تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 10 از 29
فكان شيخنا يقول: لا ارضى عمن يطالع (فصل الخطاب) ويترك النظر إلى تلك الرسالة

یعنی میں اس بات پر راضی نہیں کہ کوئی شخص میری کتاب فصل الخطاب تو پڑھے اور اس رسالہ کا مطالعہ نہ کرے۔
اس رسالہ میں علامہ محدث نوری نے کہا:

ان الاعتراض مبنى عل المغالطة في لفظ التحريف، فانه ليس مرادى من التحريف التغيير والبديل، بل خصوص الاسقاط لبعض المنزل المحفوظ عند اهله، وليس مرادى من الكتاب القرآن الموجود بين الدفتين، فانه باق على الحالة التى وضع بين الدفتين في عصر عثمان، لم يلحقه زيادة ولا نقصان

یعنی یہ جو جملہ اعتراض کیا جارہا ہے وہ ایک مغالطہ کے تحت ہے جو لفظ تحریف میں پنہاں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے نزدیک اس لفظ سے مراد تغییر و تبدیلی نہیں، بلکہ بعض اہم منازل کا اسقاط ہے جو ان کے اہل کے ہاں تھی، اور میری مراد اس کتاب سے یہ ہمارے ہاتھوں میں موجود قرآن مجید نہیں، کیونکہ یہ وہی قرآن مجید ہے جو جناب عثمان کے عہد زمانہ سے اب تک بغیر کسی زیادتی و نقصان کے باقی ہے۔
آگے صحفہ 232 میں لکھا ہے کہ اس کتاب کا بہتر نام یہ ہونا چاہئے تھا فصل الخطاب في عدم تحريف الكتاب
اسی طرح شیخ بزرگ طہرانی شاگرد رشید نوری فرماتے ہیں اپنے استاد کے بارے میں

وسمعناه من لسانه في أواخر أيامه فإنه كان يقول: أخطأت في تسمية الكتاب وكان الأجدر أن يسمى ب‍ (فصل الخطاب) في عدم تحريف الكتاب لأني أثبت فيه أن كتاب الاسلام (القرآن الشريف) الموجود بين الدفتين المنتشر في بقاع العالم - وحي آلهي بجميع سوره وآياته وجمله لم يطرأ عليه تغيير أو تبديل ولا زيادة ولا نقصان من لدن جمعه حتى اليوم وقد وصل الينا المجموع الأولي بالتواتر القطعي ولا شك لاحد من الامامية فيه فبعد ذا امن الانصاف أن يقاس الموصوف بهذه الأوصاف -

اور ہم نے ان کی زبانی زندگی کے آخری حصہ میں کہ میں نے اس کتاب کے نام رکھنے میں غلطی کی، زیادہ بہتر ہوتا کہ اگ میں اس کا نام (فصل الخطاب) في عدم تحريف الكتاب رکھتا کیونکہ اسلام کی کتاب قرآن مجید جو بین الدفتین موجود ہیں اور دنیا کے گوشے گوشے میں جلوہ افروز ہے، وہی وحی الہٰی ہے اپنی تمام سورتوں اور آیات سمیت، اور اس کی جمع آوری سے لے کر اب تک اس میں تغیر، تبدیلی، زیادتی اور نقصان نہیں۔ اور یہ ہمارے پاس یہ تواتر قطعی کے توسط سے آیا اور اس میں سے کسی امامی شیعہ کو شک نہیں۔ اس کے بعد بحی لوگوں ان کو اس طرح کے اوصاف سے نوازتے ہیں-

حوالہ: مستدرك الوسائل ومستنبط المسائل، جز 1، صحفہ 50، حاشیہ علامہ بزرگ طہرانی، تحقیق: موسستہ آل بیت

عزیزی۔ یہاں بر صراحت سے رجوع کہہ لیجئے یا عدم عقیدہ تحریف قرآن ثابت ہے، اور رجوع کے بعد کسی شخص پر پہلے گناہ کا الزام یا خطاء کا الزام دینا انصاف نہیں۔
سوم: برادر آپ کا یہ کہنا کہ علماء تشیع نے اس کتاب پر تعاقب نہیں کیا، یقینا یہ صحیح نہیں۔ برادر محترم، چونکہ ہم سردست اپنے حافظے اور بعض مختصر مطالعہ کے بعد کچھ لکھ رہے ہیں۔ ان شاء اللہ کبھی موقعہ مییسر ہوا تو ایک تحریر اس موضوع پر ضرور لکھوں گا۔ لیکن بعض حوالے جات آپ کی نظر کرتا ہوں۔
برادر محترم اگر ہوسکے تو کچھ وقت نکال لیجیے گا اور اس بہترین تفسیر الاٰء الرحمان فی تفسیر القران کے مقدمہ کا مطالعہ کیجئے جو شیخ محمد جواد البلاغی کی تحقیق عنیق کا نتیجہ ہے۔ علامہ نے کافی مبسوط اور بہترین رد فصل الخطاب کا کیا ہے۔ ہمارے پیش نظر نسخہ جو بیروت سے طبع شدہ ہے 'الامر الخامس' کا مطالعہ فائدے سے خالی نہیں جو ص 24 سے شروع ہوکر ص 29 پر منتہی ہوتا ہے-
اسی طرح آیت اللہ روح اللہ خمینی اپنی کتاب میں رقم طراز ہے:

وأزيدك توضيحا: أنه لو كان الأمر كما توهم صاحب فصل الخطاب الذي كان كتبه لا يفيد علما ولا عملا، وإنما هو إيراد روايات ضعاف أعرض عنها الأصحاب،

اور میں ایک بات کی مزید توضیح کر دوں۔ اگر یہ بات ایسی ہے جیسے کہ صاحب فصل الخطاب کو وہم ہوا تو یہ کتاب علم و عمل دونوں میں مفید نہیں بلکہ اس کتاب میں تو ضعیف روایات کا اندراج ہیں جس سے علماء و اصحاب نے قابل اغماض نہیں سمجھا-

حوالہ: انوار الهداية، جز اول، ص 244، مبحث في حجية الظهور، طبع قم۔

برادر محترم ہم فی الحال یہی کہیں گے کہ علامہ نوری کی کتاب جو طبع حجریہ تھی اس کے بعد اس کی طبع کسی شیعہ مکتب سے نہ ہوئی بلکہ بعد میں اہلسنت و دیگر حضرات نے کاپیاں بنا بنا کر اصل صورت کو مسخ کردیا۔ چنانچہ میرے پاس کم سے کم اس کے اصلی نسخہ تک رسائی جو طبع حجریہ ہو۔

دوم یہ کہ اس کے مندرجات پر بھی اختلاف کثیر ہیں، آیا اس میں فقط شیعہ روایات ہیں یا فریقین کی روایات؟ سوم موضوع کتاب بھی مختلف فیہ ہے، نام پر مت جائیں کیونکہ نام توجہ دلانے کے لئے ہوتا ہے اور مندرجات اہم ہوتی ہیں ورنہ بہت ساری 'تقویتہ الایمان' ایمان کو بگاڑ دیتی ہے اور 'زلزلہ' کافی حقائق کو طشت از بام کردیتا ہے۔ خیر بالفرض مندرجات تحریف ان کی آخری رائے (جو شرعی طور پر حجت ہے) عدم تحریف ہی کی تھی
 آپ کے بعض سوالات کا جواب دیتا ھوں:اولا عدم تحریف کا عقیدہ شیعہ مذہب کی ضروریات مسلک میں سے ہے ،اور کیا ایک قطعی و ضروری عقیدہ ہے؟

جواب: قرآن پر ایمان لانا ضروریات مذہب سے زیادہ ضروریات دین میں ہے جو قرآن کو خدا کی کتاب نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ ہمارے نزدیک تواتر طبقاتی، آئمہ ع کا سکوت اس بات پر دال ہے کہ یہ قرآن وہی قرآن ہے جو نبی کریمﷺ پر نازل ہوا، البتہ ہمارے نزدیک اس کی تفسیر، حواشی، ناسخ، منسوخ وغیراہم تمام باتوں کو مولا علی ع نے جمع کیا تھا جس کو امت نے قبول نہیں کیا۔ اگر اسقاط و زیادتی سے تفسیر قرآن میں مراد لی جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں سمجھتا۔ 

یاًجو لوگ تحریف کے قایل ہیں ،تو ان کا حکم کیا ہے ،کافر ہیں یا نہیں
جواب؛ ہمارے نزدیک ان پر سخت خطاء کار کا فتوی ہے۔ تکفیر کا نہیں لیکن اگر وہ اصلا قرآن ہی کے منکر ہوجائیں تو کافر ہےثالثا ًیہ بات متفقہ ہے کہ اس وقت جو قرآن پاک امت میں رایج ہے ،اس کا اولین نقش حضرت ابوبکر کاجمع کردہ ہے اور ثانی اور آخری نقش حضرت عثمان کا جمع کردہ ہے ،تو ان جامعین قرآن کا کیا حکم ہے ،

صفحہ 10 از 29