تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 14 از 29

اگر یہ قول صحیح ھے تو نوری کی تناقضی فطرت کے کمال پر دال ہے ،کیونکہ اس میں نوری کہہ رہے ہیں کہ میرا مقصد اثبات حفاظت ہے اور پوری کتاب اثبات تحریف سے لبریز ھے جس کا انکار کتاب دیکھنے کے بعد کوی منصف نہیں کر سکتا۔نیز اگر بات یہی ھے تو شیعہ علماء بے اس کے رد میں کتب کیوں لکھی؟نیز آپ کا اسے رجوع کہنا عذر گناہ بدتر از گناہ کے قبیل سے ھے ،کیونکہ نوری نے رجوع نہیں کیا بلکہ اپنے کتاب کو غلط معانی پہنائے کہ کتاب پوری اثبات تحریف پر مشتمل ھے اور نوری کہہ رھے ہیں کہ میں نے اس میں رد تحریف کیا ھے ،یقیناً تقیہ کے قایلین سے ہی ایسی تضاد بیانی کا صدور ھو سکتا ھے ،
۴۔آپ کا یہ کہنا؎لیکن جہاں یہ حضرات ہیں تو وہاں مفتی شفیع، مفتی تقی عثمانی و دیگر علماء اہلسنت نے تشیع پر تکفیر سے پہلو تہی کی ہے ۔حلانکہ ان حضرات نے خود تکفیر شیعہ کے فتاوی جاری یے ہیں وہ الگ بات ھے یہ فتاوی مطلق کی بجاے مقید تھے کہ فلاں فلاں عقاید رکھنے والے شیعہ کافر ہیں اس میں تحریف کا عقیدہ بھی شامل ھے مانگیں گے تو لنک دوں گا۔
۵۔آپ کا یہ کہنا کہ فواید الاصول کی عبارت کا تعلق صرف متشابھات سے ھے ،حلانکہ یہ بحث مطلق ظواہر کتاب کے بارے میں ھے ،میں پوری بحث تو نقل نہیں کر سکتا ،عنوان نقل کیے دیتا ھوں ،آپ دیکھ لیں ،متشابہات کی روایت صرف بطور مثال کی ھے

؎قسم الاول وهو ما يعمل لتشخيص مراد المتكلم
وإنما الخلاف والاشكال وقع في موضعين:
أحدهما: جواز العمل بظواهر الكتاب.
والثاني: أن العمل بالظواهر مطلقا في حق غير المخالطب بها قام الدليل عليه بالخصوص بحيث لا يحتاج إلى إثبات إنسداد باب العلم في الاحكام الشرعية أم لا

محترم اختصار کے پیش نظر اسی پر اکتفاء کیا ،مزید بھی آپ کی باتیں قابل تبصرہ ہے ،جن کو فی الحال چھوڑ دیتا ھوں ،اب ہمیں اصل موضوع کی طرف آنا چاھیے ۔محترم اس وقت آپ کے ساتھ دو باتوں پر بحث مقصود ھے ایک شیعہ مذہب میں سے قایلین تحریف کا تعین دوسرا اہل تشیع کے اس موقف پر بحث کہ قایل تحریف صرف خطا کار ہے کافر نہیں ھے ،اب میں پہلی بحث سے متعلق کچھ عرض کرتا ھوں
محترم ،سب سے پہلے قابل غور بات یہ ھے کہ اہل تشیع قرآن پاک میں تحریف و تغیر و تبدیلی کے وقوع و عدم وقوع سے متعلق اپنے عقیدے کو قطعی شکل نہیں دے سکے اور اس بارے میں ان کے عقیدے کے بارے میں انتہای متعارض و متضاد روایات ہیں ،میں اس حوالے سے آپ کے سامنے تین قسم کی روایات پیش کرتا ھوں تا کہ آپ ہی ان میں تطبیق کی کوی راہ نکالیں۔
شیعہ مذہب کی بنیادی کتب کی طرف رجوع کرنے اور ان کے محقیقن کے اقوال کا بغور جائزہ لینے سے تحریف قرآن کے حوالے سے شیعہ مذہب کے تین مختلف موقف سامنے آتے ہیں ،ان تینوں نظریات میں تطبیق کسی طرح سے ممکن نہیں ہے ،ہم قارئین کے سامنے یہ تینوں موقف پیش کرتے ہیں تاکہ وہ خود ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کریں اور ان متضاد و متعارض نظریات میں تطبیق یا ترجیح کی کوئی راہ نکالیں:
پہلا قول :تحریف قرآن پر اہل تشیع کا اتفاق
شیعہ مذہب کے بعض محقیقین کا یہ دعوی ہے کہ قرآن پاک میں تحریف پر اہل تشیع کا اتفاق ہے اور عقیدہ تحریف شیعہ مذہب کے بنیادی عقائد میں سے ہے چنانچہ:
۱۔ پانچویں صدی ہجری کے مشہور شیعہ محقق ،فخر الشیعہ ابو عبداللہ محمد المعروف شیخ مفید اپنی کتاب

’’اوائل المقالات فی المذہب و المختارات‘‘
لکھتے ہیں :
واتفقوا ان ائمۃ الضلال خالفوا فی کثیر من تالیف القرآن و عدلوا فیہ عن موجب التنزیل و سنۃالنبی صلی اللہ علیہ و سلم ،و اجمعت المعتزلۃ،الخوارج،والزیدیہ ،والمرجۂ،واصحاب الحدیث علی خلاف الامامیۃ فی جمیع ما عددناہ(۲)

ترجمہ:شیعہ امامیہ کا اتفاق ہے کہ گمراہی کے سرغنوں(خلفائے ثلاثہ)نے قرآن پاک کو جمع کرنے میں بہیت سارے امور میں مخالفت کی اوراس معاملے میں قرآن پاک کے مقتضی اور آپ ﷺ کی سنت سے ہٹ گئے ،جبکہ باقی فرق یعنی معتزلہ ،خوارج ،زیدیہ ،مرجۂ اور محدثین کا ان باتوں میں امامیہ کے خلاف اجماع ہے۔
۲۔گیارہویں صدی کے معروف شیعہ محقق و مفسر ابو جعفر محمد بن الحسن الحر العاملی جنہیں شیعہ علماء افضل المتبحرین و شیخ المحدثین کے لقب سے یاد کرتے ہیں،اپنی تفسیر

"مراۃالانوارو مشکاۃ الاسرار"

کے مقدمے میں تحریف قرآن کے مسئلے پر مفصل بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

وعندی فی وضوح صحۃ ہذالقول بعد تتبع الاخباروتفحص الاثاربحیث یمکن الحکم بکونہ من ضروریات مذہب التشیع و انہ من اکبر مفاسد غصب الخلافۃ(۳)

ترجمہ:میرے نزدیک آثار و روایات کے تتبع و جستجو کے بعد اس قول (تحریف قرآن )کی وضاحت وصحت اس درجے میں ہے کہ یہ شیعہ مذہب کی ضروریات میں شمار ہوتا ہے اور خلافت کو غصب کرنے کے مفاسد میں سے یہ سب سے بڑا مفسدہ ہے (کہ قرآن پاک میں تحریف ہوگئی)
۳۔بارہویں صدی کے مشہور شیعہ عالم یوسف البحرانی اپنی معروف و ضخیم کتاب ’’حدائق الناظرہ فی احکام العترۃ الطاہرۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

ثم اقول مما یدفع ماادعوہ ایضاً استفاضۃ الاخباربالتغییر و التبدیل فی جملۃ من الایات من کلمۃباخری زیادۃعلی الاخبار المتکاثرہ بقوع النقص فی القرآن و الحذف منہ کما ھو مذہب جملۃ من مشائخنا المتقدمین والمتاخرین(۴)

ترجمہ:میں کہتا ہوں ان حضرات کے مذکورہ دعوی کا رد اس سے بھی ہو تا ہے کہ متواتر روایات اس بارے میں مروی ہے کہ قرآن پاک کے کلمات میں تغیر و تبدیلی ہوئی ہے ،نیز قرآن پاک میں حذف و کمی پر بھی روایات موجود ہیں ،نیز یہی ہمارے سب متقدمین و متاخرین کا مذہب بھی ہے ۔

۴۔مشہور شیعہ عالم طیب الموسی الجزائری ’’تفسیر قمی ‘‘کے مقدمہ تحقیق میں تحریف القرآن کا عنوان باندھ کر لکھتے ہیں :
بقی شیء یہمنا ذکرہو ھو ان ھذالتفسیر کغیرہ من التفاسیر المتقدمہ یشتمل علی روایات مفادہاان المصحف الذی بین ایدینالم یسلم من التحریف و التغییر،وجوابہ انہ لم ینفرد المصنف بذکرہابل وافقہ فیہ غیرہ من المحدثین المتقدمین و المتاخرین عامۃ و خاصہ(۵)
صفحہ 14 از 29