تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 24 از 29

تبصرہ: ادھر بھی ہم نے دیکھا کہ روافض کو مطلقا کافر نہیں کہا گیا بلکہ تفصیل کی گئی اور چار عقائد کی بنا پر کفر کے مقید پر فتوی کفر ہے۔

دیوبندی عالم دین شیخ خالد سیف اللہ سنی شیعہ نکاح کے بارے میں رقم طراز ہے:

شیعہ حضرات کے مختلف فرقے ہیں، جن میں بعض کو مسلمان کہا جاسکتا ہے اور بعض پر علماء نے کفر کا فتوی لگایا ہے

حوالہ: کتاب الفتاوی، چوتھا حصہ، ص 356، کتاب النکاح، طبع زمزم پبلشرز۔

تبصرہ: ادھر بھی روافض کے بارے میں مطلقا تکفیر سے پرہیز کیا گیا۔

علامہ مفتی تقی عثمانی کا فتوی بھی واضح ہے جو روافض کی تکفیر کے عدم پر اور الامان میسج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس کا اعادہ ضروری نہیں۔

اس کے علاوہ علامہ ثناء اللہ امرتسری جنہیں ختم نبوت کے مولانا اللہ یار وسایا دیوبندی نے فاتح قادیان کہا اور اپنے آپ کو خاکپائے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کہا اور رحمتہ اللہ علیہ جیسے دعائیں کلمات سے نوازہ۔ انہوں نے ایک رسالہ قادیانیوں کے کفر کے اثبات میں لکھا اور اس کے ٹائٹل صفحہ پر شیعوں کو مسلمان لکھا۔ یہ رسال میری نظر سے گذرا تھا اگرچہ ابھی اس کا پورا حوالہ و سن اشاعت یاد نہیں۔ لیکن علامہ ابو وفا ثناء اللہ امرتسری نے ان ایک استیفتاء تیار کیا 'علمائے اسلام' کی خدمت میں جس میں مرزائیوں کے کفر کا ثبوت تھا۔ اس میں انہوں نے لاہور کے 'شیعہ سنی علماء' کے اقوال نقل کئے اور لکھنو کے شیعہ مجتہدین کے اقوال نقل کئے۔

حوالہ: فسخ نکاح مرزائیاں۔ ص 12 و ص 16 ایضا احتساب قادیانیت جلد 8 ص 454 و 458، ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان۔

تبصرہ: ادھر بالعموم مطلقا آپ کے ہاں کے فاتح قادیان نے شیعوں کو مسلمان لکھا۔

خیر طلب علامہ ابراہیم سیالکوٹی جن کے بارے میں مولانا اللہ یار وسایا ختم نبوت والے کہتے ہے کہ وہ مزاجا معتدل اور صالح طبعیت کے انسان تھے۔ ایک اچھے انسان کی تمام خوبیوں کے مالک تھے۔ حق تعالی نے ان کو خلوص و للھیت کی نعمت سے بھرپور نوازا تھا۔ علامہ ابراہیم سیالکوٹی رقم طراز ہے:

تو شہر میں منادی کرادی اور متشہر بھی کردیا کہ کوئی مسلمان مرزائیوں کے جلسے میں نہ جائے- ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ ان کے عقائد کفریہ کو چپ چاپ ہوکر سنیں۔ کیونکہ خدا ئے تعالی اور اس کا رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم ایسی مجالس میں شریک ہونے اور ان کی رونق کو بڑھانے اور کفریات کو خاموشی سے سننے سے منع فرماتے ہیں۔ دوسری طرف انحمن اہل حدیث نے کھلے میدان میں اپنا جلسہ منعقد کردیا۔ جس میں مقامی علماء حنفی اور کیا اہلحدیث اور کیا شیعہ سب بالاتفاق شریک ہوئے۔ کیونکہ مسائل قادیانیہ سب مسلمانوں کے خلاف ہیں۔

صفحہ 24 از 29