دور اندیشی اور صبر
علی محمد الصلابیدور اندیشی کی صفت سیدنا ذوالنورینؓ کی شخصیت کا جزو لاینفک تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو اسلام کی دعوت دی اس وقت فرمایا: اے سیدنا عثمانؓ آپ دور اندیش انسان ہیں، آپؓ پر یہ مخفی نہیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، یہ بت کیا ہیں جن کی ہماری قوم عبادت کرتی ہے۔
(عثمان بن عفان، صادق عرجون: صفحہ، 47)
اور جب 26ھ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجدِ حرام میں توسیع فرمائی تو اس کے لیے آپؓ نے مسجدِ حرام سے متصل املاک لوگوں سے خریدیں، کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کیا تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس پر قبضہ کیا اور اس کی قیمت بیت المال میں جمع کر دی، لوگوں نے شور و غوغا مچایا آپؓ نے ان کو قید کرنے کا فرمان جاری کیا پھر ان سے فرمایا: جانتے ہو یہ جرأت میرے خلاف تمہیں کیوں آئی ہے؟ یہ میرے حلم و بردباری کی وجہ سے ہے، یہی کام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا تو تم نے شور نہیں مچایا، پھر ان لوگوں کے سلسلہ میں سیدنا عبداللہ بن خالد بن اسیدؓ نے گفتگو کی تو آپؓ نے انہیں رہا کر دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 250)
دور اندیشی اور نظامِ خلافت کو ضائع ہونے سے بچانے کے سلسلہ میں آپؓ کا یہ کردار بین ثبوت ہے کہ جب آپؓ نے بلوائیوں کی جانب سے خلافت سے دست برداری کا مطالبہ مسترد کر دیا اور ثابت قدمی اور نظام کے استمرار کی اعلیٰ مثال قائم کی، کیوں کہ اگر آپؓ ان کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے خلافت سے دستبردار ہو جاتے تو ہمیشہ کے لیے امامتِ عظمیٰ، شرپسندوں اور فسادیوں کے ہاتھ میں کھیل بن جاتا، انار کی عام ہوتی، اور نظامِ سلطنت درہم برہم ہو جاتا، اور اس طرح شرپسند اور فسادی لوگ امراء و حکام پر غالب آ جاتے۔ حضرت عثمانِ غنیؓ کی نگاہیں بڑی گہری تھیں اگر آپؓ ان کے مطالبہ کو منظور کر لیتے تو آپؓ کے اس طرزِ عمل سے یہ طریقہ بد رائج ہو جاتا کہ لوگ جب بھی اپنے امیر کو ناپسند کرتے اس کو معزول کر دیتے، اور اس طرح امت آپسی اختلافات کا شکار ہو کر اپنے دشمن سے غافل ہو جاتی جو اس کے ضعف و زوال کا سبب بنتا، پس آپؓ نے اپنی جان کی قربانی دے کر امت کی حفاظت فرمائی، اور اس کی سلطنت و عمارت کو شگاف پڑنے سے محفوظ رکھا، اور اس قربانی کے ذریعہ سے اس کے اجتماعی نظام کو مضبوط کیا اور نظامِ سلطنت کو شر و فساد کے ہاتھ سے محفوظ رکھا، بلاشبہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کا یہ کارنامہ انتہائی عظیم اور قوی ہے جسے آپؓ نے تب انجام دیا جب امت کی باگ ڈور آپؓ کے ہاتھ میں تھی۔ آپؓ نے اخف الضررین اور شر میں کم تر کو اختیار کیا اور اس طرح اس قربانی کے ذریعہ سے آپؓ نے نظامِ خلافت کو قوت بخشی۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ من الفتنۃ: جلد، 1 صفحہ، 474)
ان شاء اللہ اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
صبر
سیدنا عثمان بن عفانؓ صفتِ صبر سے متصف تھے، آپؓ کے ان مواقف میں سے جو اس صفت پر دلالت کرتے ہیں فتنہ کے دور میں آپؓ کا ثابت قدم رہنا ہے، اس وقت جب کہ آپؓ اور دیگر مسلمانوں پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے، اس کے مقابلہ میں آپؓ نے جو موقف اختیار کیا وہ فدائیت و قربانی کی ایسی اعلیٰ مثال ہے جسے ایک فرد جماعتی وجود، امت کی کرامت اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت کی راہ میں پیش کر سکتا ہے، اگر آپؓ کو اپنی جان عزیز ہوتی اور امت کا وجود پیشِ نظر نہ ہوتا تو آپؓ کے لیے یہ ممکن تھا کہ آپؓ اپنی جان کو بچا لیتے، اور اگر آپؓ خود غرض ہوتے اور صرف اپنی ذات کی فکر ہوتی اور ایثار و قربانی کے جذبات سے سرشار نہ ہوتے تو بلوائیوں کے مقابلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ابنائے مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کو اپنی حفاظت اور دفاع میں لگا دیتے، لیکن آپؓ نے امت کے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہا اس لیے انتہائی صبر و ثبات اور احتساب کے ساتھ اپنی جان کی قربانی پیش کر دی، اور اعلان کیا کہ میں صبِر جمیل کے ساتھ اس عظیم فتنہ کا مقابلہ کروں گا۔
(سیرۃ الشہداء، السختیانی: صفحہ، 57، 58)
اس طرح اس آیتِ کریمہ پر آپؓ کا مکمل عمل رہا:
اَلَّذِيۡنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَـكُمۡ فَاخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ اِيۡمَانًا وَّقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ ۞
(سورۃ آل عمران: آیت 173)
ترجمہ: وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا: یہ (مکہ کے کافر) لوگ تمہارے (مقابلے) کے لیے (پھر سے) جمع ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے ڈرتے رہنا، تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بول اٹھے کہ: ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
حضرت عثمان بن عفانؓ قوی ایمان، اعلیٰ ظرف، مؤثر بصیرت اور عظیم صبر کے مالک تھے، اور اسی وجہ سے آپؓ نے امت کی خاطر اپنی جان قربان کر دی، جو مسلمانوں کے نزدیک آپؓ کے عظیم ترین فضائل میں شمار ہوا۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ من الفتنۃ: جلد، 1 صفحہ، 472)
شیخ الاسلام علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
تواتر سے یہ بات ثابت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خون سے بچنے والے، اور آپؓ کی عزت پر انگلی اٹھانے والوں اور آپؓ کے خون کے پیاسے لوگوں پر سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے،
چنانچہ جب شرپسندوں نے آپؓ کا محاصرہ کر لیا اور آپؓ کے قتل کے درپے ہو گئے اور آپؓ کو ان کے ارادۂ قتل کا بخوبی علم ہو گیا اور مسلمان آپؓ کی نصرت و تائید کے لیے پہنچے اور ان شرپسندوں سے قتال کرنے کا مشورہ دیا، تو آپؓ برابر انہیں قتال سے روکتے رہے، لوگوں نے آپؓ کو مشورہ دیا کہ آپؓ مکہ چلے جائیں تو آپؓ نے فرمایا: میں حرم میں الحاد کرنے والا نہیں بنوں گا۔ لوگوں نے کہا شام چلے جائیں۔ فرمایا: دارِ ہجرت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر آپؓ سے کہا گیا: تو پھر ان سے قتال کریں۔ فرمایا: محمدﷺ کے بعد ان کی امت میں پہلا تلوار اٹھانے والا نہیں بنوں گا، اور پھر آپؓ نے اس قدر صبر کیا کہ قتل کر دیے گئے، آپؓ کا یہ کردار آپؓ کے عظیم ترین فضائل میں سے قرار پایا۔
(منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 202، 203)