تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 6 از 29

لنک

اس کے علاوہ اردو قارئین علامہ سید علی نقی نقوی جن کی تصویر میری پروفائل پر لگی ہوئی ہے، ان کی ایک مختصر اور جامع کتاب سے مستفید ہوسکتے ہیں
لنک

ان تمام کتب سے اگر استفادہ نہ کرسکیں تو ہم نے جو تفاسیر لکھی ہیں اس کے مقدمہ میں جو ابحاث موجود ہیں اس کا مطالعہ کریں بالخصوص متاخر علماء کیں۔ چونکہ ہمارا تعلق برصغیر سے ہے اور اردو ہماری زبان ہے اس لئے فقط دو تفاسیر کی طرف اشارہ کروں گا:
علامہ حسین بخش جاڑا کی تفسیر انوار النجف فی اسرار المصحف جو پندرہ جلدوں پر ہے اس کی پہلی جلد کا لنک یہ رہا
لنک
علامہ سید علی نقی نقوی مجتہد فی عصرہ کی تفسیر 'فصل الخطاب' ہے اس کا لنک فی الحال میرے پاس نہیں لیکن اس کا مقدمہ بہترین ہے۔ یہ کتاب بندہ احقر کے پاس گھر میں موجود ہے اس لئے اگر ثقہ سمجھیں تو یقین کرلیں ورنہ انتظار کرلیں کہ یہ ویب سائٹ پر آپلوڈ ہوجائے تو پھر استفادے میں آسانی ہو۔
تمام برادارن و خواہران سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ اگر واقعی مقصد احقاق حق و تحقیق حق ہے تو ہمارے نقطہ نظر ہمارے منہ و قلم سے سنیں تو بہتر ہے کیونکہ استاد/مناظر/علامہ وغیرھم کی غلطیوں کا احساس عموما جب ہوتا ہے جب بندہ دوسروں کی بھی سنتا ہے اور پھر عقل و خرد کا استعمال کرکے فیصلہ کرتا ہے

إعلام الخَلف بمن قال بتحريف القرآن من أعلام السّلف

لنک

فصل الأول : الشيعة الإمامية وتحريف القرآن - فصل الثاني : أهل السنة وتحريف القرآن - الفصل الثالث : الله عز وجل صان القرآن على يد الشيعة

اب ہم دوسرے نکتہ کی طرف آتے ہیں اور بالترتیب دو ایسے حوالے جات پیش کرتے ہیں جو ضیافت طبع کے لئے کافی اہم ہوں گے اور اسی حوالے جات نقل کرنے میں بعض ضمنی باتوں کا بھی جواب آ جائے گا۔
محترم میرے پیش نظر

'النقد التحلیلی لکتاب فی الادب الجاھلی'

 جو ہمارے سلفی براداران یعنی وہ حضرات جن کا سلسلہ محمد بن عبدالوھاب نجدی سے ملتا ہے اور جن کے عقائد کو علامہ رشید احمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں عمدہ لکھے ہیں، ان کے مکتب سے یہ کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس کے مصنف 'محمد احمد الغمراوی' ہے اور اس کے مقدمہ کو علامہ مشرق 'امیر شکیب ارسلان' ہے۔ چنانچہ وہ مقدمہ میں یوں رقم طراز ہوتے ہیں

وان بعض الغلاة من الشيعة لا جمهورهم يزعمون ان القران الكريم ايضا حذف منه و اضيف اليه 

یعنی شیعوں میں سے بعض حد سے بڑھ جانے والے افراد نے نہ کہ جمہور نے قرآن کریم میں نقصان اور زیادتی کا دعوی کیا ہے-

حوالہ: النقد التحلیلی لکتاب فی الادب الجاھلی، مقدمہ، ص لا، طبع سلفیہ، قاہرہ، ۱۳۴۸ ہجری۔

لنک

لنک


تبصرہ: ہم علامہ شکیب ارسلان کی رائے سے من حیث الکل متفق نہیں لیکن استدلال کے لئے نقل کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ جمہور کا عقیدہ بالکل مختلف ہے اس عقیدے سے جو پورے مکتب سے منسوب کیا جاتا ہے-
دوسری شہادت شیخ ازھر کے مشہور استاد شیخ محمد غزالی کی ہے جو یوں گویا ہوتے ہے:

[ سمعت واحداً من هؤلاء يقول في مجلس علم: إنّ للشيعة قرآنا آخر يزيد وينقص عن قرآننا المعروف فقلت له: أين هذا القرآن ؟ إنّ العالم الإسلامي الذي امتدّت رقعته في ثلاث قارات ظلّ منذ بعثة محمد (ص) الى يومنا هذا بعد أن سلخ من عمر الزمن أربعة عشر قرناً لا يعرف إلا مصحفاً واحداً مضبوط البداية والنهاية، معدود السور والآيات والالفاظ، فأين هذا القرآن الآخر ؟! ولماذا لم يطّلع الإنس والجن على نسخة منه خلال هذا الزمن الطويل ؟! لماذا هذا الافتراء ؟ ولحساب من تفتعل هذه الاشاعات وتلقى بين الأغرار ليسوء ظنّهم باخوانهم وقد يسوء ظنّهم بكتابهم.إنّ المصحف واحد يطبع في القاهرة فيقدسه الشيعة في النجف أو في طهران ويتداولون نسخه بين أيديهم وفي بيوتهم دون أن يخطر ببالهم شيء البتة، إلا توقير الكتاب ومنزّله - جل شأنه - ومبلّغه (ص)، فلم الكذب على الناس وعلى الوحي ... ؟ ومن هؤلاء الأفاكين من روّج أن الشيعة أتباع علي ، وان السنيين اتباع محمد ، وأن الشيعة يرون عليا أحق بالرسالة ، أو أنها أخطأته الى غيره ! وهذا لغو قبيح وتزوير شائن 

چونکہ برادر محترم آپ عربی سے واقف ہیں اس لئے آپ کے گوش گذار کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن قارئین کے فہم کے لئے ہم اس کا خلاصہ پیش کر دیتے ہیں کہ علامہ محمد غزالی نے ایک محفل میں یہ سنا کہ شیعہ قرآن میں زیادتی و نقصان کے قائل ہے تو اس کے جواب میں شیخ غزالی گویا ہوئے کہ پھر وہ قرآن کہاں؟ جب کہ عالم اسلام میں چودہ سو سال سے فقط ایک مضبوط مصحف واحد کی طرف مراجعت ہوتی جس کے سورے و آیات معیین ہیں، اور اگر وہ دوسرا مصحف موجود بھی ہے تو انسان و جن اس سے استفادہ کیوں نہیں کرتے؟ بھلا اس کذب و جھوٹ و افترا کا کیا مقصد کہ شیعوں کا الگ قرآن ہے؟ یہی وہ قرآن ہے جو طہران، نجف قاہرہ ہر جگہ ایک جیسا ہی ملے گا۔ اور ایسی بات کرکے لوگ وحی الہٰی پر کذب منسوب کرنے میں بھی نہیں ڈرتے الی الاخر کلامہ۔۔۔۔

حوالہ: دفاع عن العقيدة والشريعة ضد مطاعن المستشرقين، ص ۲۱۹-۲۲۰، طبع دار نهضة مصر، ۲۰۰۵ الطبعة السابعة
لنک
صفحہ 6 از 29