاتِهِ تَدْمَعُ

(دورانِ سفر) جب میں نے وہاں پڑاؤ کیا تو اس کی یاد مجھے رلانے لگی۔

وَكَرْتُ مَن كُنتُ الْهُوبِہ

قبت وَالْقَلَبُ شَجی مُوجع

مجھے یاد آیا کہ میں اس کے ساتھ یہاں کھیلا کرتا تھا، تو اس یاد نے رات بھر مجھے چین نہ لینے دیا۔

كَان با النَّارِ لِمَا شَقنِي

مِنْ حب أَرْوى كَبِدِي تَلْذح

گویا اس کی طرف سے مجھے جو محبت ملی اس کی آگ میرے دل کو جلا رہی ہے۔

عجبْتُ مِنْ قَوْمِ اتوا أَحْمَدًا

بِخُطةٍ لَيْسَ لَهَا مَوْضَعَ

مجھے اس قوم کے حال پر تعجب ہے جو احمد کے پاس ایسی خصلت کے ساتھ آئی جس کی وہاں گنجائش نہیں۔

قَالُوا لَما شِئْتَ أَعْلَمْتَنَا

إِلَى مَنِ الْغايَةُ وَالْمَفْزَعُ

انہوں نے اس سے کہا کہ اگر تم چاہتے تو ہمیں باخبر کر سکتے تھے کہ قال کار اور جائے پناہ کہاں ہیں ۔

إِذَا تَوَفَّيتَ وَنفار قتَنَا

وَفِيهِمْ فِي المُلْكِ مَنْ يَطْمَعُ

جب آپ وفات پا جائیں اور ہم سے جدا ہو جائیں اور لوگوں میں کوئی ایسا ہو جو سلطنت کا لالچ رکھتا ہوا تو ہم کیا کریں)

قَالَ لَوْ اهْلَمتُكَ مَفْزَعا

كُنْتُمْ عسَيْتُم فیہ أَن تَصْنَعُوا

فرمایا اگر میں تم سے فزع کا مرجع بیان کر دوں تو قریب ہے کہ تم اس کے حق میں وہ کام کرو گے۔

قال لو اعلمتک مفزعا

کنتم عسیتم فیہ ان تصنعوا

فرمایا اگر تم سے فزع کا مرجع بیان کر دوں تو قریب ہے کہ تم اس کے حق میں وہ کام کرو گے۔

صنع اهل العجملِ إِذا فار توا

هَارُونَ فَالتَركُ لَه اودع

جو گوسالہ پرستوں نے ہارون سے جدا ہوتے وقت کیا تھا۔ اس لئے اس ذکر کو جانے دو۔

و فِي الَّذِي قَالَ بِيَانُ لِمَن

كَانَ ذَا يَعْقِلُ أَو يَسْمَعُ

اس کلام میں گوش ہوش رکھنے والوں کے لیے بیان ہے۔

ثم اتته بعدہ جزمۃ

صفحہ 1 از 4