Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نفس کی قربانی

  علی محمد الصلابی

جب آپؓ کو آپؓ کے گھر میں محصور کر دیا گیا اور شرپسندوں نے آپؓ سے مطالبہ کیا کہ یا تو خلافت سے معزول ہو جائیں یا اپنے گورنروں اور عاملین کو معزول کر دیں، اور ان میں سے بعض کو ان کے حوالہ کر دیں ورنہ ہم ان کو قتل کریں گے۔ اس نازک وقت میں آپؓ اپنے موقف پر ڈٹے رہے، نفس کی قربانی قبول کر لی لیکن خلافت کو شرپسندوں کے ہاتھ میں کھلونا بننے سے محفوظ رکھا کہ وہ جس کو چاہیں معزول کریں اور جس کو چاہیں رکھیں، اور امت نے جس کو اس عظیم عہدہ کے لیے منتخب کیا ہے اس سے یہ عہدہ چھین لیں، اور پھر یہ ہمیشہ کے لیے رسم و اصول بن جائے۔ (الامین ذوالنورین: صفحہ، 197) اس لیے آپؓ اپنے موقف پر ڈٹے رہے حالاں کہ محاصرین کی تلواروں میں آپؓ اپنی موت کا مشاہدہ فرما رہے تھے، جو شخص یہ موقف اختیار کرے وہ بہادر اور صاحبِ حق ہی ہو سکتا ہے۔ بزدل یا دنیا دار انسان کبھی یہ موقف اختیار نہیں کر سکتا ہے کیوں کہ زندگی بزدلوں کے نزدیک پوری دنیا سے افضل و بہتر ہے۔ 

(الامین ذوالنورین: صفحہ، 197)

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی یہ عظیم شجاعت، بے مثال عزیمت، اور عجیب اصرار، اللہ اور یومِ آخرت پر قوی ایمان کا نتیجہ تھا جو آپؓ کے دل میں جاگزیں ہو چکا تھا، اور جس کی وجہ سے آپؓ اس دنیاوی زندگی کی ہر چیز حتیٰ کہ اپنی زندگی کو بھی حقیر جانتے تھے۔ 

(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، محمد الوکیل: صفحہ، 304)