تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 18 از 29

لنک
برادر محترم۔ اس میں واضح بات لکھی ہے کہ مولانا شامزئی صاحب نے کسی پروپیگنڈے میں آکر کسی کی طرف مذھب کو غلط منسوب کردیا جس کے بعد جب انہیں اطلاع دی گئی تو اس سے مراجعت کی۔ 
ہم اس ایک حوالہ اور مختصر تمہید کے بعد ایک بات کی طرف اشارہ کرنا مناسب سمجھیں گے، ہم نے پچھلے دنوں کافی مبسوط تحریر لکھی جو ایک اہلسنت کے جواب الجواب میں تھی اس کا ابتدائی حصہ 'ابطال الاشکالات فی قضیتہ المتعتہ' تھا اور پھر جواب الجواب 'شرح ابطال الاشکالات فی قضیتہ المتعتہ' تھا جو کافی طویل تھا اور اس میں مذھب ابن عباس رضی اللہ عنہ اور نکاح متعہ پر سیر بحث کی۔ اس میں احقر العباد نے روش قیل و قال کو نکل کرنے کے ساتھ ساتھ واقعی انتساب مذھب میں پوری دیانت کے ساتھ تحقیق کی اور خود اقرار قائل کو بارہا جگہ نصیب کیا اور بعض الناس کے انتساب رجوع پر سیر بحث کی۔ چنانچہ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے بہت کچھ جگہ خود قائلین کے اصل الفاظ نقل کئے اور کہی کہی آپ نے دوسرے مولفین کے انتساب مذھب پر اکتفاء کیا۔
عزیزی بندہ احقر یہ بتاتا چلے کہ میں نے تحریف کی ابحاث میں تشیع کے موقف سے زیادہ تسنن کے موقف کو سمجھنے کے لئے کتنے رسائل و کتب جات کو چھانٹا ہے اس کی تفصیل بتانا مقصود نہیں لیکن میں نے ہمہ وقت یہ کوشش کی کہ انصاف و دیانت کے ساتھ فریقین کے دلائل کو پڑھوں۔ 
کچھ دنوں پہلے ہی میں نے ایک ۱۱۴ صفحات پر مشتمل 'دفاع عن الحدیث' مقالہ لکھا جس میں شیخ علی بن ابراہیم استاد شیخ کلینی سے جو تحریف قرآن کے عقیدے کا انتساب کیا جاتا ہے اس پر سیر بحث کی۔ اب ہم نے جہاں جہاں فقط انتساب کو نقل کیا ہوگا اس پر اس تمہید کی روشنی میں، میں معذرت چاہوں گا، کیونکہ میری تحقیق اکثر مصنفین کے بارے میں کافی مختلف ہیں جو دلائل باہرہ پر مشتمل ہیں۔ انشاء اللہ اس کا نمونہ جلد آپ شیخ مفید والی بحث میں دیکھیں گے۔
خیر طلب شیخ مفید و بحث تحریف۔
برادر محترم سب سے پہلے آپ نے عمدتہ المکلمین شیخ مفید کا قول پیش کیا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم 'شیخ الحدیث صفدر گھگڑوی' کی روش جو انہوں نے 'عبارت اکابر' کتاب میں اپنائی اس کے تحت ہم پہلے ان کا تعارف شیخ مصادر کے بجائے اہلسنت مصادر سے دے دیں۔ چناچنہ علامہ شمس الدین ذھبی رقم طراز ہے:

عَالِمُ الرَّافِضَة، صَاحِبُ التَّصَانِيْفِ، الشَّيْخُ المُفِيْد، وَاسْمُهُ: مُحَمَّدُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ النُّعْمَانِ البَغْدَادِيُّ، الشِّيْعِيُّ، وَيُعْرَفُ: بِابْنِ المُعَلِّمِ.
كَانَ صَاحِبَ فُنُوْنٍ وَبُحُوثٍ وَكَلاَمٍ، وَاعْتِزَالٍ وَأَدَبٍ

یعنی شیخ مفید روافض کے عالم تھے، مختلف تصانیف کے مالک، ان کا اسم گرامی محمد بن محمد بن نعمان ہے اور بغداد سے تعلق رکھتے تھے، شیعہ تھے اور ان کو ابن معلم سے بھی پہچانا جاتا۔ ان کا مختلف فنون، مباحث، کلام، اعتزال اور ادب میں ملکہ تھا۔
اس کے بعد ابن ابی طئی سے نقل کرتے ہیں:

كَانَ أَوْحَدَ فِي جَمِيْع فُنُوْن العِلْمِ: الأَصْلَين، وَالفِقْهِ، وَالأَخْبَارِ، وَمَعْرِفَةِ الرِّجَال، وَالتَّفْسِيْرِ، وَالنَّحْوِ، وَالشِّعرِ.
وَكَانَ يُنَاظِرُ أَهْلَ كُلِّ عَقِيْدَةٍ مَعَ العَظَمَة فِي الدَّوْلَة البُوَيْهِيَّة، وَالرُّتبَةِ الجَسِيْمَةِ عِنْدَ الخُلَفَاء، وَكَانَ قَويَّ النَّفْسِ، كَثِيْرَ البِرِّ، عَظِيْمَ الخُشُوعِ، كَثِيْرَ الصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ، يَلْبَسُ الخَشِنَ مِنَ الثِّيَابِ، وَكَانَ مُدِيْماً للمُطَالعَة وَالتَّعلِيم، وَمِنْ أَحْفَظِ النَّاسِ.
قِيْلَ: إِنَّهُ مَا تَرَكَ لِلمُخَالفين كِتَاباً إِلاَّ وَحَفِظَه، وَبهَذَا قَدَر عَلَى حَلِّ شُبَه القَوْم، وَكَانَ مِنْ أَحرصِ النَّاسِ عَلَى التَّعْلِيمِ، يَدُورُ عَلَى المكَاتبِ وَحوَانيتِ الحَاكَةِ، فَيَتَلَمَّحُ الصَّبيَّ الفَطِنَ، فَيستَأْجِرُهُ مِنْ أَبَويه - يَعْنِي فَيُضِلُّهُ - قَالَ: وَبِذَلِكَ كَثُرَ تَلاَمِذَتُهُ.
وَقِيْلَ: رُبَّمَا زَارَهُ عَضُدُ الدَّوْلَة، وَيَقُوْلُ لَهُ: اشْفَعْ تُشَفَّعْ. وَكَانَ
رَبعَةً نَحِيْفاً أَسمرَ، عَاشَ سِتاً وَسَبْعِيْنَ سَنَةً، وَلَهُ أَكْثَرُ مِنْ مائَتَي مُصَنَّف - إِلَى أَنْ قَالَ:
مَاتَ سَنَةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَع مائَة، وَشَيَّعَهُ ثَمَانُوْنَ أَلْفاً۔

مفہوم: یعنی علم عقائد، فقہ، علم تاریخ، علم رجال، علم تفسیر، علم النحو، علم اشعار تمام کی تمام شیخ مفید میں جمع تھیں۔ اور شیخ ہر عقیدے کے ماننے والے سے مناظرہ کرتے۔ اور خلفاء کے نزدیک صاحب عزت تھے، قوی شخصیت کے حامل تھے اور ساتھ ساتھ بہت نیک تھے، خشوع و خضوع کے پیکر، کثرت سے نماز و روزوں کو انجام دیتے۔ اور سادے کپڑوں کو زیب تن کرتے، مطالعہ و تعلیم میں بہت مسلسل طبعیت کے حامل تھے، اور لوگوں میں سے سب سے بہترین حافظے والے۔ کہا گیا کہ کہ انہوں نے مخالفین کی کسی کتاب کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ اس کو حفظ کرلیا، اور جب ہی اپنے گروہ کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش تھے۔ اور تعلیم کے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ و ملتفت کرنے والے اور اکثر دکانون پر کتب کو لینے جایا کرتے۔۔۔۔۔ الی الاخر۔
برادر محترم سب سے عجیب جملہ مجھے شیخ ذھبی کا لگا جو آخر میں یوں گویا ہوتے ہے:

وَقِيْلَ: بَلَغَتْ تَوَالِيفُهُ مائَتَيْنِ ، لَمْ أَقِفْ عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا - وَلله الحَمْدُ
صفحہ 18 از 29