تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 20 از 29

یعنی کیا سات قرآت متواتر ہیں؟

اس پر علامہ یوسف نے سیر بحث کی ہے، جو بندہ احقر کی نظر میں مستحسن ہے۔ البتہ اس پر مزید تحقیق اگر کرنی تو آیت اللہ خوئی کی 'البیان فی تفسیر القرآن' و دیگر کتب امامیہ کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

اب جو عبارت آپ نے نقل کی ہے جس کی توضیح عنقریب آئے گی وہ اس باب میں ہے۔ چنانچہ باب کو دیکھ کر مراد کا تعیین کرنا چاہئے۔ فقط الفاظ سے کوئی نتیجہ بغیر سیاق و سباق کو دیکھے نکالنا صحیح نہیں۔

علماء امامیہ میں قرآت سابعہ کے حوالے سے دو نظریات ہیں۔ متقدمین و متاخرین میں سے کافی علماء کا نظریہ ہے کہ قرآن فقط ایک حرف واحد پر نازل ہوا ہے اور ساتھ قرات قارئین کی اجتہاد ہیں جس کو اگرچہ پڑھنے کی رخصت تو ہے لیکن اصلا اس پر جزم و قطع کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ دوسرا نظریہ جس میں شہید ثانی کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ وہ قرات سابعہ کو من جانب خدا مانتے تھے۔

علامہ یوسف البحرانی نے پہلے نظریے کے اثبات میں دلائل دئیے ہیں اور دوسرے نظریے کے کمزور ہونے پر دلائل دئیے ہیں۔ علامہ نے ان قرات کے عدم تواتر پر روایات و اخبار اہلبیت علیھم السلام، علمائے امامیہ کے اقوال نقل کئے اور بالاخر اس حوالے سے علامہ یوسف البحرانی نے علمائے عامہ یعنی اہلسنت علماء کے اقوال سے استشہاد بھی کیا ہے۔ چنانچہ علامہ فخر الدین رازی کے ایک قول سے ص ۹۷ پر استدلال قائم کیا۔ علامہ فخر الدین رازی کا کامل کلام ان کی تفسیر کبیر میں بایں موجود ہے:

الْمَسْأَلَةُ الثَّالِثَةَ عَشْرَةَ: اتَّفَقَ الْأَكْثَرُونَ عَلَى أَنَّ الْقِرَاءَاتِ الْمَشْهُورَةَ مَنْقُولَةٌ بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ وَفِيهِ إِشْكَالٌ:
وَذَلِكَ لِأَنَّا نَقُولُ: هَذِهِ الْقِرَاءَاتُ الْمَشْهُورَةُ إِمَّا أَنْ تَكُونَ مَنْقُولَةً بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ أَوْ لَا تَكُونُ، فَإِنْ كَانَ الْأَوَّلَ فَحِينَئِذٍ قَدْ ثَبَتَ بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ خَيَّرَ الْمُكَلَّفِينَ بَيْنَ هَذِهِ الْقِرَاءَاتِ وَسَوَّى بَيْنَهَا فِي الْجَوَازِ، وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ كَانَ تَرْجِيحُ بَعْضِهَا عَلَى الْبَعْضِ وَاقِعًا عَلَى خِلَافِ الْحُكْمِ الثَّابِتِ بِالتَّوَاتُرِ، فَوَجَبَ أَنْ يَكُونَ الذَّاهِبُونَ إِلَى تَرْجِيحِ الْبَعْضِ عَلَى الْبَعْضِ مُسْتَوْجِبِينَ لِلتَّفْسِيقِ إِنْ لَمْ يَلْزَمْهُمُ التَّكْفِيرُ، لَكِنَّا نَرَى أَنْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الْقُرَّاءِ يَخْتَصُّ بِنَوْعٍ مُعَيَّنٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَيَحْمِلُ النَّاسَ عَلَيْهَا وَيَمْنَعُهُمْ مِنْ غَيْرِهَا، فَوَجَبَ أَنْ يَلْزَمَ فِي حَقِّهِمْ مَا ذَكَرْنَاهُ، وَأَمَّا إِنْ قُلْنَا إِنَّ هَذِهِ الْقِرَاءَاتِ مَا ثَبَتَتْ بِالتَّوَاتُرِ بَلْ بِطَرِيقِ الْآحَادِ فَحِينَئِذٍ يَخْرُجُ الْقُرْآنُ عَنْ كَوْنِهِ مُفِيدًا لِلْجَزْمِ وَالْقَطْعِ وَالْيَقِينِ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ بِالْإِجْمَاعِ، وَلِقَائِلٍ أَنْ يُجِيبَ عَنْهُ فَيَقُولَ: بَعْضُهَا مُتَوَاتِرٌ، وَلَا خِلَافَ بَيْنِ الْأُمَّةِ فِيهِ، وَتَجْوِيزُ الْقِرَاءَةِ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا، وَبَعْضُهَا مِنْ بَابِ الْآحَادِ وَكَوْنُ بَعْضِ الْقِرَاءَاتِ مِنْ بَابِ الْآحَادِ لَا يَقْتَضِي خُرُوجَ الْقُرْآنِ بِكُلِّيَّتِهِ عَنْ كَوْنِهِ قَطْعِيًّا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ
.
حوالہ: مفاتیح الغیب، جز اول، ص ۷۰، طبع دار احیاء التراث العربی، بیروت۔

چنانچہ جب یہ واضح ہوگیا کہ علامہ یوسف البحرانی کا مقصد قرات سابعہ پر بحث کرنا تھا۔ علامہ نے مختلف روایات کا ذکر کیا، عقلی دلائل دئے، مخالف روایات کی توجیہ پیش کی۔ علامہ نے اپنے شیخ کی سند سے علامہ جار اللہ زمخشری کے قول کو نقل کیا جو سات قرات کے منکر تھے۔ ملاحظہ ہو ص ۱۰۲۔

خیر طلب چنانچہ اس قول کو نقل کرکے اس قول کو پسند کیا۔ اس کے بعد فرمایا اس عبارت کو جو آپ نے نقل کی ہے:

ثم اقول: ومما يدفع ما ادعوه ايضا استفاضة الأخبار بالتغيير والتبديل في جملة من الآيات من كلمة باخرى زيادة على الأخبار المتكاثرة بوقوع النقص في القرآن والحذف منه كما هو مذهب جملة من مشايخنا المتقدمين والمتأخرين

شیخ جار اللہ زمخشری کی دعوے کا اثبات ان مستفیض اخبار و روایات سے بھی ہوتی ہیں جو آیات میں ایک کلمہ کا دوسرے میں تغییر و تبدیل جملات پر دال ہیں۔ ایسی روایات بہت ساری ہیں جو نقص اور حذف پر دال ہوں اور یہی ہماے مشائک متقدمین اور متاخرین کا مذھب ہے۔

حوالہ: الحدائق، جز ۸، ص ۱۰۲، طبع لبنان۔

برادر محترم اس کے بعد علامہ نے اختلاف قرات کی روایات کو نقل کیا۔ برادر عزیز اب اس سیاق و سباق کو دراصل قرات سابعہ کے تناظر میں دیکھیں تو حقیقت کھل جائے گی۔ اس سے اصلا اثبات تحریف مراد لینا مشکل ہیں کیونکہ خود شیخ طوسی، شیخ طبرسی، شیخ صدوق، سید مرتضی و دیگر علماء سے صراحت کے ساتھ قرآن کے عدم تحریف پر اقوال موجود ہیں تو شیخ کی یقینا مراد تحریف قرآن نہیں بلکہ اختلاف قرات ہیں۔ شیخ یوسف البحرانی نے کچھ سطور پہلے ہی شیخ طوسی و شیخ طبرسی کے اقوال سے استشہاد کیا تھا قرآن کے ایک حرف واحد کے استدلال پر۔

اب ہم یہ کیوں کہہ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر علامہ کے نزدیک قرآن محرف ہوتا تو وہ لائق احتجاج نہیں ہوتا۔ چنانچہ علامہ یوسف البحرانی الحدائق کے جز اول میں رقم طراز ہے:

۔ وعرض ما يرد من جهتهم على الكتاب العزيز والسنة النبوية وترك ما خالفهما

آئمہ علیھم السلام نے شیعوں کو ہدایت کی ہے کہ جو بھی اخبار ان کی طرف سے ائے انہیں خدا کی کتاب اور سنت نبوی کے آئینہ میں دیکھیں اور جو بھی ان کے خلاف ہو اسے غیر مقبول و مردود قرار دیں۔

حوالہ: الحدائق، جز ۱، ص ۹، طبع لبنان

خیر طلب برادر محترم آپ نے کہا:
حالانکہ ابن تیمیہ صاحب کی عبارت کا تعلق صرف صدر اول کے ساتھ ہے کہ صدر اول میں تواتر کا درجہ ابھی قران اپک کو حاصل نہیں ھوا تھا ،اس لیے آخر میں انہوں نے کہا

؎إِنْ كَانَ يَكْفُرُ بِذَلِكَ مَنْ قَامَتْ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ>

تو اسے بعد والوں پر چسپاں کرنا

صفحہ 20 از 29