تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 23 از 29

فكان شيخنا يقول: لا ارضى عمن يطالع (فصل الخطاب) ويترك النظر إلى تلك الرسالة.

یعنی میں اس بات پر راضی نہیں کہ کوئی شخص میری کتاب فصل الخطاب تو پڑھے اور اس رسالہ کا مطالعہ نہ کرے۔
اس رسالہ میں علامہ محدث نوری نے کہا:

ان الاعتراض مبنى عل المغالطة في لفظ التحريف، فانه ليس مرادى من التحريف التغيير والبديل، بل خصوص الاسقاط لبعض المنزل المحفوظ عند اهله، وليس مرادى من الكتاب القرآن الموجود بين الدفتين، فانه باق على الحالة التى وضع بين الدفتين في عصر عثمان، لم يلحقه زيادة ولا نقصان

یعنی یہ جو جملہ اعتراض کیا جارہا ہے وہ ایک مغلطہ کے تحت ہے جو لفظ تحریف میں پنہاں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے نزدیک اس لفظ سے مراد تغییر و تبدیلی نہیں، بلکہ بعض اہم منازل کا اسقاط ہے جو ان کے اہل کے ہاں تھی، اور میری مراد اس کتاب سے یہ ہمارے ہاتھوں میں موجود قرآن مجید نہیں، کیونکہ یہ وہی قرآن مجید ہے جو جناب عثمان کے عہد زمانہ سے اب تک بغیر کسی زیادتی و نقصان کے باقی ہے-
آگے ص 232 میں لکھا ہے کہ اس کتاب کا بہتر نام یہ ہونا چاہئے تھا فصل الخطاب في عدم تحريف الكتاب
اسی طرح شیخ بزرگ طہرانی شاگرد رشید نوری فرماتے ہیں اپنے استاد کے بارے می

وسمعناه من لسانه في أواخر أيامه فإنه كان يقول: أخطأت في تسمية الكتاب وكان الأجدر أن يسمى ب‍ (فصل الخطاب) في عدم تحريف الكتاب لأني أثبت فيه أن كتاب الاسلام (القرآن الشريف) الموجود بين الدفتين المنتشر في بقاع العالم - وحي آلهي بجميع سوره وآياته وجمله لم يطرأ عليه تغيير أو تبديل ولا زيادة ولا نقصان من لدن جمعه حتى اليوم وقد وصل الينا المجموع الأولي بالتواتر القطعي ولا شك لاحد من الامامية فيه فبعد ذا امن الانصاف أن يقاس الموصوف بهذه الأوصاف 

اور ہم نے ان کی زبانی زندگی کے آخری حصہ میں کہ میں نے اس کتاب کے نام رکھنے میں غلطی کی، زیادہ بہتر ہوتا کہ اگ میں اس کا نام (فصل الخطاب) في عدم تحريف الكتاب رکھتا کیونکہ اسلام کی کتاب قرآن مجید جو بین الدفتین موجود ہیں اور دنیا کے گوشے گوشے میں جلوہ افروز ہے، وہی وحی الہی ہے اپنی تمام سورتوں اور آیات سمیت، اور اس کی جمع آوری سے لے کر اب تک اس میں تغیر، تبدیلی، زیادتی اور نقصان نہیں۔ ا

اور یہ ہمارے پاس یہ تواتر قطعی کے توسط سے آیا اور اس میں سے کسی امامی شیعہ کو شک نہیں۔ اس کے بعد بحی لوگوں ان کو اس طرح کے اوصاف سے نوازتے ہیں-

حوالہ: مستدرك الوسائل ومستنبط المسائل، جز 1، ص 50، حاشیہ علامہ بزرگ طہرانی، تحقیق: موسستہ آل بیت

عزیزی۔ یہاں بر صراحت سے رجوع کہہ لیجئے یا عدم عقیدہ تحریف قرآن ثابت ہے، اور رجوع کے بعد کسی شخص پر پہلے گناہ کا الزام یا خطاء کا الزام دینا انصاف نہیں
 
خیر طلب ۔آپ کا یہ کہنا لیکن جہاں یہ حضرات ہیں تو وہاں مفتی شفیع، مفتی تقی عثمانی و دیگر علماء اہلسنت نے تشیع پر تکفیر سے پہلو تہی کی ہے ۔حلانکہ ان حضرات نے خود تکفیر شیعہ کے فتاوی جاری یے ہیں وہ الگ بات ھے یہ فتاوی مطلق کی بجاے مقید تھے کہ فلاں فلاں عقایدرکھنے والے شیعہ کافر ہیں اس میں تحریف کا عقیدہ بھی شامل ھے مانگیں گے تو لنک دوں گا۔///

تبصرہ: محترم۔ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم فتاوے کی عبارت نقل کردیں۔

چناچنہ مفتی شفیع رقم طراز ہے

روافض میں بہت مختلف العقائد و الخیال ہیں۔ اور اسی بناء پر ہمیشہ متقدمین و متاخرین علماء ان کے بارے میں مختلف رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ جو لوگ ایسا کوئی عقیدہ نہیں رکھتے صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دوسرے صحابہ پر افضل کہتے ہیں، وہ کافر نہیں البتہ اہلسنت سے خارج ہے اور تبرا کرنے والا شیعہ بھی صحیح قول یہ ہے کہ کافر نہیں فاسق ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبارات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ جو روافض قطعیات اسلام کے خلاف کوئی عقیدہ نہیں رکھتے وہ کافر نہیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ فاسق ہیں۔

حوالہ: فتاوی دار العلوم دیوبند، جلد دوم، از مفتی شفیع، ص ۴۲۳، ناشر: دار الاشاعت کراچی۔

اسی طرح شیعہ عورت سے نکاح کے بارے میں کہتے ہیں:

الغرض رافضی عورت سے بشرط مذکور نکاح صحیح نہیں۔

اس کو کہنے کے بعد علامہ شفیع عثمانی نے شامی سے ایک عبارت نقل کی جو رد المختار، جز ۴، ص ۲۳۷، طبع دار الفکر، تحت مَطْلَبٌ تَوْبَةُ الْيَأْسِ مَقْبُولَةٌ دُونَ إيمَانِ الْيَأْسِ میں بایں ہے:

وَذَكَرَ فِي الْمُحِيطِ أَنَّ بَعْضَ الْفُقَهَاءِ لَا يُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ. وَبَعْضُهُمْ يُكَفِّرُونَ الْبَعْضَ، وَهُوَ مَنْ خَالَفَ بِبِدْعَتِهِ دَلِيلًا قَطْعِيًّا وَنَسَبَهُ إلَى أَكْثَرِ أَهْلِ السُّنَّةِ،

تبصرہ: عزیزی یہاں پتا چلا کہ روافض کی تفکیر مطلقا نہیں ہے بلکہ اس میں تفصیل ہے۔ اس کی مزید منطقی توضیح عنقریب آئے گی۔

چنانچہ اس عبارت کو روافض کی شان میں لکھنا یقینا ان شرعی اہل قبلہ میں لے جانے کے لئے کافی ہے جو قطعیات کے منکر نہ ہوں۔

اب ہم حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانوی صاحب کے ایک فتوی کی طرف ملتفت ہوتے ہیں جس میں علامہ صاحب سے اس رافضی کے بارے میں جو صحابہ پر طعن کرتا ہے اور اہل اسلام سے مذھبی تعصب رکھتا ہے کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ تو علامہ صاحب جواب دیتے ہیں

بنا بر روایت مذکورہ و دیگر قواعد معروفہ مسلمہ جواب میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ رافضی عقائد کفر کے رکھتا ہے جیسے قرآن مجید میں کمی بشی کا قائل ہونا یا حضرت عائشہ صدیقہ رض پر تہمت لگانا یا حضرت علی رض کو خدا مانتا یا یہ اعتقاد رکھنا کہ جبرائیل علیہ السلام غلطی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وجی لے آئے تب تو کافر ہیں اور اس کا نکاح سنیہ سے صحیح نہیں اور محض تبرائی کے کفر میں اختلاف ہے علامہ شامی نے عدم کفر کو ترجیح دی ہے جلد ۳ ص ۴۵۳ مگر اس کے بدعتی ہونے میں کچھ شک نہیں تو اس صورت میں گو وہ کافر نہ ہوگا مگر بوجہ فسق اعتقادی کے سنیہ کا کفو نہ ہوگا۔

حوالہ: امداد الفتاوی، جلد دوم، کتاب النکاح، ص ۲۵۳-۲۵۴۔ ناشر: مکتبہ دار العلوم کراچی۔

صفحہ 23 از 29