مسائل شرعیہ کا علم نہ رکھتا تھا، ایک حاملہ عورت کے رجم کا حکم دیا، حضرت علیؓ نے سمجھایا. اگر عورت قصور وار ھے تو اس کے پیٹ والا تو قصور وار نہیں ھے، عمرؓ نے کہا علیؓ نہ ہوتا تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا. (الاستیعاب ج 3 ص 39) اسی طرح ایک پاگل عورت کے رجم کا حکم صادر کیا تو حضرت علیؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا نیند والے سے قلم اٹھا دیا گیا ہے، حتیٰ کہ جاگے، اسی طرح مجنون سے عقل آنے تک اور اسی طرح نا بالغ بچہ سے بلوغت تک. (جامع ترمذی ح 1ص 205 باب فیمن لایجب علیہ الحرمن کتاب الحدود.) اسی طرح اپنے فرزند ابوشحمہ کو حد زنا میں درے مارے حتیٰ کہ وہ مر گیا، اور باقی درے موت کے بعد لگا دئیے، حالانکہ میت غیر مکلف ھے، اس پر حد قائم نہیں کی جا سکتی. اسی طرح حضرت عمرؓ کو شراب پینے کی حد کا پتہ نہیں تھا ،ان واقعات سے معلوم ہوا حضرت عمرؓ کو مسائل شرعیہ کا علم نہیں تھا، لہٰذا وہ امامت کے قابل نہیں ھے
زینب بخاریمسائل شرعیہ کا علم نہ رکھتا تھا، ایک حاملہ عورت کے رجم کا حکم دیا، حضرت علیؓ نے سمجھایا.
اگر عورت قصور وار ھے تو اس کے پیٹ والا تو قصور وار نہیں ھے، عمرؓ نے کہا علیؓ نہ ہوتا تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا. (الاستیعاب ج 3 ص 39)
اسی طرح ایک پاگل عورت کے رجم کا حکم صادر کیا تو حضرت علیؓ نے کہا :
میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا نیند والے سے قلم اٹھا دیا گیا ہے، حتیٰ کہ جاگے، اسی طرح مجنون سے عقل آنے تک اور اسی طرح نا بالغ بچہ سے بلوغت تک. (جامع ترمذی ح 1ص 205 باب فیمن لایجب علیہ الحرمن کتاب الحدود.)
اسی طرح اپنے فرزند ابوشحمہ کو حد زنا میں درے مارے حتیٰ کہ وہ مر گیا، اور باقی درے موت کے بعد لگا دئیے، حالانکہ میت غیر مکلف ھے، اس پر حد قائم نہیں کی جا سکتی.
اسی طرح حضرت عمرؓ کو شراب پینے کی حد کا پتہ نہیں تھا ،ان واقعات سے معلوم ہوا حضرت عمرؓ کو مسائل شرعیہ کا علم نہیں تھا، لہٰذا وہ امامت کے قابل نہیں ھے.
جواب اہلسنّت
حضرت عمرؓ کا حاملہ عورت کو رجم کرنے کا حکم دینا موضوع ہے کسی روایت میں ثابت نہ ھے، مجنونہ کے رجم کا ارادہ بھی اہلسنّت کی کسی کتاب میں بسند صحیح ثابت نہیں ھوا.
اگر بالفرض حضرت عمرؓ نے مذکورہ دو حکم صادر فرمائے تھے، تو ہو سکتا ہے، انہیں عورت کے حمل اور جنون کا علم نہ ھوا ھو، امام پر یہ واجب نہیں کہ وہ حمل کے بارہ میں سوال کرے. جیسا کہ رسول اللہﷺ نے علیؓ کو ایک عورت پر حد مارنے کا حکم دیا، جو کہ نفاس میں تھی، علیؓ نے اس خطرے کی بناء پر کہ کہیں یہ عورت مر نہ جائے، حد قائم نہ کی، اور رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع دی، تو آپ نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا ھے، جب نفاس سے فارغ ہو گی، اس وقت اس پر حد قائم کر دینا. (صحيح مسلم ج 2 ص 71 باب حد الزنا من کتاب الحدود و سنن ابی داؤد ج 2 ص 614)
محمد بن بابویہ قمی نعقہ من لم یحضرہ الفقیہ میں لکھتا ہے کہ علیؓ نے ایک نابالغ لڑکے پر چوری کی حد مارنے کا حکم دیا.
یہ روایات دال ہیں کہ مبینہ قصہ (ان اعتراضات کے تفصیلی جوابات کے لئے دیکھئے منہاج السنتہ ج 3 ص 140) کہ انہوں نے رجم مجنونہ کا حکم دیا، اور علیؓ نے اعتراض کیا، شیعوں کا خود ساختہ ھے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علیؓ رسول اللہﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کرے اور اپنی مرویہ روایت کے برعکس نابالغ لڑکے کو حد سرقت مارنے کا حکم دے، اور پھر حضرت عمرؓ پر رجم مجنونہ کا اعتراض کرے،
ابو شحمہ کی موت کے بعد سودُرے مکمل پورے کرنے کا واقعہ بھی دروغ اور باطل ھے، صحیح یہ ہے کہ ابو شحمہ کی زندگی میں ہی سودُرے مارے گئے، اس کے بعد وہ زندہ رہا، زخم درست ھو گئے، کافی مدت بعد انہوں نے وفات پائی.
شراب کی حد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں متعین نہ تھی. صحیح مسلم ج 2 ص 71 باب حد الخمر کتاب الحدود میں ہے :
رسول اللہ ﷺ شراب کی حد میں کھجور کی چھڑیاں اور جوتوں سے مارتے تھے، ایک دفعہ دو چھڑیاں اندازاً چالیس بار ماریں.
پھر ابو بكرؓ نے اپنے دور خلافت میں صحابہؓ سے اس بارہ میں مشورہ کیا علیؓ نے کہا میرا خیال ہے اسّی دفعہ مارو ،اس پر صحابہؓ کا اتفاق ھو گیا.
امامیہ کے ہاں بھی یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ الحلی نے منہاج الکرامتہ میں بیان کیا ہے
حضرت عمر کا لسانِ حق ہونا
یہ گروہ (علیہم ما علیہم) حضرت عمرؓ پر کم علمی کی نسبت کرتا ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں فرمایا. یقیناً اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان اور دل پر حق جاری کر دیا ھے.
علیؓ نے ان کے بارے میں فرمایا:
ہم یہ بات بعید نہ سمجھتے تھے، کہ عمر کی زبان پر سکنیت بولتی ہے۔ عثمانؓ کے حق میں ارشاد فرماتے ہیں.
کیا میں لقمان حکیم کی طرح بن سکتا ہوں؟
اگر قبائل عرب کے علوم ایک ایک پلڑے میں رکھ لئے جائیں اور عمرؓ کا علم دوسرے پلڑے میں تو عمرؓ کا علم بھاری ہو جائے، ان کے بارہ میں لوگوں کا تأثر یہ تھا کہ علم کے دس حصوں میں سے سات حصے عمرؓ کے ہاں ہیں.
اگر بالفرض ابو شحمہ کا مذکورہ قصہ تسلیم کر لیا جائے، کہ ان کی موت کے بعد بھی دُرے مارے گئے تو کور چشم حاسدین کی نظر قباحت کی طرف گئی، اس میں یہ خوبی نہ نظری کہ اس مرد مجاہد نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے حد میں اپنے فرزند کو قربان کر دیا، مگر سستی نہ کی