دھوکہ نمبر 58
شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒدھوکہ نمبر 58
ان کا کوئی شاعر چند ایسی ابیات لکھتا ہے جن میں امیر المؤمنین رضی اللّٰه عنہ کی تعریف بعد الانبیاء آپ کی فضیلت، آپ کی امامت کی تعیین، اور شیعی مذہب کی حقانیت بیان ہوتی ہے پھر ان اشعار کو یہودی یا نصرانی میں سے کسی ذمی کے سر تھوپ کر اپنا مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور مطلب ان کا صرف ایک ہی ہے کہ کسی سنی کو گمراہ کیا جائے ان کی ایسی حرکتوں سے کوئی جاہل سنی دھوکہ کھا بھی جاتا ہے اور یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ ایک کافر نے جب ایسی باتیں کہیں ہیں تو لا محالہ ان کا مضمون، توریت و انجیل یا کسی صحیفے سے ہی لیا ہو گا۔
اسی قسم کے وہ اشعار ہیں جن کو شیعوں نے ابن فضلون یہودی کے سر منڈھا ہے۔
على امير المومنین عزیمۃ
وما لسواه في الخلافة مطمع
باعتبار تحقیق امیر المومنین علی ہی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی کو خلافت کی آرزو کرنے کا کوئی حق نہیں۔
كله النسبُ العَالِي وَاسْلَامُهُ الَّذِي
تَقَدَّمَ بَلْ فيهِ الْفَضَائِلُ الْجمع
وہ بلند نسب ہیں. وہ اسلام میں سب سے مقدم ہیں بلکہ ان میں تمام فضائل یکجا ہیں ۔
لو کنت أَهْوَى مِلۃ غَيْرَ مِلَّتِي
كَمَا كُنْتُ الأَ مُسَلِمًا أَتَشَيَّعُ
اگر میں اپنے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرتا تو شیعہ مسلم ہوتا۔
ذیل کے دو اشعار بھی اسی کی طرف منسوب ہیں۔
حب علي في الورى جنَّة
فَامطح بِهَا يَا رَب اوزارنی
علی کی محبت مخلوق کے حق میں ڈھال ہے اے خدا اس کی برکت سے میرے گناہ معاف کر دے۔
فلو ان ذمیا نَوَى حَبَّةٍ حَقَّنَ فِي النَّاسِ مِنَ النَّارِ
اگر آدمی ان کی محبت کی نیت کر لے تو وہ آگ میں ہوتے ہوئے بھی آگ جہنم سے محفوظ رہے گا۔
اسی قسم کی اور مثالیں بھی ان کی کتابوں م
یں پائی جاتی ہیں۔