دھوکہ نمبر 49 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 49

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 3 از 4

اب واضح رہنا چاہیے کہ اس قصہ کی رو سے دو بزرگوں اور لائق صدا حرام ہستیوں پر الزام آتا ہے۔

اول تو جناب رسالت مآبﷺ پر دوسرے جناب امام علی رضا پر اس لئے کہ آنحضرتﷺ کے خواب سچے اور مبنی بر حقیقت ہوتے ہیں۔ اسی طرح امام معصوم کے خواب بھی نفسانی اور شیطانی نہیں ہوتے۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان خوابوں میں منکرات و کفریات دین داخل ہو جائیں۔

پس لا محالہ ماننا پڑے گا کہ یہ اشعار ایسے ناکارہ اور کھوٹے سکے ہیں جو ابن دینار جیسے عبد الدراهم و الدنانیر کی تحصیل سے نکلے اور اس کی اختراع محض صد فی صد جھوٹے ہیں۔

فہم صحیح اور عقل سلیم رکھنے والے کیلئے یوں تو قصیدہ کا ہے ہر مصرع افتراء وبہتان کی پوٹ ہے مگر ہم بارہ اماموں کی گنتی کے مطابق تبرکا بارہ وجوہ بیان کرتے ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ یہ قصہ سراسر خلاف عقل مخالف قرآن و حدیث خلاف دین اور خلاف واقعہ ہے ۔

1_ یہاں بسم اللّٰہ ہی غلط ہو گئی کہ اس شیعہ نے سوزینوں والی سیڑھی کی تعبیر یہ دی تھی کہ امام رضا کی عمر سو سال ہو گی۔ سو یہ تعبیر غلط نکلی اور دونوں فرقوں کے مورخین کے مطابق ان کی عمر سو سال تک نہیں پہنچی گو تعبیر کی غلطی خواب کے غلط ہونے کی دلیل نہیں ہے مگر اس کو کیا کہا جائے کہ یہی رادی کہتا ہے کہ جب میں نے امام کے سامنے یہ تعبیر بیان کی تو امام نے اس پر سکوت فرمایا اور کسی غلطی پر ایسے موقع پر معصوم کا سکوت جہاں تقیہ کی گنجائش نہ ہو جائز نہیں اسکا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قصہ جھوٹا اور گھڑا ہوا ہے ۔

(2) دوسرے یہ کہ اس خواب میں جناب رسالت مآبﷺ نے معصوم واجب الاطاعت امام کو حکم دیا کہ وہ ایسے شاعر کو سلام کرے جس کے متعلق تاریخ کا فیصلہ ہے کہ وہ فاسق در فاجر اور شرابی تھا۔ تو یہ امام معصوم کی تحقیر ہوئی اور جناب رسالت مآبﷺ کی شان میں خلاف شرع امر کے ارتکاب کی نسبت ہوئی۔ اور قلب موضوع و معاملہ الٹ دینا کہ بد نیک کو سلام کرے، نہ کہ نیک بد کو سلام کرے، الزام آیا ۔

(3) راوی نے اس قصہ میں یہ بھی بیان کیا کہ خواب دیکھنے سے امام کو قلق اور بے چینی ہوئی اس سے پتہ چلا کہ خلفائے ثلاثہ پر تبریٰ کا جواز امام کو پہلے معلوم نہ تھا بلکہ وہ تو اس کے خلاف اس حرکت بد کو حرام اور کبیرہ گناہ سمجھتے رہے ۔ اب خواب میں اس کے جواز کا انکشاف ہوا تو اس پر قلق، اضطراب، تشویش اور بے چینی کا یہ پیدا ہونا لازم تھا۔ اس پر پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ واجب کا وجوب محرمات کی حرمت اور جائز چیزوں کا جواز امام کو معلوم ہونا امامت کے خواص میں سے ہے۔ اگر ان باتوں کا علم نہ ہو گا تو درجہ امامت سے گر جائے گا۔ اب اگر اس قصے کو سچ مانتے ہیں تو امام علی رضا کی امامت ہاتھ سے جاتی ہے۔ بلکہ کلینی نے تو کتاب کافی میں اس امر کے اثبات کے لئے ایک مستقل باب قائم کیا ہے ۔ کہ امام کو چاہیے کہ گذشتہ و آئندہ معاملات کا ان کو علم حاصل ہو تو یہاں یہ کیسے ہوا کہ امام اس شاعر کے حال سے اور اس کے اس قدر مقبول قصیدہ سے بے

خبر تھے کہ جس کے ایک مرتبہ پڑھنے سے جنت کے داخلے کی ضمانت مل جائے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے، اور امام کو ایسے اہم معاملہ کا پتہ تک نہ ہو۔

امام کی بعثت تو ہوتی ہی اس لئے ہے کہ وہ خدا سے دور کرنے والی باتوں یا اس سے قرب کرنے

والے امور کو وضاحت سے بیان کرے یہی نہیں یہ عیب تو گذشتہ ائمہ پر بھی لگتا ہے کہ وہ ایسے اہم امر سے غافل رہ کر دنیا سے چلے گئے اگر کوئی یہ کہے کہ ان ائمہ کو علم تھا تو یہ سوال ہوتا ہے کہ ان حضرات نے امام علی رضا کو اس کی تبلیغ کیوں نہ کی ان کو بے خبر کیوں رکھا۔

(4) اس قصیدہ میں یہ سفید جھوٹ بھی ہے کہ صحابہ کرامؓ اکٹھے ہو کر حضورﷺ کی خدمت میں تعیین امام کیلئے گئے اور آپ سے درخواست کی اس لئے کہ یہ بات کسی بھی مورخ نے خواہ وہ سنی ہو یا شیعہ نہ تو کہی

نہ اپنی کسی کتاب میں لکھی ۔ بلکہ اس قسم کا جھوٹ جوڑنا، پھر اس کی تکرار پر بہشت کی ضمانت دینا اسلوب نبوت و رسالت کے سراسر خلاف ہے۔ بلکہ باعث توہین بھی۔ کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام جھوٹ سے بالکل پاک ہوتے ہیں ان کے کلام میں کذب کا شائبہ تک نہیں ہوتا ۔

(5) قصیدہ کے جھوٹے ہونے کی پانچویں وجہ یہ ہے کہ قصہ میں ایک صریح جھوٹ آنحضرتﷺ کی زبان مبارک سے ادا کرایا گیا کہ آپ نے شاعر مذکور کے بارے میں فرمایا کہ وہ دین دنیا میں ہمارا مصاحب و رفیق ہے حالانکہ اس حمیری شاعر نے نہ حضورﷺ کی صحبت پائی نہ ہی اس کو رفاقت حاصل رہی اور یہ بات کون نہیں جانتا تو نبی کی نسبت ایسا جھوٹ تراشنا ان کے پاک دامن پر دھبہ لگانا ہے۔

(6) اس قصیدہ میں ایک اور کھلا کفر بھی ہے کہ جہالت بیوقوفی اور ناعاقبت کی نسبت اللّٰه تعالٰی کی طرف کی گئی ہے، اور پیغمبر کی عقل کو علم الٰہی سے کامل تر مستقیم تر قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ تعین امام کے سلسلے میں حضورﷺ کو جن نقصانات و خطرات کا اندیشہ تھا وہ سب واقع ہوئے، امن کا شیرازہ بکھر گیا کتاب کی تحریف ہوئی اور مسلمانوں کی ایک جماعت جس کی جمیعت و قوت سے دین کی اشاعت و شوکت کی امید کی جا سکتی تھی وہ مرتد ہوئی۔ اور اللّٰه تعالیٰ نے محض حکمرانی کی غرض سے صبر و اکرام سے کام لے کر پیغمبر علیہ السلام سے تعیین امام کرائی اس کے بعد جو سانحات پیش آئے اس کا (نعوذ باللّٰہ) یا تو اللّٰه تعالیٰ کو علم ہی نہ تھا اگر تھا تو انکو دفع کرنے کا قصد نہ فرمایا اور نبی کے کئے کرائے کو بلکہ خود اپنی سابقہ تائیدات و توفیقات کو یک قلم و یک حرف حرف غلط کی طرح مٹا ڈالا اور پھر وہ حالت ہوئی کہ جاہلیت اولیٰ بھی اس کے سامنے ماند پڑ گئی۔

(7) ساتویں وجہ یہ کہ ترک اصلح ، و ترک لطف کی رعایت جو بلحاظ اصول مذہب شیعہ اللّٰه تعالیٰ کے ذمہ ناگزیر ہے، اور جن کی قباحت شیعوں کے نزدیک معلوم و مسلم ہے۔ اس میں اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے کوتاہی لازم آتی ہے اور یہی وہ بات ہے جس کا شیعہ بار بار اہل سنت کو الزام دیتے ہیں ۔ ( تو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا ۔)

صفحہ 3 از 4