تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 13 از 29

محترم ہم جانتے ہیں کہ تاویل تو ہر اعتراض پر ہوتی اور یقیناً آپ بھی کریں گے، انشاء اللہ اگر وہ تاویل آئیں گی تو اس پر ہماری طرف سے پہلی ہی سے تیاری ہوئی ہے۔ برادر محترم جن الفاظ کی مدد سے آپ شیعوں پر تحریف کا الزام دیتے ہیں ان میں سے اکثر الفاظ تو آپ کے ہاں بھی موجود ہیں۔ بلکہ ہمارے ہاں تو اضعاف، متروکات و متہم راویان کی روایات ہیں، آپ کے ہاں تو 'بسند حسن' 'بسند صحیح' وغیرھما کے سابقے لاحقے بھی بہت ہیں۔
برادر محترم آپ نے کہا
ان سب کو اہل سنت علماء نے اپنے محمل پر محمول کیا ،مثلا نسخ ،اختلاف قراءت ،رسم مصحف ،و کزب روات ،تو اہل سنت کے ان علماء کی تاویلات و جوابات سے صرف نظر کرتے ہوے یہ راگ اپنا نا کہ اہل سنت تحریف کے قایل ہیں ،تحقیق کے منافی بات ہے 

برادر عزیز ان شاء اللہ میں روایات کا مضمون پیش کروں گا، آپ تاویل کریں اور پھر میرا کام اس تاویل کا جواب دینا ہوگا، تاویل فقط کافی نہیں بلکہ تاویل میں جو اصول کو استعمال کیا جاتا ہے ان اصول و قوانین کا منطبق ہونا بھی لازمی ہے۔ اب علماء اہلسنت کے بقول خدا کو خالق الخنزیز کہنا کفر ہے لیکن اگر کوئی تاویل کرے کہ خالق کل شئی کیا خنزیر کا خالق نہیں؟ تو اس تاویل کو قابل التفات اہلسنت نہیں سمجھتے اور کفر کے فتوے پر باقی رہتے ہیں۔ اس لئے ہم یہی کہتے ہیں کہ تاویل کیجئے لیکن وہ متعلق ہو تو قبول کی جائے گی۔
برادر آپ نے کہا
،۳۔اگر آپ یہ کہیں کہ ہم نے بھی روایات تحریف کی تاویلات کی ہیں ،تو عرض یہ کہ چند ایک نےتاویلات کی ھونگی لیکن ہر کسی نے نہیں کی ،جیسے الکلینی نے ایک باب باندھا ھے العنوان : باب انه لم يجمع القرآن كله الا الائمة عليهم السلام وانهم يعلمون علمه كله اب آُ پ اس کی تشریح اور اس کا مقصد خود الکافی کے شارح مجلسی کی زبانی دیکھیں ۔
محترم برادر مجھے لگتا ہے آپ نے ارادہ کیا ہے کہ سارے اقوال آج ہی نقل کردیں گے، خدا آپ کو خوش رکھے، برادر محترم، اگر ممکن ہو اور طبعیت پر گراں نہ گزریں تو ہم سے ایک ایک شیعہ عالم کی فردا فردا بات کرلیں۔ سو بسم اللہ ہم راضی۔ اوثق الناس شیخ کلینی ہوں، متکلم امامیہ شیخ مفید ہوں، صاحب بحار الانوار علامہ مجلسی ہوں، صاحب انوار النعمانیہ علامہ جزائری ہوں، صاحب وسائل شیخ حرعاملی ہوں یا دیگر امامی علماء۔
ہم نے الحمد للہ کافی حضرات کے موقف پر تحقیق عنیق کی ہیں اور آپ سے تبادلہ خیال ضرور کریں گے۔ البتہ ایک اصول کو ذھن میں رکھیں 'ہم قرآن و اخبار اہلبیت ع' کے پیروکار ہیں۔ ایک دو اشخاص کے اقوال نقل کرنا ہم پر حجت نہیں ہوں گے۔ ہم ان پر خطاء فاحش کا فتوی ضرور لگائیں گے اگر کسی سے مستقلا تحریف کا عقیدہ ثابت ہوگیا جیسے کہ علامہ ابن تیمیہ کا تھا۔
خير طلب :برادر ہماری گذارشات اور بھی تھیں لیکن طوالت کے باعث ہم فی الحال مزید رائے دہی سے پرہیز کرتے ہیں۔ خدا سے دعا ہے کہ ہماری گفتگوں سے جن حضرات کے ذھن میں شکوک و شبہات چاہے شیعوں میں ہو یا سنیوں میں، ان تمام کا ازالہ ہو۔ اور خدا آپ کو خوش رکھے آمین

 محترم آپ کی طویل تحریر میں کیء امور قابل تنقیح و قابل تبصرہ ہیں ،مثلا 
۱۔علامہ ابن تیمیہ کی عبارت اور فتوی عالمگیری کی عبارت سے یہ استنباط کرنا ؎
تبصرہ: علامہ ابن تیمیہ نے ایسا قول فیصل پیش کیا ہے جس کے تناظر میں ہم آرام سے یہ تاویل کرسکتے ہیں کہ بالفرض صحت انتساب تحریف اگر بعض لوگوں سے ثابت بھی ہوجائے تو اس کو زیادہ سے زیادہ خطاء سے تعبیر کیا جائے۔ 
حالانکہ ابن تیمیہ صاحب کی عبارت کا تعلق صرف صدر اول کے ساتھ ہے کہ صدر اول میں تواتر کا درجہ ابھی قران اپک کو حاصل نہیں ھوا تھا ،اس لیے آخر میں انہوں نے کہا

 إِنْ كَانَ يَكْفُرُ بِذَلِكَ مَنْ قَامَتْ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ>

تو اسے بعد والوں پر چھسپا کر نا توجیہ القول بما لا یرضی بہ القایل کے قبیل سے ہے ،کیونکہ انہوں نے خود بعد والوں کے بارے میں فرمایا

قال شيخ الإسلام ابن تيمية: وكذلك من زعم منهم أن القرآن نقص منه آيات وكتمت أو زعم أن له تأويلات باطنة تسقط الأعمال المشروعة ونحو ذلك، وهؤلاء يسمَّون القرامطة والباطنية، ومنهم التناسخية، وهؤلاء لا خلاف في كفرهم. انظر: الصارم المسلول. (3/ 1108 –

نیز فتویٰ عالگیری کی عبارت کا تعلق بھی صرف معوذتین کے ساتھ ہے نہ کہ پورے قرآن پاک کے ساتھ،اور وہ بھی ایک قول ہے ،نیز تحریف و تغیر ایک الگ چیز ھے جب کہ کسی سورت کا انکار ایک الگ مبحث ھے عالگیریہ کا تعلق پہلے کے ساتھ ھے نہ کے دوسرے کے ساتھ
۲۔اُپ کا یہ کہنا کہ ہمارے ہاں فتاوی سستے نہیں ہیں ؃تو محترم آُ پ کے مذہب میں سب سے سستے ہیں کہ آپ کے فتاوی کے زد سے امت کا کوی فرد نہیں بچا حتی کہ اصحاب پیغمبر بھی آپ کے فتاوی کی زد میں آے چنانچہ دیکھیں؎واتفقت الإمامية على أن من أنكر إمامة أحد الأئمة وجحد ما أوجبه الله تعالى من فرض الطاعة فهو كافر ضال مستحق للخلود في النار؎من شک فی کفر اعداءنا فھو کافر؎اور اخبار کفر اصحاب ،ہاں اتنی بات ھے کہ آپ اپنے مذہب والوں کے لیے مداہنت کرتے ہیں خواہ وہ جو بھی عقیدہ رکھے 
۳۔نوری کے بارے میں آغا بزرگ کا یہ قول نقل کرنا؃

وسمعناه من لسانه في أواخر أيامه فإنه كان يقول: أخطأت في تسمية الكتاب وكان الأجدر أن يسمى ب‍ (فصل الخطاب) في عدم تحريف الكتاب لأني أثبت فيه أن كتاب الاسلام (القرآن الشريف) الموجود بين الدفتين المنتشر في بقاع العالم - وحي آلهي بجميع سوره وآياته وجمله لم يطرأ عليه تغيير أو تبديل ولا زيادة ولا نقصان من لدن جمعه حتى اليوم وقد وصل الينا المجموع الأولي بالتواتر القطعي ولا شك لاحد من الامامية فيه فبعد ذا امن الانصاف أن يقاس الموصوف بهذه الأوصاف –
صفحہ 13 از 29