تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 22 از 29

تبصرہ: برادر عزیز یہی استدلال ہمارا ہے جو چیز شرک و کفر ہوگی وہ ہمیشہ ہوگی اور وہ کسی اجماع وغیرہ کی محتاج نہیں۔ اب مثال لیجئے اگر رسول ص خاتم النبیین ہے تو اب مزید کسی اتمام حجت و دلیل کی احتیاج نہیں۔ لہذاء اب اجماع ہو یا نہ ہو جو بھی اس کا مخالف ہوگا وہ کافر ہے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی زمانے میں اجماع ہوا اور اس کے بعد کافر ہوگا اور اس سے پہلے خاطی۔ عزیزی یہ واضح و بدیہی غلطی ہے۔ 

اب اگر اصل علت کو دیکھیں تو ابن تیمیہ کے نزدیک ان پر اتمام حجت نہ تھی لہذاء ان کا تردو و اغلاط فقط خطاء کی جنس میں ہے اور متاخرین کے لئے وہ نوع کفر میں ہے۔ تو عزیزی یہی استدلال اگر ہم ان حضرات کے لئے پیش کردیں کہ شاید ان پر بھی اتمام حجت نہ ہوئی ہو اور ان کی تحقیق اتنی وسیع نہ ہو جب ہی ان کے قائل کو زیادہ سے زیادہ خاطی کا لقب دیا دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اصل علت ادھر خاطی کہنے کی یہ ہے کہ اس پر حجت قائم نہیں ہوئی۔

میں ایک بات پوچھتا ہوں کہ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ فلاں چیز از قبیل شرک تھی کسی نبی ص کی امت میں اور رسول ص کی امت میں وہ مستحسن ہوگئی، یا اس کے برعکس کوئی چیز کسی نبی ص کی امت کے لئے مستحسن تھی اور رسول ص کی امت کے لئے شرک و کفر۔ بات کا تعلق چونکہ عقیدے سے ہے اس لئے جو فتوی آخرین کے لئے ہوگا وہی متقدمین کے لئے بھی۔

خیر طلب عزیزی آپ نے کہا

نیز فتوی عالگیری کی عبارت کا تعلق بھی صرف معوذتین کے ساتھ ہے نہ کہ پورے قرآن پاک کے ساتھ،اور وہ بھی ایک قول ہے ،نیز تحریف و تغیر ایک الگ چیز ھے جب کہ کسی سورت کا انکار ایک الگ مبحث ھے عالگیریہ کا تعلق پہلے کے ساتھ ھے نہ کے دوسرے کے ساتھ

تبصرہ: عزیزی قرآن ایک کل حقیقت ہے جس کے اجزاء آیات، مختلف سورتیں ہیں ۔ اب بقول آپ کے جو قرآن میں نقص کا قائل ہو وہ کافر یا قرآن میں زیادتی کا قائل ہو وہ کافر۔ یہ ساری قبیل تحریف لفظی میں آتی ہے۔ یعنی جو چیز اصل مصحف میں موجود نہ تھی اس کا اضافہ کردیا گیا یا جو چیز اصل مصحف میں تھی اس کو نکال دیا گیا۔ اب معوذتین قرآن کی دو سورتوں کے مجوعہ کا نام ہے۔ جو اس کا انکار کرے گا کیا وہ اس بات کا بزبان حال اقرار نہیں کررہا ہے کہ قرآن میں زیادتی ہوئی ہے۔ اب یہ عجیب توضیح پیش کی گئی کہ تحریف و تغییر الگ چیزیں ہیں اور معوذتین کا معاملہ دیگر ہے۔ کیا معوذتین اتنی مظلوم ہیں کہ ان کے انکار پر کوئی مناظر اہلسنت نہ اٹھے؟ 

صاف کہہ دیجئے کہ چونکہ معوذتین کے منکر کو کافر نہیں کہا اور ایک کافر کو کافر نہ کہنا کفر ہے لہذاء قائل اس عبارت کی وجہ سے کافر ہے۔ ہم تو فقط یہی بات کررہے ہیں کہ محترم علماء اسلام میں اختلاف موجود ہے کہ آیا کفر کا فتوی لاگو ہوگا یا خطاء کا۔

خیر طلب  اگر یہ قول صحیح ھے تو نوری کی تناقضی فطرت کے کمال پر دال ہے ،کیونکہ اس میں نوری کہہ رھے ہیں کہ میرا مقصد اثبات حفاظت ھے اور پوری کتاب اثبات تحریف سے لبریز ھے ///

تبصرہ: عزیزی اگر طبعیت پر گراں نہ گزرے تو بات عرض کروں۔ یہ مسئلہ بہت واضح ہے کہ ہماری تحریر میں جو لطیف نکات ہیں اس سے اغماض کرکے فقط بعض باتوں کے جواب پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ محترم برادر یہ چیز ذھن میں رہے کہ موجودہ 'فصل الخطاب' طبع حجریہ نہیں بلکہ اہلسنت مکاتب کی چھاپ ہے۔ اب اس کتاب پر اعتبار کتنا کیا جائے یہ خود ایک اہم سوال ہے۔ میں تدلیس عن الثقات جو محدثین کے ہاں مجروح نہیں، اس تک سے احتزار کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ہمیشہ میں کافی حوالوں کو فقط اس لئے دے نہیں پاتا کیونکہ میرے پاس اصل کتاب موجود نہیں ہوتی، میری بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ اصل معتمد علیہ کتاب سے جس کے صحت پر اعتبار ہو اس سے استدلال و احتجاج کیا جائے، چنانچہ جس دن میرے پاس طبع حجریہ کا نسخہ موصول ہوگا اس وقت میں اس نہج پر ہوں گا کہ کوئی کلام کرسکوں۔ فصل الخطاب کے مندرجات کے بارے میں، میں نے اتنی قیل و قال دیکھی ہے کہ میں فی الحال کسی پر بالقطع اعتماد نہیں کرسکتا۔ اگرچہ میرے پیش نظر موجودہ نسخہ کتاب فصل الخطاب ہے جو طبع حجریہ نہیں۔

نیز اگر بات یہی ھے تو شیعہ علماء بے اس کے رد میں کتب کیوں لکھی؟

جواب: عزیزی شکر کریں کہ آپ نے مان لیا۔ اول تو یہی طعنہ دیا جاتا تھا کہ اس کتاب پر شیعہ واویلا نہیں کرتے بلکہ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آج ہم سرفخر بلند کرکے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ معیار ہمارے ہاں 'قرآن' ہے نہ کہ شخصیات۔ جواب کتاب لکھنا واضح ہے کہ اس کا نام تحریف پر دال ہے۔ اور اسماء کتب کے ایسے نام ہونا بعید نہیں۔ کچھ دن پہلے بندہ احقر کی نگاہوں سے 'بدعات صحابہ' نامی کتابچہ فیض احمد اویسی صاحب گزرا۔ تو یوں لگا کہ اس میں صحابہ کی تنقیص ہے لیکن جب مغز کتاب پر نظر پڑی تو مختلف پایا۔

خیر طلب /نیز آپ کا اسے رجوع کہنا عذر گناہ بدتر از گناہ کے قبیل سے ھے ،کیونکہ نوری نے رجوع نہیں کیا بلکہ اپنے کتاب کو غلط معانی پہناے کہ کتاب پوری اثبات تحریف پر مشتمل ھے اور نوری کہہ رھے ہیں کہ میں نے اس میں رد تحریف کیا ھے ،یقیناً تقیہ کے قایلین سے ہی ایسی تضاد بیانی کا صدور ھو سکتا ھے ،

تبصرہ: برادر عزیز جب خود شاگرد بات نقل کررہا ہے جو واقعی اوثق الناس فی زمانہ تھا تو مجھے جیسے بندہ کو شک کرنے میں گنجائش نہیں رہتی۔ میں نے پہلے بھی جواب دیا تھا جس پر شاید آپ نے اپنی توجہ کو مرکوز نہیں کیا یا کیا تو جواب الجواب دینے سے احتزار کیا۔ ہم نے واشگاف الفاظ میں نوری محدث کے قول سے ثابت کیا کہ ان کا موقف دیگر تھا۔ اگر بالفرض دو موقف میں تعارض بھی واقع ہو تو علماء اہلسنت کی منطق کے تحت ہم رجوع کے قول کو اول مانیں گے۔ ابن عباس کے بہت سارے فقہی مسائل میں یہ روش علماء اہلسنت رہی ہے۔ جب وہ ابن عباس کے دو متضاد اقوال کو پاتے ہیں تو وہ رجوع سے استفادہ کرتے ہیں۔ کیا یہ حق فقط آپ کا ہے یا ہمارا بھی۔ قارئین کی ذوق طبعیت کے لئے وہ کلام طویل ہم پھر سے نقل کئے دیتے ہیں تاکہ انکار و جحد کی گنجائش نہ رہے۔

علماء امامیہ کی کتب کا موسوعہ جمع کرنے والے اور شیخ محدث محمد نوری کے شاگرد بزرگوار آغا بزرگ طہرانی نے الذريعة إلى تصانيف الشيعة کے جز 16 ص 231 میں فصل الخطاب کتاب کے ذیل میں رقم طراز ہیں کہ 'جب علامہ محدث نوری کے جواب میں کتاب لکھی گئی تو علامہ نے اس کتاب کے جواب میں فارسی میں ایک رسالہ لکھا اور یوں گویا ہوئے:

صفحہ 22 از 29