تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 4 از 29

لیکن آپ پوری تاریخ شیعہ میں قائلین تحریف کے بارے میں اہل تشیع کی جانب سے کفر یا خطرناک گمراہی کا کوئی ایک فتویٰ دکھا سکتے ہیں ،کیا کبھی کیسی شیعہ عالم نے ان افراد سے براءت کا اعلان کیا ہے ؟

آپ کے مسلک والوں کا تو حال یہ ہے کہ نوری نے فصل الخطاب میں کتنے زور سے تحریف کی صداء بلند کی اور وہ تاریخ اسلام میں وہ واحد شخصیت ہے جس نے تحریف قرآن کا صرف عقیدہ اختیار نہیں کیا بلکہ اس کے اثبات پر ایک ضخیم کتاب لکھی (اگرچہ شیعہ تاریخ میں مزید کتب بھی لکھی گی لیکن بعض ہل تشیع کے انکار کی وجہ سے صرف اس کا ذکر کیا)لیکن اہل تشیع نے اسے کافر تو کجا گمراہ بھی نہیں کہا بلکہ اس کے بارے میں عباس القمی نے الکنی و الالقاب میں ، آغا بزرگ نے اعلام الشیعہ میں جو اوصاف ذکر کئے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے دیکھیں۔

(الشيخ الأجل ثقة الإسلام والمسلمين، مروج علوم الأنبياء والمرسلين والأئمة الطاهرين عليهم السلام، الثقة الجليل، العالم الكامل، النبيل المتبحر الخبير، المحدث الناقد البصير، المدقق، المنقب، ناشر الآثار، وجامع شمل الأخبار، صاحب التصانيف الكثيرة والمؤلفات الشهيرة والعلوم الغزيرة، الباهر بالرواية والرافع لخميس المكارم أعظم راية، وهو أشهر من أن يذكر، أما علمه فأحسن فنه الحديث، وعلم الرجال، والإحاطة بالأقوال وشدة تبحره في العلوم والأخبار والسنن والآثار)

بلکہ مردود کے مرنے کے بعد اسے بڑے اعزاز سے نجف اشرف میں دفن کیا جسے اشرف البقاع کیا گی۔

ثالثا جن افراد نے تحریف کا دعویٰ کیا انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ صرف میری ذاتی اور انفرادی رائے ہے بلکہ انہوں نے اسے پورے مذہب شیعہ کی طرف منسوب کیا یہ دیکھیں آپ کے دو بڑے محقق کیا کہتے ہیں

²۔گیارہویں صدی کے معروف شیعہ محقق و مفسر ابو جعفر محمد بن الحسن الحر العاملی جنہیں شیعہ علماء افضل المتبحرین و شیخ المحدثین کے لقب سے یاد کرتے ہیں،اپنی تفسیر  مراۃالانوارو مشکاۃ الاسرار"

کے مقدمے میں تحریف قرآن کے مسئلے پر مفصل بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

وعندی فی وضوح صحۃ ہذالقول بعد تتبع الاخباروتفحص الاثاربحیث یمکن الحکم بکونہ من ضروریات مذہب التشیع و انہ من اکبر مفاسد غصب الخلافۃ(۴) صحفہ ۴۹

ترجمہ:میرے نزدیک آثار و روایات کے تتبع و جستجو کے بعد اس قول (تحریف قرآن )کی وضاحت وصحت اس درجے میں ہے کہ یہ شیعہ مذہب کی ضروریات میں شمار ہوتا ہے اور خلافت کو غصب کرنے کے مفاسد میں سے یہ سب سے بڑا مفسدہ ہے (کہ قرآن پاک میں تحریف ہوگئی)
³۔بارہویں صدی کے مشہور شیعہ عالم یوسف البحرانی اپنی معروف و ضخیم کتاب  جملۃ من مشائخنا المتقدمین والمتاخرین(۵)۱۰۳

۔محترم پہلے ان دو ’’حدائق الناظرہ فی احکام العترۃ الطاہرۃ‘‘

میں لکھتے ہیں:

ثم اقول مما یدفعوہ ایضاً استفاضۃ الاخباربالتغییر و التبدیل فی جملۃ من الایات من کلمۃباخری زیادۃعلی الاخبار المتکاثرہ بقوع النقص فی القرآن و الحذف منہ کما ھو مذہ مور

پر جو گزارشات میں نے پیشکیں آپ اگر اب ان پر تبصرہ کریں تو پھر اگے امر کی طرف بڑھیں گے
امر سوم آپ نے لکھا ہے کہ جن علماء اہلِ سنت نے شیعہ سے عقیدہ تحریف کے اتہام کو دور کیا ان کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے ،تو عرض یہ ہے کہ دنیا کا اصول ہے کہ ہر میدان کے شاہسوار الگ الگ ھوتے ہیں ،تو دراصل اس میں یہ دیکھنا چاہیے کہ جو علماء اس کے منکر ہیں وہ کس میدان کے فرد ہیں ؟

کیا تردید شیعییت ان کا مشن تھا یا وہ دراصل دوسرے میدوانوں کے آدمی تھے؟

تو سامنے یہ بات آتی ہے کہ یہ عموماً ان علماء کا قول ہے جن کا اصل موضوع شیعیت نہیں تھا ، چنانچہ رحمت اللہ کیرانوی صاحب عسائیت کی تردید کے آدمی تھے ،جب کہ شمس الحق صاحب کا بھی اصلی موضوع تردید شیعیت نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ جب مولانا تونسوی صاحب نے افغانی صاحب کو اس عقیدے کی تفصیلات سے اگاہ کیا تو افغانی صاحب نے اس سے رجوع کیا (بحوالہ نقوش زندگی سوانح حضرت تونسوی)اس لئے اس حوالے سے ان علماء کی بات معتبر ہوگی جن کا موضوع شیعیت تھا ، جسیے حضرت لکھنوی ، حضرت قاضی مظہر حسین وغیرہ،لہٰذا ہم ان علماء کے انکار کو قلت تتبع کتب شیعیت پر محمول کرتے ہیں ، اور لکل فن رجال اس معاملے میں ان افراد کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہیں ،جنہوں نے پوری زندگی کتب شیعہ کی ورق گردانی میں گزاری۔
 امر چہارم ،آپ نے لکھا تھا
چہارم: ان شیعان حیدر کرار کے بارے میں آپ کا کیا فیصلہ ہے جو امت کے ساتھ عدم تحریف قرآن کے عقیدہ کو برحق سمجھتے ہیں۔ ان کی مساجد، لائبریری،گھر، اسکول میں وہی قرآن محترم و مقبول ہے جو بین الدفقین رائج ہے۔ 

وہ شیعہ حضرات جو عدم تحریف کے مدعی ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پم قرآن پاک میں کسی قسم کی تحریف کے قایل نہیں ہیں،وہ اس بارے میں چند وضاحتیں کریں

:اولاً عدم تحریف کا عقیدہ شیعہ مذہب کی ضروریات مسلک میں سے ہے ، اور کیا ایک قطعی و ضروری عقیدہ ہے؟

ثانیاً جو لوگ تحریف کے قائل ہیں ، تو ان کا حکم کیا ہے ،کافر ہیں یا نہیں؟

ثالثاً یہ بات متفقہ ہے کہ اس وقت جو قرآن پاک امت میں رائج ہے ،اس کا اولین نقش حضرت ابوبکرؓ کاجمع کردہ ہے اور ثانی اور آخری نقش حضرت عثمان کا جمع کردہ ہے ،تو ان جامعین قرآن کا کیا حکم ہے ،آپ کے مذہب کے مطابق تو وہ کا کافر ہیں،چنانچہ مجلسی لکھتے ہیں ::

الاخبار الدالة على كفر أبي بكر وعمر وأضرابهما وثواب لعنهم والبراءة منهم، وما يتضمن بدعهم أكثر من أن يذكر في هذا المجلد أو في مجلدات شتى،(بحار)

توکیا یہ ممکن ہیں کہ یہ حضرات جب کافر تھے اور انہوں نے امامت سے متعلق نصوص بھی چھپاے تو انہوں نے قرآن پاک میں ایک حرف کی کمی بیشی کییے بغیر مکمل جمع کیا؟نیز یہ بات عقل سے بھی بعید ہے کہ ایک آدمی ہر اعتبار سے آپﷺ کے دین کا دشمن ہو لیکن اس دین کے بنیادی مصدر کی حفاظت کا نہ صرف اہتمام کرے ،بلکہ اسے بلا کسی تبدیلی کے جمع بھی کرے ؟

رابعاً جن لوگوں نے یہ عقیدہ پورے مذہب تشیع کی طرف منسوب کیا ،ان کے اس قول کی حقیقت کیا ہے  ؟وہ مدعی تھے کہ قرآن پاک میں کمی بیشی شیعہ مذہب کا عقیدہ ہے اور آپ کہتے ہیں کہ عدم تحریف شیعہ مذہب کا عقیدہ ہے تو اس عظیم تعارض و تناقض کا حل پیش کردیں؟

صفحہ 4 از 29