تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 19 از 29

اور کہا گیا ہے کہ ان کی کتب و تصیفات کی تعداد ۲۰۰ کے لگ بھگ ہے۔ اور میں نے ان تصانیف میں سے کسی کو نہیں پڑھا اور نہ ہی جانتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے۔
عجیب ثم العجیب۔ عزیزی ایک طرف سلف صالح تھے جو مذھب امامیہ کی کتب کو نہ پڑھانے کو سرمایہ حیات سمجھتے اور دوسری طرف خلف ہیں جو مذھب حقہ کی کتب کو پڑھ بھی رہے ہیں تو کاملا نہیں بلکہ تقلید در تقلید پڑھ رہے ہیں جس کا نمونہ عنقریب دیکھیں گے۔
خدا کی عظیم کڑوڑوں رحمتیں ہو شیخ مفید اعلی اللہ مقامہ پر۔ واقعی شیخ کے ترجمہ کو پڑھ کر دل چاہتا ہے کہ بندہ ہو تو اس متبحر عالم کی طرح۔ یہ ساری عبارات ہم نے سیر اعلام النبلاء، جز ۱۷، ص ۳۴۴-۳۴۵، طبع لبنان سے نقل کیں ہیں۔
خیر طلب خیر اب اصل مدعے پر آتے ہیں۔ برادر محترم آپ نے شیخ کا یہ قول نقل کیا
قرآن پاک کو جمع کرنے میں بہیت سارے امور میں مخالفت کی اور اس معاملے میں قرآن پاک کے مقتضی اور آپﷺ کی سنت سے ہٹ گئے ،جبکہ باقی فرق یعنی معتزلہ ،خوارج ،زیدیہ ،مرجۂ اور محدثین کا ان باتوں میں امامیہ کے خلاف اجماع ہے۔
عزیزی محترم۔ ہمارے پیش نظر شیخ مفید کی کتاب اوائل المقالات موجود ہے جو قم سے طبع شدہ ہے۔ آپ نے جو عبارت نقل کی ہے وہ اس عنوان کے تحت ہے

'القول في الرجعة والبداء وتأليف القرآن'۔

شیخ رقم طراز ہے:

واتفقوا على أن أئمة الضلال خالفوا في كثير من تأليف القرآن، وعدلوا فيه عن موجب التنزيل وسنة النبي (ص).

اور مذھب حقہ امامیہ کا اتفاق اس امر پر ہے کہ آئمہ ضلال نے 'تالیف قرآن' میں تنزیل و سنت نبوی ص سے عدول کرتے ہوئے کافی مخالفت کی ہے-

حوالہ: اوائل المقالات، ص 46، طبع قدم مقدسہ-

عزیزی و برادر محترم و اخی الجلیل۔ اب 'تالیف قرآن' مہم امر ہے۔ تالیف قرآن میں غلطی سے مراد کیا اصلا تحریف و نقصان/زیادتی کا ہونا مراد ہے۔ اس سلسلے میں ہم شیخ مفید ہی سے پوچھتے ہیں کہ اس سے مراد کیا ہے:

فأما القول في التأليف فالموجود يقضي فيه بتقديم المتأخر وتأخير المتقدم ومن عرف الناسخ والمنسوخ والمكي والمدني لم يرتب بما ذكرناه

تالیف قرآن کے حوالے سے جو بات ہے وہ کہ موجودہ مصحف میں قدیم آیات کو متاخر کردیا گیا ہے اور متاخر آیات کو پہلے لایا گیا ہے، اور ناسخ، منسوخ، مکی و مدنی کا لحاظ نہیں کیا گیا جمع آوری میں جیسے کہ ہم نے اس کا ذکر کیا ہے

حوالہ: اوائل المقالات، ص ۸۱، طبع قم۔

عزیزی اس سے مراد تحریف الفاظی بالکل نہیں بلکہ قرآن کی بمطابق تنزیل کی عدم جمع آوری مراد ہے۔ ناسخ و منسوخ آیات کا نہ ہونا مراد ہے۔
باقی عزیزی ہمارے پاس الحمد للہ آپ کے مسلک میں بھی بعض حضرات کی ترتیب موجودہ قرآن سے مختلف تھی جیسے کہ علماء اہلسنت کی تصریحات موجود ہیں۔ حوالے جات موجود ہیں آپ کے حکم کی دیر ہیں۔
ہم ایک اثر ابن عمر سے استدلال کریں گے جس پر علامہ عبدالشکور کاکوری لکھنوی کی تنقیح بھی پیش کریں گے۔ علامہ سید علی حائری و علامہ سید حامد لکھنوی نے ایک اثر ابن عمر سے استدلال کیا جس کے جملے یہ تھے:

قال أبوعبيد : ، حدثنا : إسماعيل بن إبراهيم ، عن أيوب ، عن نافع ، عن إبن عمر قال : ليقولن أحدكم قد أخذت القرآن كله وما يدريه ما كله : قد ذهب قرآن كثير ولكن ليقل قد أخذت منه ما ظهر

بحذف سند ابن عمر نے کہا تم میں سے ہرگز ہرگز کوئی یہ دعوی نہ کرے کہ اس نے سارے قرآن کو لے لیا ہے اور پھلا ایسا کہنے والے کو کیا پتا کہ پورا قرآن کیا ہے، بتحقیق قرآن بہت سارا 'ذھب' چلا گیا ہے۔ مگر قائل یہ کہے کہ میں نے اس 'قرآن' میں سے بعض کو لیا جو مجھے جو ظاہر ہوا۔

حوالہ: الاتقان، جز ۳، ص ۸۲، طبع مصر۔

سردست عزیز من ہمیں فی الحال اس کے مدلول پر بحث نہیں کیونکہ یہ کسی اور دن کی بحث رہی لیکن شیخ مفید پر اعتراض کے جواب میں یہ اثر اور اس کی تشریح مفید ہے۔ چنانچہ 'امام اہلسنت عبدالشکور کاکوری لکھنوی' رقم طراز ہے:

مقصود حضرت ابن عمر کا درحقیقت یہی ہے کہ قرآن کا بہت سا حصہ منسوخ ہوجانے کی وجہ سے اس مصحف میں نہیں ہے- لہذا یہ کہنا کہ قرآن پورا مجھے یاد ہے جھوٹ ہوگا۔

حوالہ: تنبیہ الحائرین لحمایتہ الکتاب المبین، ص ۷۰، ناشر مکتب فاروقیہ دریائی ٹولہ لکھنو، سنہ طباعت: ۱۴۰۲ ہجری-


عزیزی یہی مراد شیخ مفید کی اگر لی جئے جیسا کہ ان کے کلام سے متشرح ہے تو کوئی قباحت لازم نہ آئے گی کیونکہ منسوخ آیات کا نہ ہونا کلیت کے قائدے کو ختم کررہا ہے بقول ابن عمر کے و تشریح عبدالشکوری کے مطابق۔ اب فیصلہ آپ کے اوپر چھوڑتا ہوں۔

خیر طلب عزیزی اب ہم علامہ یوسف البحرانی کے قول کی طرف ملتفت ہوتے ہیں۔ آپ نے علامہ یوسف البحرانی کی کتاب الحدائق الناضرة سے نقل کیا۔ میرے پیش نظر شیخ الاخباریین محدث امامیہ شیخ یوسف البحرانی کی کتاب 'الحدائق الناضرة في احكام العترة الطاهرة' جو 'دار الاضواء بیروت' سے ۱۹۸۵ میں چھپی۔ فقہ امامیہ میں اخباری نکتہ نگاہ سے یہ ایک بہترین و صف اول کی کتاب کہی جاسکتی ہے۔ اخباری منھج کی پوری غماز یہ کتاب ہے۔ بندہ احقر نے ایک بار 'سید کمال الحیدری' کے درس کو سنا تو سید کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اس کتاب کو حرف بحرف پڑھا ہے اور استدلال فقہ اخباری کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ خدا علماء امامیہ پر رحمت نازل کرے۔ واقعی جو لوگ اس مذھب کو 'سیاسی مذھب' کا طعنہ دیتے ہیں انہیں چاہئے کہ علماء امامیہ کے تراث فقہی، اصولی، تفسیری و دیگر علوم جات کا مطالعہ کریں۔ خیر بحث پر واپس آتے ہیں۔

برادر اس کی جلد نمبر ۸ بندہ احقر کے پیش نظر ہے جو آپ ادھر سے ڈانلوڈ کرسکتے ہیں:

لنک

یقین جانیں میں پوری کوشش کررہا ہوں کہ اپنے حسن ظن جو آپ کے لئے ہے، اس کو قائم و دائم رکھوں لیکن بعض مال و صورت استدلال کو دیکھتے ہوئے اس کو چوٹ ضرور لگتی ہے لیکن میں پھر بھی کوشش کرتا ہوں کہ ایک اسلامی برادر کے بارے میں برا نہیں سوچوں، بہت ممکن ہے اس سے کوئی سھوا غلطی ہو۔

برادر محترم حدائق کے جز ۸ کے صفحہ ۹۵ میں علامہ یوسف البحرانی ایک باب قائم کرتے ہیں

هل القرءات السبع متواترة

صفحہ 19 از 29