تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 25 از 29

حوالہ: کشف الحقائق ص ۳ نقلت من الاحتساب قادیانیت، جلد ۱۹، ص ۱۱۰، ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان۔

تبصرہ: ادھر بالعموم مسلمان تسلیم گیا گیا۔

مولانا لال حسین اختر جن کو 'مناظر اہلسنت' علامہ عبدالستار تونسوی دعائے رحمت کرتے ہیں اور مناظرہ باگڑسرگانہ میں اہلسنت کے علماء میں شریک تھے۔ وہ رقم طراز ہے:

چنانچہ ارتداد روکنے کے لئے جمعیت العلماء ہند، خلافت کمیٹی، مدرسہ عالیہ دیوبند، حنفی، اہلحدیث، اہلحدیث اور شیعہ جملہ مکاتب فکر کے مسلمان علماء، وزعما، آریہ سماج کے مقابلے میں میدان تبلیغ میں نکل آئے۔

حوالہ: احتساب قادیانیت، جلد اول، ص ۲۱، ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

تبصرہ: اہلسنت کے مایہ ناز عالم دین ایک ارتداد کو روکنے کے لئے جن شیعوں کو سہارا لے رہے ہیں ان کے مطلقا مسلمان ہونے میں کوئِی شک نہیں رہتا۔

ان زعماء و علماء اہلسنت جو متاخرین و معاصرین میں سے ہیں، ان کی تحقیق کو نقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بقول عبدالشکور لکھنوی و دیگر علمائے اہلسنت پچھلے زمانے کے علماء اہلسنت کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا مذھب شیعہ کے بارے تو ہم نے سوچا کہ متاخرین کا ہی حوالہ دے دیں۔ اب استدلال یوں کہ:

1 تحریف کا قائل کافر

2 سارے شیعہ کافر نہیں

نتیجہ: سارے شیعہ تحریف کے قائل نہیں

یہ آسان نتیجہ ہر کسی کے سمجھ میں آںے والا ہے۔ فیصلہ خود کریں۔

خیر طلب یعنی المختصر ہم نے 'وقت کی انتہائی قلت' کے باوجود آپ کی اہم باتوں پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ میں نے بطور مثال شیخ مفید اور شیخ یوسف البحرانی کی رائے پر اپنی جوابی رائے کا اظہار کیا ہے۔ باقی مزید باتیں بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن ہم نے سردست ان پوسٹ میں یہ ثابت کیا ہے

1۔ بعض علمائے اہلسنت کے مطابق اہل تشیع میں سے کوئی تحریف کا قائل نہیں اور اگر قائل بھی ہے تو فقط شاذ و نادر علماء۔

2۔ سنی علماء کا اقرار کہ تحریف کا قائل کافر نہیں بلکہ خاطی ہے اور کافر وہ ہے جس پر اتمام حجت ہوگئی جیسے ابن تیمیہ نے کہا لیکن ہم اس ہی طریق پر سوال کرتے ہے کہ یہی بات تو شیعہ علماء کے لئے سوچی جاسکتی ہے۔

3۔ سنی علماء میں سے بعض نے مطلقا اور بعض نے قیدا مسلمان کہا۔ یہ کل یا بعض کو مسلمان بتانا یہ غماز ہے کہ ان میں سے کل یا بعض تحریف قرآن کے قائل نہیں ورنہ قائلین تحریف کو کافر کہنے والے ہرگز بطور فرقہ مسلمان نہ کہتے۔

4۔ میری گذارش ہے برادر سمیع اللہ سے کہ اگر ممکن ہوسکے تو شخصیت شخصیت بات کریں، مذھب منسوب کرنے میں کبھی کبھی غلطی ہوجاتی ہے۔ 

باقی برادر مزید بہت کچھ لکھنا چارہا تھا لیکن سردست بہت ساری وجوہات کی بنا بر نہیں لکھ پایا۔ ایک وجہ وقت کی شدید تنگی ہے اور جب ہی آپ اتنی ساری چیزیں ہماری ٹائم لائن پر لکھتے ہیں لیکن عموما میں کسی کا جواب اس لئے نہیں دیتا کہ میرے پاس وقت نہیں۔ 

میں کوئی نام نہاد مناظر بھی نہیں جس کی دکان ہی چیلنج بازی ہی میں گذرے۔ کوئی موضوع رکھنا ہو تو رکھ لیں۔ مفتی زاہد و دیگر حضرات کو مدعو کریں اسکائپ پر تحریف پر بات کرلیں۔

Samiullah Jan محترم آپ کی تحریر نظر نواز ھوی ،اپنی عادت کے مطابق اگرچہ کافی طویل اور کچھ غیر متعلقہ مباحث پر بھی مشتمل تھی ،لیکن اسلوب علمی ہونے کی وجہ سے دل خوش ھوا، محترم سب سے پہلے تو میں ان عبارات پر معذرت کرتا ھوں ،جو آپ کی طبع خاطر پر گراں گزریں۔لیکن ایک وجہ سے اپنے آپ کو مجبور بھی پاتا ھوں ،جب آپ کے امام کامل مفید کی زبان سے خلفاے ثلاثہ کے بارے میں ایمۃ الضلال کے الفاظ پاتا ھوں یا خمینی جسے امام انقلاب اسلامی کی زبان سے حضرت عایشہ و دیگر صحابہ و تمام اہلسنت کے لیے اخبث من االکلب و الخنزیر کے الفاظ پاتا ھوں۔اب آپ فیصلہ کریں کہ آپ کے الفاظ میں یہ ایمہ "جلے بھنے سب و شتم رافضی"میں آتے ہیں یا نہیں؟
۲۔امام ابن تیمیہ و فتاوی عالمگیری کی عبارت پر مزید بحث نہیں کروں گا،کیونکہ بھر حال اس بات میں آپ کو بھی شک نہیں ھو گا کہ اہل سنت کے نزدیک با الاتفاق (یہ وہ متضاد اتفاق نہیں ھے جو تحریف کے بارے میں شیعہ کا ھے)کافر ھے ،اور خود جو فتوی آپ نے نقل کیے ہیں اس میں بھی قایل تحریف کو کافر کہا گیا ہے ،باقی ان عبارات سے آپ کا استدلال مختلف وجوہ کی بنا پر تام نہیں ھے ،مختصرا یہ کہ دعوی عام ھے اور دلیل خاص ھے ،و غیر ذلک من الو جوہ الدالۃ علی تزییف استدلالک وللہ اعلم با لصواب

Samiullah Jan ۳۔اب میں اصل مقصد کی طرف آتا ھوں ،محترم مفید کی عبارت سے متعلق میں صرف دو سوال کرتا ھوں ،
ایک یہ کہ شیخ مفید نے اپنی عبارت میں قرآن پاک جمع کرنے سے متعلق دو مخالف اجماع ذکر کیے ،ایک امامیہ کا ،دوسرا بقیہ تمام امت کے جملہ فرق کا ،اب اگر اس اجماع سے بقول آپ کے مراد یہ ھو کہ امامیہ صرف اس بات پر متفق ہیں کہ قران پاک ترتیب نزولی کے مطابق جمع نہیں ھوا اور نہ ہی اس میں منسوخ آیات شامل ہیں ،تو اس کا مطلب یہ ھوگا یہ بقیہ تمام امت کے فرق کا اتفاق ھے کہ قران پاک ترتیب نزولی کے مطابق جمع ھوا اور اس میں منسوخ آیات شامل ہیں ،کیا یہ مطلب درست ھوگا ؟(ہر گز نہیں کیونکہ تمام امت اس بات میں امامیہ کے ساتھ ھے )خلاصہ یہ کہ آپ اس عبارت میں اس اختلافی نقطے کی وضاحت کریں ،جو امامیہ و دیگر فرق امت کے درمیان اختلافی ھے ؟جس پر مفید نے دو مخالف اجماع نقل کیے ؟
دوسرا شیخ مفید نے کہا ھے کہ خالفوا فی کثیر "تو آپ ان کثیر مخالفتوں کی نشاندہی کریں جو خلفاے ثلاثہ نے کیں ،آپ نے ابھی تک صرف دو مخالفتیں نقل کی ہیں ،ایک ترتیب نزولی کے مطابق جمع نہ ھونا ،دوسرا منسوخ آیات شامل نہ ھونا ،بان دو کے علاوہ باقی مخالفتیں کیا ہیں ؟کیا صرف دو مخالفتوں پر کثیر کا اطلاق درست ھے ؟؟
باقی شیخ مفید کی جو دوسری عبارت آپ نے نقل کی وہ ا س باب کی نہیں ھے ،وہ دوسرے باب کی ھے ،جس پر بحث اس وقت آیگی جب مفید کے مسلک پر بحث کریں گے ،کیونکہ وہاں اس عبارت کے علاوہ بقیہ کافی قابل اعتراض مواد ھے ۔وسوف یاتی ان شاللہ

Samiullah Jan ۴۔آپ نے البحرانی کی عبارت پہ تبصرہ کیا ،جبکہ میری تحریر میں یہ تیسرے نمبر پر ھے ،العاملی کی عبارت جو دوسرے نمبر ھے ،شاید آپ نے قصدا چھوڑ دی ،کیونکہ اس کی کوی توجیہ ممکن نہیں ھے ،نہ عنوان کے اعتبار سے اور نہ معنون کے اعتبار سے کما انت اعلم بہا منی 
۵۔البحرانی کی عبارت کی توجیہ کا خلاصہ یہ ھے کہ آپ کے بقول یہاں مراد اختلاف قراءت ھے ،کما یدل علیہ عنوان البحث ،میں عبارت دو بارہ درج کرتا ھوں،البحرانی لکھتے ہیں:

صفحہ 25 از 29