تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 3 از 29

یہ صرف چند نمونے ہیں اب آپ انصاف سے بتایں کہ ان صریح اقوال کی کیا توجیہ کی جائے، آپ کے مسلک والوں نے تو نوری الطبرسی کو بھی بڑے اعزاز کے ساتھ نجف اشرف میں دفن کیا اور اسے خاتم المحدثین کا لقب دیا حالانکہ وہ واضح صراحت کے ساتھ تحریف کے قائل تھے اور اس کے اثبات پر ضخیم کتاب لکھی۔
خير طلب :امید ہے آپ بخیر و عافیت سے ہوں گے۔ برادر محترم اگر واقعی بحث و مناظرہ کرنا ہو تو ہم حاضر ہیں البتہ فی الحال ان اعتراضات کے جوابات دینے سے پہلے ایک بات کی توضیح کرلوں
اول: کیا قرآن میں نقص یا زیادتی کا قائل جو اپنی تحقیق کے بعد ہوا ہو،، اس پر کفر کا فتویٰ لگانا چاہئے؟ کیا اہلسنت علماء کا اس پر تکفیر کرنے کا 'اجماع' ہے۔؟ شیخ ابن تیمیہ الحرانی کو ذھن میں رکھ کر جواب دیجئے گا
دوم: کیا ایک دو اشخاص کی آراء پورے مذہب کی متفقہ رائے تصور کی جاتی ہے، شیخ امداد اللہ مہاجر مکی کو ذہن میں رکھ کر جواب دیجئے گا۔
سوم: ان علماء اہلسنت محققین کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جنہوں نے تشیع پر سے تحریف کے اتہام کو مردود قرار دیا۔ علامہ رحمت اللہ و افغانی کو ذہن میں رکھ کر جواب دیجئے گا۔
چہارم: ان شیعان حیدر کرار کے بارے میں آپ کا کیا فیصلہ ہے جو امت کے ساتھ عدم تحریف قرآن کے عقیدہ کو برحق سمجھتے ہیں۔ ان کی مساجد، لائبریری،گھر، اسکول میں وہی قرآن محترم و مقبول ہے جو بین الدفقین رائج ہے۔
پنجم: ان اکابرین و سلف کے بارے میں کیا کہنا ہے جو معوذتین کو محذوف مانتے یا سورہ حفد و سورہ خلع یا آیت رجم کو قرآن کا حصہ مانتے؟ جو قرآن میں بعض الفاظ کو کاتب کی غلطی قرار دیتے ہیں۔
خير طلب :محترم ان شاء اللہ ان سوالات کے جوابات کے تناظر میں ہم جلد آپ کی پیش کردہ تنقیحات کی طرف آئیں گے۔ محترم چونکہ مقصد مناظرے کا یا بحث کا مقصد صواب و حق کی نشاندہی ہوتا ہے۔ اس لئے روایتی مناظرہ بازی سے بالاتر ہوکر ہمیں مستفید کیجئے گا۔
ترم آپ کی مہذب سنجیدہ گفتگو سے میں بہت متاثر ھوا ،اور یقیناً ایسے مسائل کا سنجیدہ انداز میں ہی حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ مقصد شیعہ یا سنی ہونا نہیں ہے بلکہ ایک سچا مسلمان بننا ہے جو عقائد و اعمال میں آپﷺ کا متبع ہو۔ اب میں آپ کے امور خمسہ پر تبصرہ کرنا چاہوں گا۔

امر اول ۔قرآن پاک اللہ کی آخری نازل کردہ کتاب ہے اور سب کو پتہ ہے کہ اس کتاب کے بعد نہ کوئی وحی آئے گی اور نہ کوئی کتاب ، یہی اب قیامت تک انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے ۔اب جو بندہ اس میں کمی بیشی کا قائل ہوا تو آپ بتائیں کہ وہ اس کے ضمن میں کتنی باتوں کا قایل ہوا۔

 ¹۔اللہ کا آخری پیغام چونکہ مکمل محفوظ نہیں ہے اس لیے اس کے ذریعے انسانیت کے مکمل فلاح کا دعویٰ بے کار ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ اہم ترین چیزیں غائب ہوگئی ہوں۔

   ²۔اللہ کو جب پتا تھا کہ یہ کتاب محفوظ نہیں رہ سکے گی تو پھر نبوت کا دروازہ کیوں بند کر دیا ؟

³۔اللہ نے انا لہ لحفظون میں اس کی حفاظت کا وعدہ کیا لیکن یہ تو محفوظ نہیں رہ سکا تو اب جو رب اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکا اسے رب ماننے کی حیثیت کیا ہو گی؟

⁴۔آپﷺ کو سب سے آخر میں مبعوث کیا گیا تاکہ آخری دین کو انسانیت تک سب سے احسن انداز میں پہنچائے لیکن آپﷺ  تئیس برس میں کوئی ایسا آدمی تیار نہیں کر سکے جو کم از کم آپ کے دین کی بنیادی کتاب ہی کی حفاظت کر سکے تو پھر آپ کی تربیت و تبلیغ و رسالت کی افضلیت و کاملیت کا کیا جواز رہ سکے گا

⁵۔ جب اس دین کے بنیادی مصدر کی حفاظت نہیں ہو سکی اور اس کے بانی کے اٹھتے ہی اس میں تبدیلیاں ہو گئیں تو اب تیرہ سو برس میں اس میں کتنی تبدیلیاں ہوئی ہونگی اس کا کیا کوئی شمار کر سکتا ہے ؟

محترم یہ اور اس جیسے بے شمار سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اگر ایک لمحے کے لیے بھی تبدیلی کا قول اپنایا اور اس دین کی جس حیثیت و افضلیت و کاملیت کا ہم دعویٰ کرتے نہیں تھکتے وہ خس و خاشاک ہو جائے گا ،اس لیے اس دین کی مجموعی حیثیت کو دیکھتے ہوئے قائل تحریف اور اسلام کو جمع کرنا کسی طرح سے ممکن نہیں ہے کیونکہ اس میں صرف اختصار ایک نص کی نہیں ایسے بے شمار نصوص کی تکذیب لازم آتی ہے ،جن کی طرف کچھ اوپر اشارہ ہو گیا ،لہٰذا اہلِ سنت و الجماعت کا بنیادی و اساسی اصول ہے کہ قرآن ہر قسم کی کمی بیشی سے پاک ہے اور وہ آدمی کافر ہے اور صریح نصوص کا مکذب ہے جو تعریف کا مدعی ہو ، یہی وجہ ہے اہلِ سنت کے علماء ہر اسی روایت کی تاویل کرتے ہیں جن سے تحریف  کا وہم ہوتا ہو، باقی ابن تیمیہؒ کی کس عبارت اور فتویٰ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں اگر آپ اسے پیش کردیں تو اس وقت ہی اس سے متعلق کچھ عرض کیا جا سکتا ہے اس وقت تو شیخ کی کتاب الصارم  المسلول کا یہ حوالہ پیش خدمت ہے۔

قال شيخ الإسلام ابن تيمية: وكذلك من زعم منهم أن القرآن نقص منه آيات وكتمت أو زعم أن له تأويلات باطنة تسقط الأعمال المشروعة ونحو ذلك، وهؤلاء يسمَّون القرامطة والباطنية، ومنهم التناسخية، وهؤلاء لا خلاف في كفرهم. انظر: الصارم المسلول. (3/ 1108 -1110).،باقی امور آئندہ کسی اور مجلس میں

 ٹھیک ھے پھر میں صرف آپ کے کمنٹس کے جواب دینے کا پابند ہوں گا۔اب آپ کے امر دوم سے متعلق گزارشات :

آپ نے لکھا تھا: کیا ایک دو اشخاص کی آراء پورے مذہب کی متفقہ رائے تصور کی جاتی ہے، شیخ امداد اللہ مہاجر مکی کو ذہن میں رکھ کر جواب دیجئے گا۔ محترم یقینا ایک دو افراد کی آراء پورے مذہب کی متفقہ رائے نہیں سمجھی جاتی ، لیکن اولا کیا تحریف کے مدعی مذہب شیعہ میں سے صرف ایک دو افراد ہیں؟ 

کیا آپ اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ تحریف کے مدعی صرف چند افراد ہیں ؟

صرف نوری نے دو درجن کے افراد ذکر کیے ہیں اور وہ سارے وہ افراد ہیں جن کی مدح سے کتب رجال بھری پڑی ہیں؟؟

ثانیا دستور یہ ہے کہ جب مذہب میں سے کچھ لوگ عمومی مسلک کے بنیادی اصولوں سے ہٹ کر رائے اختیار کریں تو مذہب کے علماء اس سے برأت ظاہر کرتے ہیں اس کے بارے میں گمراہی یا کفر کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں ،آپ کو علم ہوگا کہ جب سر سید احمد خان نے قرآن کی صرف معنوی تحریف کا ارتکاب کیا تو علماء نے اپنے فتووں میں اس کا کیا حشر کیا؟

صفحہ 3 از 29