دھوکہ نمبر 49 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 49

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 4 از 4

(8) جھوٹ کی آٹھویں وجہ یہ ہے کہ صاحب قصیدہ نے لوگوں کو پانچ نشانوں (علموں) میں محصور کیا ہے حالانکہ یہود، نصاریٰ، مجوس، ہنود، صائبیں، اہل خطا، اہل حبش، اور یا جوج و ماجوج ، بظاہر ان میں سے کسی بھی نشان میں نہیں ہیں ۔ پھر اس کھلے جھوٹ کو پیغمبر علیہ السلام اپنی زبان مبارک سے کسی طرح دہرائیں اور اس پر لطف اندوز ہوں ۔

(9) خلفائے ثلاثہ اور ایسے ہی ان کے پیرو عقیدے اور عمل میں باہم کسی بھی حیثیت سے مختلف نہ تھے تو پھر ان کے نشانات جدا جدا قرار دینا سراسر خلاف عقل ہے۔ پس اگر یہ کہا جائے کہ یہی اشخاص بعینہ دوسرے نشان میں بھی تھے تو ایک ہی ذات کا ایک ہی وقت میں دو جگہ ہونا لازم آتا ہے۔ اور اگر ان میں سے بعض کو ایک نشان میں اور بعض کو دوسرے نشان میں مانیں تو یہ ترجیح بلا مرجح ہے (یعنی ایک چیز کو بلا معقول وجہ کے دوسرے پر برتری دینا ) اور یہ دونوں صورتیں عقل کے نزدیک یا بالبداہت باطل و لغو ہیں ہاں شاعر کا کلام اس حد تک تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ الناس (لوگ) سے مراد محض شیعہ ہوں کیونکہ دوسروں کو بد دیانتی کی وجہ سے ناس سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اور پھر یہ پانچ نشان یوں ہوں۔ کہ شیعہ اولیٰ نشان حیدری کے تحت کیسانیہ نشان دوم میں، امامیہ نشان سوم میں زیدیہ نشان چہارم میں اور غلاہ نشان پنجم میں، تو ایسی صورت میں نشانات کا تعدد کچھ معقول ہو سکتا ہے، اس لئے کہ تبوعین اور متبعین آپس میں مختلف ہیں۔

(10) قرآن مجید میں حضورﷺ کی شان میں فرمایا۔ وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَ مَا ينبغى له ( ہم نے ان کو نہ شعر سکھایا اور نہ وہ فن ان کے شایان شان تھا۔ اور اہل سیرت شیعہ و سنی اس پر اتفاق رکھتے ہیں کہ جناب پیغمبر علیہ السلام ایک شعر بھی وزن و قافیہ کی درستگی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے تھے، پھر اتنے طویل قصیدہ کو نہ صرف خود یاد کرنا بلکہ امام رضا کو بار بار پڑھ کر یاد کرانا اس کا تو کوئی امکان ہی نہیں۔

(11) تاریخ کے آئینہ میں بھی اس شاعر کا چہرہ دیکھ لیا جائے کہ یہ کسی درجہ خبیث، فاسق اور شراب خور تھا۔ پھر ایسے لعین کی عالم قدس میں آنجناب تک رسائی یعنی چہ ؟

(12) اللّٰہ تعالٰی نے شعراء کے بارے میں فرمایا ہے ۔

والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم ترانھم فی کل واد یھیمون وانھم یقولون مَا لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَکر الله کثیرا۔ شاعر گمراہوں کے پیرو ہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ شاعر ہر میدان میں سرگشتہ ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں مگر وہ لوگ جو ایمان لائے، نیک کام کئے اور خوب اللّٰه کی یاد کی ایسے شاعر گمراہوں کے پیرو نہیں۔

اور یہ حمیری شاعر تمام مؤرخین کے نزدیک نا اہل صلاح تھا نہ اہل ذکر میں سے تھا( بلکہ کھلا فاسق و فاجر تھا) پس ایسے شخص کی اتباع بالکل گمراہی ہے اور رسول اللّٰہﷺ حکم کا ایسے شخص کی اتباع کا حکم دینا محال و ممتنع ہے۔


صفحہ 4 از 4