تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 12 از 29

خير طلب :اور اس مدعے کے اثبات میں امام صادق ع کا قول ذیشان موجود ہے جو ایک طویل حدیث کا ایک حصہ ہے کہ لوگوں کو متشابھات نے ہلاک کردیا، چونکہ وہ ان متشابھات قرآنی کے معنی کو نہیں جانتے تھے اور اس کو کون حقیقت تک رسائی نہیں رکھتے، تو انہوں نے اپنی تاویلات کا سہارا اپنے بودی آراء سے لیا، اور پیغمبر کے حقیقی خلف و اوصیاء ع جو اس کے اصل مغز کو جانتے تھے اس سے مستغنی ہونے کی کوشش کی۔

(شیخ انصاری کا کلام شروع ہوتا ہے اس روایت کی تفسیر میں) یعنی ایسے لغوی اور عرفی معانی میں ان متشبہات کو حمل کرنا بغیرعقل کے استمعال کئے یا بغیر روایات منقولہ میں غور و خوض کئے، حالانکہ دوسری آیات اس متشابہ آیت کے لغوی و عرفی مفہوم کے خلاف ہو، یا رویات کا ہونا جو اس کے تعیین معانی پر دال ہو اور ناسخ و مسنوخ کے تعیین میں مدد کرے۔

پس دوسرا معنی شرعی طور پر زیادہ قریب ہو بنسبت پہلے لغوی معنی جو عرفا زیادہ قریب ہو، پس ان اخبار و روایات (جن میں تفسیر بالرائے کی ممانعت کا ذکر ہے) سے اس بات کا منع کیا گیا ہے کہ ہم مطلقا اور من حیث الکل کتاب خداوندی کو اہلبیت ع سے مستغنی قرار دیں، بلکہ (جو ایسا کرے) وہ اس فعل کی وجہ سے خطاء کار قرار پائے گا۔ (اب وہ عبارت شروع ہوتی ہے جس سے محترم سمیع اللہ نے استدلال کیا اور جس کا موضوع متشبہات ہیں) اور ہمارے مذھب کی ضروریات میں سے ہے کہ امام ع کی روایات و نص کو ظاہر قرآن پر فوقیت دیں حالانکہ ہمارے مخالفین کا مذھم اس کے برعکس ہے

حوالہ: فرائد الأصول، ج ۱، ص ۱۴۳، طبع قم۔

تبصرہ: محترم بیشک اس کلام میں کوئی شک نہیں۔ میرا منھج جو اصول منھج ہے وہ اسی کا حکم دیتا ہے کہ جو محکمات قرآنی ہوں اس کے ظاہر کو مقدم رکھا جائے اور روایات کو ان کے اصول و قوانین کے پیش نظر دیکھا جائے اور جو متشبہات ہوں انہیں روایات آئمہ ع کے تناظر میں دیکھا جائے کیونکہ قرآن خود اکیلا کافی نہیں بلکہ حدیث ثقلین کے پیش نظر قرآن و اہلبیت ع دونوں سے تمسک لازمی ہے۔ مثال دیتا ہوں تاکہ آسانی ہو، قرآن مجید میں رسول ص کے 'ذنب' کی مغفرت کا ذکر ہے، قرآن میں خدا کے لئے ید، وجہ، ساق وغیرھم کا ذکر ہے، مع الاسف شدید ان متشبہات کو محدثین اہلسنت کے مقدمین طبقے نے ظاہری معانی میں لے کر خدا کے حقیقی پاوں، ہاتھ، چہرے، پنڈلیاں وغیرھم ثابت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑا۔ جس سے خدا کا جسم و مرکب ہونا لازم آتا تھا۔ یہی حالت علامہ اشعری نے ابانتہ میں اختیار کی لیکن بات نہیں بن سکی تو بعد میں آنے والے مزعوم اشعریوں و ماتریدیوں کو بالاخر ان متشبہات کے ظواہر سے دستبردار ہونا پڑا اور شدومد کے ساتھ اس کے ظواہر کے معتقد پر فتاوی دئے۔

باقی برادر ہم نے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور غیر متعلق موضوعات کو نہیں لا رہے اور آپ سے گذارش کرتے ہیں کہ ایسا مت کیجئے گا۔

برادر محترم آپ نے کہا
تو انہیں بھی اہل سنت کے ایسے معتبر علماء دکھانے ھونگے جنہوں نے روایات موھمہ تحریف کو صریح سمجھ کر تحریف کا قول اپنایا ،لیکن افسوس ہے اس سلسلے میں جتنی اہل تشیع کی طرف سے کتب لکھی گی ان میں ایسی روایات کا ایک انبار ہے ،جن کو وہ روایات تحریف سمجھتے ہیں
اول تو برادر آپ مجھے بتائیں کیا یہ الفاظ تحریف پر دلالت کرتے ہیں ان اصول و قوانین کے تحت جس آپ ہمیں الزام دیتے ہیں:

'یحک' 
'أخطأ الكاتب'
'لا یکتب'
'لحنا'
' كتب الكاتب الأخرى وهو نـاعـس '
'والله لأنزلها الله كذلك '
' أخطئوا في الكِتاب '
'قد ذهب منه'
صفحہ 12 از 29