تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 11 از 29
جواب: برادر اس کا جواب ذیل کی سطور میں ملاحظہ ہو
اولا اس امر پر ہی اختلاف ہے کہ اس کے جامعین ثلاثہ ہیں یا رسول اللہﷺ  بذات خود تھے؟ بعض علماء اس کے قائل ہے کہ خود زمانہ رسول اللہﷺ میں اس کو جمع کردیا گیا تھا۔
دوم یہ کہ ہمارے آئمہ  کا سکوت اس بات پر دلال ہے اور اس کی طرف لوگوں کو تشویق دلانا اس بات کا غماض ہے کہ ہمارے نزدیک یہ قرآن بالکل صحیح ہے-
سوم یہ کہ صحیح بخاری کی روایت کے نزدیک خدا اس دین کی مدد فاجروں کے ذریعے بھی کراتا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو صحیح بخاری، کتاب الجھاد، باب إن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر۔ تو اگر ثلاثہ نے یہ کام کیا بھی ہو تو اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اس کے قبول کرنے میں کچھ تامل نہیں ہوگا جب کہ ہمارے آئمہ ع کا سکوت رضائی شامل ہو-
چہارم: حجاج نے مصاحف عثمانی سے اختلاف کیا اور بعض کاوشات قرآن کے حوالے سے کی مثلا اعراب وغیرہ تو حجاج بن یوسف علامہ شمس الدین ذھبی نی تصریح کے مطابق ظالم و ناصبی تھا تو بطور جدل ہم یہی کہیں گے کہ جب وہ ساری چیزیں قبول ہیں تو دوسروں پر اعتراض کیوں۔ علامہ ابو داود السجستانی کی کتاب المصاحف میں پورا ایک باب یوں ہے:

باب ما غيّر الحجاج في مصحف عثمان 
حوالہ: المصاحف، ص ۱۱۸، طبع موسستہ القرطبہ۔ 

البتہ مع الاسف شدید جب نیا ایڈیشن چھپا تو اس باب کا نام ہی اڑا دیا گیا ملاحظہ ہو المصاحف، مجلد اول، ص 363، طبع دار البشار الاسلامیہ۔ 
خیر ہمارا مقصد ثلاثہ کی ہر چیز پر اعتراض کرنا نہیں ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک جو باتیں صحیح کی اس پر بے وجہ تنقید بھی مناسب نہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے نزدیک علامہ مجلسی کے کلام اور ان کے مسلمان ہونے میں کوئی فرق نہیں کیونکہ منافق میں بیک وقت دونوں صفات جمع ہوتی ہیں۔ ایک صفت اسلام اور دوسری صفت کفر۔ پہلے کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے اور دوسرے کا تعلق باطن سے-

رابعاً جن لوگوں نے یہ عقیدہ پورے مذہب تشیع کی طرف منسوب کیا ،ان کے اس قول کی حقیقت کیا ھے ؟وہ مدعی تھے کہ قرآن پاک میں کمی بیشی شیعہ مذہب کا عقیدہ ہے اور آپ کہتے ہیں کہ عدم تحریف شیعہ مذہب کا عقیدہ ہے تو اس عظیم تعارض و تناقض کا حل پیش کردیں۔
ان کے نام دیجئے۔ باقی اگر انہوں نے یہ کہا تو غلط کہا

خامساً قرآن پاک پڑھنے کے باوجود آپ کے مسلک میں قرآن پاک کے ظواہر کی کوی حیثیت نہیں ھبںاگی ںہجھے چنانچہ آپ کے اصول کی کتب میں لکھا ھے: ومن المعلوم ضرورة من مذهبنا تقديم نص الامام، عليه السلام، على ظاهر القرآن، كما أن المعلوم ضرورة من مذهبهم العكس.تو قرآن اپک کی عدم تحریف کا عقیدہ اختیار کرنے کے بوجود تم نے اسے وہ حیثیت نہیں دی اور اس پر قول امام کو حاکم بنا دیا تو ماننے کا کیا فایدہ؟
عزیزی خدا آپ کو سلامت رکھے اور نقل عبارت میں امانت دے۔ برادر محترم۔ اس سے قبل میں اس پر گفتگوں کروں۔ محترم اول تو اس کا تعلق تحریف کے موضوع سے بتائیں کیا ہے؟ کیونکہ اگر آپ ایسی چیزیں پیش کریں گے تو میرے پاس بھی بہت سارے شواہد ہیں جو اگر طشت از بام کئے جائیں تو اصل موضوع سے باہر نکل جائیں گے۔ لیکن میں اس موضوع سے چونکہ باہر نکلنا نہیں چاہتا اس لئے سردست اس کا حلی جواب عنایت کرتا ہوں۔ اور الزامی جواب سے پرہیز کروں گا۔

برادر جس طرح آپ کے ہاں دو طبقات پائے جاتے ہیں اہلحدیث اور اہل رائے۔ ہمارے ہاں بھی دو منھج تفکیر پائے جاتے ہیں اخباری گروہ و اصول گروہ۔ اول الذکر ظواہر قرآن کی حجتیت کے قائل نہیں اور حدیث و اخبار ع کو تمام چیزوں پر مقدم سجھتے ہیں۔ اور اصولی حضرات ظواہر قرآن کو حجت سمجھتے ہیں محکمات میں۔ اور متشابھات میں آئمہ ع کی روایات کو مقدم سمجھتے ہیں ان کے ظاہری معنی لینے سے۔ چنانچہ جو عبارت آپ نے پیش کی اس کے اوپر علامہ مرتضی انصاری اعلی اللہ مقامہ رقم طراز ہے:

ويرشد إليه: المروي عن مولانا الصادق (عليه السلام)، قال في حديث طويل: " وإنما هلك الناس في المتشابه، لأنهم لم يقفوا على معناه ولم يعرفوا حقيقته، فوضعوا له تأويلا من عند أنفسهم بآرائهم، واستغنوا بذلك عن مسألة الأوصياء (عليهم السلام) فيعرفونهم " (1).
وإما الحمل على ما يظهر له في بادئ الرأي من المعاني العرفية واللغوية، من دون تأمل في الأدلة العقلية ومن دون تتبع في القرائن النقلية، مثل الآيات الاخر الدالة على خلاف هذا المعنى، والأخبار الواردة في بيان المراد منها وتعيين ناسخها من منسوخها.
ومما يقرب هذا المعنى الثاني وإن كان الأول أقرب عرفا: أن المنهي في تلك الأخبار المخالفون الذين يستغنون بكتاب الله تعالى عن أهل البيت (عليهم السلام)، بل يخطئونهم به، ومن المعلوم ضرورة من مذهبنا تقديم نص الإمام (عليه السلام) على ظاهر القرآن، كما أن المعلوم ضرورة من مذهبهم العكس.
صفحہ 11 از 29