تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 27 از 29

لنک

Samiullah Jan ۸۔ آخری بات یہ ھے کہ آپ نے کھا ھے کہ نسبت مذہب مییں کبھی غلطی ھو جاتی ھے ،تو محترم ایسا کسی خاص فرد کے مسلک کے بیان میں تو ممکن ھے ،لیکن کسی مذھب کے بنیادی و اساسی اصول سے تو عوام بھی میں سے بھی کوی غافل نہیں ھوتا ،طہ جایکہ اہمہ معتبرین اپنے مذہب کے اساسی عقیدے کو سمجھنے میں اتنی بڑی غلطی کریں۔

Samiullah Jan امید ھے کہ آپ ان عبارات پر میری گزارشات کے ساتھ بقیہ عبارات پر بھی اپنی راے پیش کریں گے

Tariq Usmani کاش تمام مسلمان اپنے مسائل پر اسی خوش اسلوبی سے گفتگو کریں سلامت رھیں برادران۔۔

خیر طلب عزیزی سلام علیکم۔

برادر بڑی معذرت۔ مجھے واقعی بہت کم وقت ملتا ہے آنے کا اور جو وقت تھوڑا فارغ ملتا ہے اس میں دیگر دروس وغیرہ ہی پڑھ پاتا ہوں لہذاء تاخیر جواب کے لئے معذرت۔

دیکھیں چند باتوں پر جو مجھے آپ سے شکایت ہے وہ یہ کہ

اول: آپ کے محققین علماء سے اقوال نقل کئے گئے ہیں جو شیعوں کی تحریف کےا عتقاد پر دال ہیں۔ لیکن اس سے چشم پوشی کی جارہی ہے

دوم: ان علماء کے اقوال نقل کئے گئے جو تحریف قرآن کی تکفیر کے قائل ہیں لیکن شیعوں کو من حیث الکل کافر نہیں کہتے بلکہ مسلمانوں کے دائرے میں رکھتے ہیں تو عقلا نتیجہ یہی نکلا کہ شیعہ جو مسلمان ہیں وہ تحریف کے قائل نہیں
سوم: مجموع الفتاوی و فتاوی عالمگیری سے جو عبارات پیش کی گئی وہ دعوی خاص و دلیل عام وغیرہ کے لاحقے کے ساتھ اس کو رفع کیا جارہا ہے۔ حالانکہ قرآن کل میں سے اگر کوئی ایک آیت کی بھی کمی یا زیادتی کا قائل ہو وہ آپ کے نزدیک کافر ہے تو محترم یہ کلیہ ہر جگہ کا استعمال کردہ ہے۔
چہارم: ان علماء کا کیا کہنا جو تحریف کے عدم کے قائل ہیں شیعوں میں سے؟ کیا ان کی پیروی کرتے ہوئے اہلسنت خیر مقدم نہیں کرسکتے؟ لیکن اگر خبط تکفیر سوار ہو تو زبردستی ایک عقیدہ کو منسوب کرنا کوئی بعید بات نہیں۔
خیر طلب برادر یہ فصل الخطاب کا نسخہ میرے پاس موجود ہے لیکن فصل الخطاب کے اس نسخہ میں ٹائٹل ہی نہیں بلکہ اصل کتاب شروع ہورہی ہے۔ کیا اس میں تصریح کے نسخہ حجریہ ہے؟ دوم یہ کہ کراچی میں ایک لائبریری میں بندہ احقر جایا کرتا تھا جو بالکل یہی نسخہ کی مانند فصل الخطاب کو دیکھا لیکن ناشر کا نام ہی مفقود ہے ٹائٹل پر سے۔ باقی ہماری جو پیش کردہ فصل الخطاب پر عرائض ہیں ان سے صرف نظر نہیں کی جاسکتی۔
خیر طلب شیخ مفید کی عبارت کا کافی تشفی بخش جواب دیا جاچکا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے کچھ قضیوں کے ذھن میں رکھیں
تالیف قرآن سے مراد کیا؟
ابن حجر رقم طراز ہے

قوله : ( باب تأليف القرآن ) أي : جمع آيات السورة الواحدة ، أو جمع السور مرتبة في المصحف 

بخاری کا 'باب تالیف قرآن' کہنا یعنی ایک ایک سورت کی آیات کو جمع کرنا یا سوروں کو مصحف شریف میں ترتیب وار جمع کرنا۔

حوالہ: فتح الباری، جز 9، ص 36، مطبوعہ دار المعرفہ۔

دوسرا قضیہ کیا ترتیب قرآنی منصوص ہے؟

اس کا جواب ہم شیخ ابن تیمیہ کی کتاب کی روشنی میں لیتے ہے۔ شیخ فرماتے ہے

وَالْقُرْآنُ فِي زَمَانِهِ لَمْ يُكْتَبْ وَلَا كَانَ تَرْتِيبُ السُّوَرِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ أَمْرًا وَاجِبًا مَأْمُورًا بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ بَلْ الْأَمْرُ مُفَوَّضٌ فِي ذَلِكَ إلَى اخْتِيَارِ الْمُسْلِمِينَ. وَلِهَذَا كَانَ لِجَمَاعَةِ مِنْ الصَّحَابَةِ لِكُلِّ مِنْهُمْ اصْطِلَاحٌ فِي تَرْتِيبِ سُوَرِهِ غَيْرُ اصْطِلَاحِ الْآخَرِ

قرآن رسول س کے زمانے میں مدون یا کتاب کی صورت میں نہ تھا۔ اور ترتیب سورہ قرآن بھی ایسی نہیں تھی جسیے اب ہے یعنی من حیث الحکم الوجب خدا کی طرف سے۔ بلکہ یہ ترتیب سورہ کا کام مسلمانوں کی دانست کو تفویض کردیا گیا تھا۔ جب ہی آپ دیکھتے ہیں کہ ہر صحابی کا طریقہ کار ترتیب دوسرے سے مختلف ہوتی تھی۔

حوالہ: مجموع الفتاوی، جز 22۔ ص 353، طبع سعودیہ
صفحہ 27 از 29