تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 26 از 29

م اقول: ومما يدفع ما ادعوه ايضا استفاضة الأخبار بالتغيير والتبديل في جملة من الآيات من كلمة باخرى زيادة على الأخبار المتكاثرة بوقوع النقص في القرآن والحذف منه كما هو مذهب جملة من مشايخنا المتقدمين والمتأخرين۔
محترم اس عبارت میں دو چیزوں کے بارے میں اخبارہ کثیرہ کا ذکر ھے ایک اختلاف قراءت کے بارے میں وھو ھذا" ا استفاضة الأخبار بالتغيير والتبديل في جملة من الآيات من كلمة" دوسرا قران پاک میں حزف و کمی کے بارے میں وھو ھذا" زيادة على الأخبار المتكاثرة بوقوع النقص في القرآن والحذف منه كما هو مذهب جملة من مشايخنا المتقدمين والمتأخرين۔"اور اس دوسرے یعنی حذ ف فی القران و نقصہ کے بارے میں فرمایا ۔کما ھو مذھب جملۃ مشایخنا المتقدمین و المتاخرین ،یہی وجہ کہ اس عبارت سے متصل بعد لکھتے ہیں ،ومن الاول ۔۔۔۔۔۔۔اور اختلاف قراءت کی روایات نقل کیں ،بہت ساری روایات نقل کر کے آ گے لکھتے ہیں: واما اخبار القسم الثاني فهي اكثر واعظم من ان يأتي عليها قلم البيان في هذا المكان 

اگر آپ کی بات مان لیں کہ یہاں دونوں قسم کی اخبار سے مراد اختلاف قراءت ہے تو یہ ظاہر عبارت کے ایک تو بالکل خلاف ھے کیوا نکہ اختلف قراءت میں حزف و کمی کی بجاے تغیر و تبدیلی ھوتی ھے کما لا یخفی ،نیز اس میں یہ لازم آیگا کہ اختلاف قراءت جملہ مشایخ شیعہ متقدمین و متاخرین کا مذہب ھے ، حا لانکہ خود آپ اقرا کر چکے ہیں کہ ایک قراءت اکثر متقدمین و متاخرین شیعہ کا مسلک ھے اور البحرانی بھی اسی کو ثابت کر رھے ہیں ،فما جواب ھذا التناقض الازم من تاویلیک نیز اگر آپ کو اس پر اصرار ھے تو پھر الدر ر النجفیہ کی یہ عبارت ملاحظہ فرمایں اس صریح عبارت میں کیا تاویل کریں گے

اقول لا يخفى ما في هذه الأخبار من الدلالة الصريحة والمقالة الفصيحة على تحريف القرآن وبشكل واضح، ولو تطرق الطعن إلى هذه الأخبار على كثرتها وانتشارها لأمكن الطعن إلى أخبار الشريعة كلها كما لا يخفى إذا الأصول واحدة، وكذا الطرق والرواة والمشايخ والنقلة، ولعمري أن القول بعدم التغيير والتبديل لا يخرج من حسن الظن بأئمة الجور، وأنهم لم يخونوا في الأمانة الكبرى مع ظهور خيانتهم في الأمانة الأخرى التي هي أشر ضرراً على الدين علی ان ھذہ الا خبار لا معارض لھا کما عرف سوا مجرد الدعاوی الغاویہ القلیل الذی لا یخرج عن القیل و القال۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آگے لکھتے ہیں

وأما ما احتج به الصدوق في اعتقاداته وكذا المرتضى في جملة كلامه أوهن من بيت العنكبوت وإنه لأهون البيوت

سبحان اللہ کیا اب بھی کسی تاویل کی گنجایش رہ گی ھے ؟؟؟نیز الحدایق کی یہ عبارت بھی ملاحظہ فرمایں

وليس بالبعيد ان هذه القراءة كغيرها من المحدثات في القرآن العزيز، لثبوت التغيير والتبديل فيه عندنا زيادة ونقصانا. وان كان بعض اصحابنا ادعى الاجماع على نفي الاول، إلا ان في اخبارنا ما يرده ۲۹۱ /

۳محترم اب آپ بتایں کہ عندنا کا مطلب کیا ھوتا ھے کیونکہ عدم تحریف میں بھی تم لوگ صدوق کے عندنا کے الفاظ سے استدلال کرتے ھو، ان دونوں عندنا میں یقینا تعارض و تضاد یقینی ھے ؟ تو میرا مدعا تو ثابت ھوا

Samiullah Jan ۶۔اس کے علاوہ آپ بار بار یہ کہہ رھے ہیں کہ چونکہ فصل الخطاب کا طبع حجریہ نہیں ھے اور بقیہ طبعات ناقبل اعتبار ہیں تو میں آپ کو حجریہ کا لنک دیتا ھوں ،آپ اس کو پڑھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ نوری کا مقصد کیا تھا اور آغا بزرگ کا قول کتنی حد تک درست ھے 
لنک

۷۔باقی انہی عبارت پر ایک ایک کرکے ہم بحث کریں گے تا کہ ایک تو شیعہ کا مسلک بالکل منقح ھو جاے ،نیز جو عبارت آپ کے نزدیک بیان مذہب معلوم نہیں ھوتیں ،ان کی تعیین ھو جاے ،کیونکہ تعارض و تضاد سے شیعہ مسلک کی کتب مالا مال ہیں

کما اعترف الطوسی فی اول التھذیب 
الحمد لله ولي الحمد ومستحقه وصلواته على خيرته من خلقه محمد وآله وسلم تسليما ذاكرني بعض الاصدقاء أيده الله ممن أوجب حقه (علينا)(1) بأحاديث أصحابنا أيدهم الله ورحم السلف منهم، وما وقع فيها من الاختلاف والتباين والمنافاة والتضاد، حتى لا يكاد يتفق خبر إلا وبازائه ما يضاده ولا يسلم حديث إلا وفي مقابلته ما ينافيه، حتى جعل مخالفونا ذلك من أعظم الطعون على مذهبنا، وتطرقوا بذلك إلى إبطال معتقدنا، وذكروا أنه لم يزل شيوخكم السلف والخلف يطعنون على مخالفيهم بالاختلاف الذى يدينون الله تعالى به ويشنعون عليهم بافتراق كلمتهم في الفروع، ويذكرون أن هذا مما لا يجوز أن يتعبد به الحكيم، ولا أن يبيح العمل به العليم، وقد وجدناكم أشد اختلافا من مخالفيكم وأكثر تباينا من مباينيكم، ووجود هذا الاختلاف منكم مع اعتقادكم بطلان ذلك دليل على فساد الاصل حتى دخل(2) على جماعة ممن ليس لهم قوة في العلم ولا بصيرة بوجوه النظر ومعاني الالفاظ شبهة، وكثير منهم رجع عن اعتقاد الحق لما اشتبه عليه الوجه في ذلك، وعجز عن حل الشبهة فيه

نیز اکثر یہ ھوتا ھے کہ جب کسی شیعہ سے بات ھوتی ھے تو جھٹ ایک عبارت پیش کر دیتا ھے کہ ہمارا مذہب یہ ھے اور اس کے متعارض اقول سے پہلو تہی اختیار کرتا ھے ،مثلا صدوق کی عبارت ہر کوی عدم تحریف میں پیش کرتا ھے یہ نہیں جانتا یا قصدا غافل بن جاتا ھے کہ العاملی نے مراۃ الانوار میں اسے صدوق کا وہم کہا ھے ،الجزایری نے اسے تقیہ و مصالح پر محمول کیا ھے ،نوری نے اسے تقیہ کہا ھے نیز کھا ہے کہ شیخ صدوق نے ایسے امور کے بارے میں بھی اعتقادنا کھا ھے ،جو صرف چند لوگوں کا مذہب ھے اور مزید یہ تاویل کی ھے کہ شاید ان کی مراد علماء قم ھوں نہ کہ پوری جما عت شیعہ (فصل ص ۳۳)،اسی طرح البحرانی نے الدرر النجفیہ میں صدوق و مرتضی کے قول عدم تحریف کو کبیت العنکبوت کہا ہے،تو جب خود آپ کے محقیقین انہیں رد کرھے ہیں تو ہم پر کیسے حجت ھے۔

حمِّل كتاب " فصل الخطاب في إثبات تحريف كتاب رب الأرباب " للطبرسي

صفحہ 26 از 29