تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 17 از 29

ترجمہ:خلاصہ یہ ہے کہ شیعہ محقیقین کا قریب قریب عدم تحریف پر اتفاق ہے ،البتہ شیعہ محدثین کی ایک جماعت اور اہل سنت کا ایک گروہ(یہ جناب خوئی صاحب کا افتراء محض ہے ،مزید تفصیل آئے گی )تحریف کے قائل ہیں۔
محترم تینوں قسم کے موقف پیش کر دیے کہ ایک قول یہ ہے کہ تحریف پر اہل تشیع کا اتفاق ہے ،دوسرا قول ہے کہ عدم تحریف پر اتفاق ہے تیسرا قول ھے کہ اختلاف ھے تو آنجناب سے سوال ھے کہ ان تینوں قسم کی عبارات میں تطبیق دیں کہ اس بارے میں آپ کا اصل مذہب کیا ھے ،باقی آئندہ 
خیر طلب محترم سلام علیکم۔ بہت خوشی ہوئی آپ کی تعلیقات دیکھ کر۔ آپ کے جب جواب مکمل کرلیں تو بتائے گا۔
 فی الحال یہی ھے ،جب اس پر بحث مکمل ھوگی تو باقی پھر۔
خیر طلب عزیزی ممکن ہوسکے تو ہماری دیگر تعلیقات پر اپنی تنقیح کردیں تاکہ ہمیں اپنے استدلال کے نقص کا علم ہو جائے۔ 
باقی جب آپ مکمل کرلیں گے تو میں انشاء اللہ اگر وقت نے ساتھ دیا تو ہفتہ/اتوار کو جواب دوں کیونکہ میں عام دنوں میں بہت زیادہ مصروف ہوتا ہوں۔
محترم آپ کی باقی تعلیقات میں قابل تبصرہ باتیں نہیں ہیں مثلا ،عدم تحریف کی کتب کے حوالے، دو اہل سنت افراد کی شہادت کہ شیعہ تحریف کے قایل نہیں ہیں،وغیرہ ایسی باتیں ہیں کہ ان پر تبصرہ کی ضرورت میں نہیں سمجھتا ھاں کچھ اہم نکات پر گفتگو کر چکا ھوں اور دوسرا ہم موضوع سے نکل جایں گے ،آپ کی وسعت ظرفی ھے کہ آپ خود تبصرہ کا حکم دے رھے ہیں۔باقی اپ جب فارغ ھوں جواب دیں تاخیر میں کوی مضایقہ نہیں ھے میری اپنی بھی کافی مصروفیات ہیں والسلام
خیر طلب چلیں جیسی آپ کی مرضی۔ میں ان شاء اللہ ہفتہ یا اتوار کو کوشش کروں گا جواب دوں۔
برادر سلام علیکم 
گھر میں شفٹنگ و دیگر مصروفیات کی وجہ سے تاخِیر جواب میں معذرت۔
امید ہے آپ بخیر و عافیت سے ہوں گے۔ خدا سے دعا ہے کہ آپ اور تمام قارئین اور میں جانتا ہوں کہ کچھ سنجیدہ مزاج کے حامل افراد اس کو پڑھ رہے ہیں، ان تمام کو تحقیق حق کی سنجیدہ توفیق دے۔
برادر محترم چونکہ ہماری بحث علمی پیرائے میں ہورہی ہے اور مجھے بہت سارے تحفظات و شکایات ہیں لیکن فقط ماحول کی سنجیدگی کو برقرار رکھنے کے لئے فی الحال ان پر کوئِی تبصرہ نہیں کرتا کیونکہ بحث پھر سمیٹنے کے بجائے مزید پھیل جائے گی۔

برادر محترم اگرچہ ہم طفل مکتب ہی صحیح لیکن ایسے الفاظ استعمال کرنا:

ناطقہ سر بگریباں ھے کہ کس ’’اتفاق‘‘ سے اتفاق کیا جائے اور کس کو جھوٹا کہا جائے ،اپنے بنیادی عقیدے کے بارے میں اتنا واضح تضاد شیعہ مذہب کا ہی خاصہ ہے ،ان ’’مجتہدین ملت‘‘اور محقیقین مذہب‘‘کی یہ تضاد بیانیاں شیعہ مذہب کی ’’حقیقت‘‘اور اس کی ’’اصلی صورت ‘‘کو جس طرح واضح کر رہی ہیں ،وہ کسی صاحب فہم و شعور پر مخفی نہیں ہے ۔
،جو اس’’ خود ساختہ مذہب ‘‘ کی حقیقت سے اہل فکر و نظر کو آگاہ کرتے رہیں گے
تبصرہ از خیر طلب: برادر محترم یقینا میں جانتا ہوں کہ یہ الفاظ استعمال کرنا جب آپ اپنوں میں تقریر کررہے ہیں یا کسی 'جلے بھنے سب و شتم رافضی' سے بات کررہے ہیں تو سمجھ آتے ہیں۔ لیکن جب ایک سنجیدہ بحث چل رہی ہو تو یقینا ایسے الفاظ میں نہیں سمجھتا کوئی اچھا تاثر دیتے ہیں۔ اگر انہی الفاظ پر زور دینا ہے تو عزیزی مجھے عبدالشکور لکھنوی کی کتب کے دوبارہ مطالعہ کا ہی کہہ دیتے میں ان کی تحریرات کو میدان طنز و سب میں بہتیروں کی طرف سے واجب کفایہ سمجھتا ہوں۔۔ خیر مقصد ہرگز ہرگز آپ جیسے فہیم شخص کی بیخ کنی کرنا نہیں بلکہ فقط کچھ باتوں کے احساس کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ خوب۔
اب ہم بحث کے اصل مرکز پر آتے ہیں۔ برادر محترم و اخی العزیز ہم فردا فردا ہم ایک ایک حوالہ کی تنقیح پر آئیں گے البتہ یہ بات بتاتے چلیں جو قارئین کی ذوق طبع کے لئے خوب رہے گی کہ کبھی کبھار انتساب مذھب میں انسان کو غلطی لگ جاتی ہے۔
خیر طلب میں بڑی بڑی عربی کتب سے حوالے دینے کے بجائے مسلک دیوبند کے محقق شہیر و شیخ الحدیث علامہ سرفراز صفدر گھگڑوی کی ایک حکایت کو نقل کرتا ہوں۔ علامہ سرفراز صفدر جو مسلک دیوبند کے مدافعین میں صف اول کے علماء میں شمار ہوتے ہیں، اور اتحاد اہلسنت کی ہمہ وقت کاوشوں میں سرگرم عمل رہتے تھے، ایک بار مولانا طارق جمیل صاحب کو یوں خط لکھتے ہیں:
اکیسواں الزام۔ حیات النبیﷺ کا عقیدہ امت کا اجماعی ہے۔ سب سے پہلے انکار مولانا حسین علیؒ نے کیا۔
(علامہ سرفراز صفدر اس الزام کا جواب دیتے ہیں) 
ایک مدت تک اس غلط فہمی میں حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی نور اللہ مرقدہ بھی مبتلا رہے۔ اور اپنے ایک مضمون میں اسے انہوں نے امام المفسرین مولانا حسین علی صاحب قدس اللہ سرہ کا تفرد لکھا۔ اس کے جواب میں میں نے ایک مضمون لکھا اور باحوالہ ثابت کیا حضرت مولانا حسین علیؒ  ہرگز حیات النبیﷺ  کے منکر نہ تھے۔
حوالہ: صبح کی آنکھ لالہ فام ہوئی از سرفراز حسن خان ہمزہ احسانی۔

صفحہ 17 از 29