Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خوف الہٰی، محاسبہ نفس اور رونا

  علی محمد الصلابی

آپؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا:

لوگو! اللہ سے تقویٰ اختیار کرو، یقیناً اللہ سے تقویٰ غنیمت ہے، اور عقل مند انسان وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کنٹرول کیا، اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کیا، اور اللہ کے نور سے قبر کے لیے نور حاصل کیا، اور اس بات سے خوفزدہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اندھا نہ اٹھائے حالاں کہ دنیا کے اندر وہ بینا رہا۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ و حیاۃ ذی النورین، مجدی فتحی السید: صفحہ، 107) 

آپؓ سے یہ قول بھی مروی ہے:

اگر میں جنت و جہنم کے درمیان کھڑا ہوں اور مجھے اس کا علم نہ ہو کہ دونوں میں سے کس کی طرف مجھے حکم دیا جائے گا تو اپنے انجام کو جاننے سے قبل میری یہ تمنا ہو گی کہ میں راکھ کا ڈھیر ہو جاؤں۔

آپؓ جب آخرت کو یاد کرتے اور انشقاقِ قبر اور حساب و کتاب کے لیے وہاں سے نکلنے کا تصور کرتے تو آپؓ پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی، اور آنسو جاری ہو جاتے تھے۔

(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین، حمد محمد الصمد: صفحہ، 205) 

چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی سے روایت ہے: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ داڑھی تر ہو جاتی، جب آپؓ سے کہا جاتا کہ جنت و جہنم سے نہیں لیکن آپؓ اس قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ تو فرماتے: قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے اگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے آسان ہیں، اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو بعد کی منزلیں اس سے بھی سخت ہیں اور فرمایا کہ رسول اللہﷺ‏ کا ارشاد ہے: 

واللّٰه ما رأیت منظرا إلا و القبر افظع منہ

ترجمہ: اللہ کی قسم قبر سے بڑھ کر بدترین منظر نہیں دیکھا۔

اور آپؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ‏ جب میّت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں ٹھہرتے اور پھر فرماتے:

استغفروا لأخیکم وسلوا له بالتثبیت فإنه الآن یسأل 

(فضائل الصحابۃ: صفحہ، 773 اسنادہ حسن)

ترجمہ: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو، اور اللہ سے اس کے لیے ثابت قدمی مانگو، یقیناً ابھی اس سے سوال ہونے والا ہے۔

یہ اللہ رب العالمین کے حضور پیش ہونے کے سلسلہ میں حضرت عثمان بن عفانؓ کا فہم تھا جس پر آپؓ زندگی بھر قائم رہے، آج اس عظیم فہم کی کس قدر ہمیں ضرورت ہے جس سے نفوس کو زندگی ملتی ہے اور طاقتیں موجزن ہوتی ہیں۔