تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 15 از 29

ترجمہ:ایک اہم چیز کا ذکر باقی ہے کہ یہ تفسیر بقیہ تفاسیر (یعنی اہل تشیع کی تمام تفاسیر تحریف کی روایات پر مشتمل ہے)کی طرح ایسی روایات پر مشتمل ہے ،جن کا مفہوم یہ ہے کہ جو قرآن پاک ہمارے سامنے ہے تغیر و تحریف سے محفوظ نہیں رہا ،لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ صرف مصنف نے ان روایات کو ذکر نہیں کیا ،بلکہ اس کے ذکر کرنے میں متقدمین و متاخرین ،خاص علماء میں سے ہو یا عام ،سب نے مصنف کی موافقت کی ہے ۔
۵۔معروف شیعہ محقق اپنی کتاب ’’مشارق الشموس الدریہ ‘‘میں تحریف قرآن پر مفصل بحث کر کے آخر میں لکھتے ہیں :

واجماع الفرقۃ المحقۃ و کونہ من ضروریات مذہبہم و بہ تضافرت الاخبار (۶)

ترجمہ:اس قول (تحریف قرآن )پر فرقہ حقہ (شیعہ )کا اجماع ہے اور یہ ضروریات مذہب میں سے ہے اور اسی بارے میں متواتر روایات ہیں 

Samiullah Jan دوسرا قول :عدم تحریف پر اہل تشیع کا اتفاق
پچھلے قول کے برخلاف بعض شیعہ محقیقین کا دعوی ہے کہ اہل تشیع کا قرآن پاک کے عدم تحریف پر اتفاق ہے اور شیعہ مذہب کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن پاک میں کبھی کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ۔اب قارئین ہی ان دونوں دعوؤں میں تعارض و تضاد کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں اور اہل تشیع کے نامی گرامی علماء کی دیانت اور اپنے مذہب کے ’’متفقہ عقائد‘‘کے بارے میں ان ’’محقیقن‘‘کے ’’کامل علم‘‘ کا اندازہ لگائیں چنانچہ:
۱۔ چوتھی صدی کے مشہور شیعہ عالم ابو الحسن بن الحسین المعروف ابن بابویہ الصدوق اپنی کتاب ’’الاعتقادات‘‘ میں لکھتے ہیں :

اعتقادنا ان القرآنالذی انزلہ اللہ تعالی علی نبیہﷺھو مابین الدفتین۔۔ومن نسب الینا انا نقول انہ اکثر من ذلک فھو کاذب (۷)

ترجمہ:ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو قرآن پاک اللہ نے اپنے نبیﷺ پر نازل کیا ،وہی ہے جو اسوقت مابین الدفتین موجود ہے ،اور جو ہماری طرف یہ منسوب کرے ،کہ ہم اس سے زیادہ کے قائل ہیں ،وہ جھوٹا ہے۔
۲۔ساتویں صدی کے معروف عالم رضی الدین علی بن طاؤوس لکھتے ہیں :

لا یتوجہ الطعن و القداح علی الامامیہ بوجود نقصان و تبدیل و تغییر فی القرآن لانہم یقولون بعدم التحریف مطلقاً(۸)

ترجمہ:قرآن پاک میں تغیر وکمی کے بارے میں امامیہ پر کسی قسم کی طعن و تشنیع نہیں کی جا سکتی ،کیونکہ امامیہ مطلقاً عدم تحریف کے قائل ہیں ۔
۳۔مشہور شیعہ عالم اور امام ابن تیمیہ کے ہم عصر ابن مطہر الحلی قرآن پاک کے بارے میں اہل تشیع کا عقیدہ یوں بیان کرتے ہیں :

واتفقو علی ان ما نقل الینا متواترا من لقران فھو حجۃ ،واستدل بانہ سند النبوۃ و معجزتہا الخالدہ(۹)

ترجمہ:شیعہ کا اتفاق ہے کہ قرآن پاک جو متواتراً ہم تک منقول ہے ،حجت ہے ،دلیل یہ ہے کہ یہ کلام سند نبوت اور دائمی معجزہ ہے۔

۴۔عصر حاضر میں اہل تشیع کے مجتہد اعظم سید محسن الامین العاملی اپنی ضخیم کتاب اعیان الشیعہ میں لکھتے ہیں :
لا یقول احد من الامامیہ ،لا قدیماً ولا حدیثاًان القرآن مزید فیہ ،قلیل او کثیر ،فضلا عن کلہم،بل کلہم متفقون علی عدم الزیادہ،ومن یعتد بقولہ من محقیقیہم متفقون علی انہ لم ینقص منہ(۱۰)
ترجمہ:امامیہ میں سے کوئی بھی متقدمین میں سے ہو یا متاخرین میں سے،قرآن پاک میں کسی قسم کی زیادتی کا قائل نہیں ہے ۔اور امامیہ کے معتبر محقیقین کا اتفاق ہے کہ قرآن میں کمی بھی نہیں ہوئی ہے۔

۵۔معروف و مشہور شیعہ عالم سید ابراہیم الموسوی اپنی مفصل کتاب ’’عقائد الامامیہ الاثنی عشریہ‘‘ میں قرآن پاک کے بارے میں مذہب شیعہ کا عقیدہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
اتفق الامامیہ الاثنی عشریہ بکلمۃ واحدۃ علی انہ لا زیادۃ فی القرآن و جزمو بکلمۃ قاطعۃ ان بین الدفتین ھو القرآن المنزل دون زیادۃ و نقصان ولیوم اصبح ھذ القول ضرورۃ من ضروریات الدین(۱۱)

ترجمہ:امامیہ اثنا عشریہ کا کلی اتفاق ہے کہ قرآن پاک میں کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی ہے ،اور سب کا قطعی طور پریہ ایقان ہے کہ بلا کسی کمی و زیادتی کے یہ قرآن وہی ہے، جسے اللہ تعالی نے نازل کیا تھا اور آج یہ قول ضروریات میں سے شمار ہوتا ہے۔
ناطقہ سر بگریباں ھے کہ کس ’’اتفاق‘‘ سے اتفاق کیا جائے اور کس کو جھوٹا کہا جائے ،اپنے بنیادی عقیدے کے بارے میں اتنا واضح تضاد شیعہ مذہب کا ہی خاصہ ہے ،ان ’’مجتہدین ملت‘‘اور محقیقین مذہب‘‘کی یہ تضاد بیانیاں شیعہ مذہب کی ’’حقیقت‘‘اور اس کی ’’اصلی صورت ‘‘کو جس طرح واضح کر رہی ہیں ،وہ کسی صاحب فہم و شعور پر مخفی نہیں ہے۔
تیسرا قول :عقیدہ تحریف میں اہل تشیع کا اختلاف
ان دو قولوں کے علاوہ ’’شیعہ محقیقن ‘‘کے ہاں ایک تیسرا قول بھی ملتا ھے کہ شیعہ مذہب میں تحریف قرآن کا عقیدہ ان عقائد میں سے ہے ،جس میں اہل مذہب کے علماء کا اختلاف ہے ،بعض تحریف کے قائل ہیں ،جبکہ بعض نے عدم تحریف کو ترجیح دی ہے ،’’اختلاف‘‘اور ’’اتفاق‘‘کے یہ دعوے مذہب شیعہ کی ’’صداقت و دیانت‘‘مذہب شیعہ میں قرآن پاک کی ’’اہمیت و عظمت ‘‘اور علمائے شیعہ کے ’’علم ومعرفت‘‘پر وہ انمٹ داغ ہیں ،جو اس’’ خود ساختہ مذہب ‘‘ کی حقیقت سے اہل فکر و نظر کو آگاہ کرتے رہیں گے چنانچہ:
۱۔شیعہ مذہب کے خاتم الفقہاء و المحدثین علامہ نوری الطبرسی اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’فصل الخطاب ‘‘ میں تحریف قرآن کے حوالے سے اہل تشیع کا مسلک یوں بیان کرتے ہیں :

المقدمۃ الثالثہ فی ذکر اقوال علمائنا فی تغییر القرآن وعدمہ،فاعلم ان لھم فی ذلک اقوالاً ،المشہور اثنان:
الاول:وقوع التغییر والنقصان فیہ۔۔۔۔۔۔والثانی:عدم وقوع التغییر والنقصان (۱۲)

ترجمہ:مقدمہ ثالثہ :قرآن پاک میں تغیر کے بارے میں علمائے شیعہ کے اقوال کے بیان میں ہے ،تو اس بارے ان کے مختلف اقوال ہیں ،ان میں سے دو مشہور ہیں :پہلا قرآن پاک میں کمی بیشی کا قول ،دوسرا عدم تحریف کا قول۔
۲۔معروف شیعہ عالم علامہ علی فانی الاصفہانی اپنی کتاب ’’آراء حول القرآن ‘‘میں لکھتے ہیں :

الا مر الخامس :ھل اعتصم القران من التغییر؟اختلفت الاقوال فی تغییر القران بازیادۃ والنقصان و عنوان البحث تحریف القرآن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔من ھم القائلون بالتحریف وماھو ادلتہم؟
الجواب ان جماعۃ من المحدثین و حفظۃ الاخبار استظھروا التحریف بالنقصیۃ من الاخبار ولذلک ذہبوا الی التحریف بالنقصان
صفحہ 15 از 29