تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 7 از 29

لنک

لنک

عزیزی یہ کلام جمیل واقعی بہت ساروں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ہمارے پاس علماء برصغیر کی مزید حوالے جات ہیں لیکن فی الحال ان دو پر اکتفاء کرتے ہیں اور اکثریت کے عقیدے تحریف و دیگر موضوعات کے ابطال کے لئے یہ کافی ہے۔
محترم اب ہماری پچھلی پوسٹ سے مربوط ہی ایک اعتراض جو آپ نے کیا اس کا جواب ملاحظہ ہو:
دنیا کا اصول ہے  کہ ہر میدان کے شاہسوار الگ الگ ہوتے ہیں ،تو دراصل اس میں یہ دیکھنا چاہیے کہ جو علماء اس کے منکر ہیں وہ کس میدان کے فرد ہیں؟ کیا تردید شیعییت ان کا مشن تھا یا وہ دراصل دوسرے میدانوں کے آدمی تھے؟
عزیزی میٹھا میٹھا ہپ اور پیکھا پیکھا تھو والی مثال صادق ہے۔ محترم انہوں نے سرسری طور پر نہیں لکھا بلکہ اس کے پیچھے علمائے امامیہ کی رائے کو نقل کیا ہے، جو تحقیق پر دال ہے۔ ہم کوئی حوالہ ہوا میں تیر چلانے کے طریق پر نہیں دیتے بلکہ تحقیق و صفحات کے تصفح کے بعد دیتے ہیں، ہماری پیش نظر وہ کتب ہیں۔ غلام دستگیر قصوری جن کی تعریف 'مجلس ختم نبوت' کے علامہ اللہ وسایا صاحب نے کی ہے، وہ بھی تشیع سے اس عقیدے کی نفی کرتے ہیں۔ علامہ رحمت اللہ کیانوی بھی اس عقیدے کی تشیع سے نفی کرتے ہیں، حوالے جات کی کثرت ہیں ہمارے پاس، بس ذوق تحقیق ہونا چاہئے، اس کے علاوہ علاوہ عبدالستار تونسوی، علامہ عبدالشکور لکھنوی، علامہ قاضی مظہر حسین، علامہ یوسف لدھیانوی کی کتب بندہ احقر نے پڑھیں ہیں۔ اول ذکر کا مناظرہ باگڑسرگانہ بنظر عمیق بندے احقر کی نظر سے گذرا ہے۔ دوم الذکر کے کم سے کم ۵ سے اوپر رسالے پڑھے ہیں جس میں مطلقا یا جزوی طور پر تحریف پر بات ہوتی جس میں اقامتہ الرھان اور علامہ سید علی حائری کے رد میں رسالہ قابل ذکر ہیں، سوم الذکر علامہ صاحب کے بہت چھوٹے اور ضخیم کتب بندہ احقر نے پڑھے ہیں جس میں اتحادی فتنہ، اور سنی مذھب حق ہے قابل ذکر ہیں جن میں مبحث تحریف بھی ہے، اور علامہ یوسف لدھیانوی صاحب کی کتاب شیعہ سنی اختلافات اور صراط مستقیم جو نئی طباعت کے ساتھ بنوری ٹاون سے بندہ احقر لایا تھا 'روشن حقائق' کے نام سے غالبا۔ اس کے علاوہ علامہ منظور نعمانی مدیر الفرقان کی 'ایرانی انقلاب'، علامہ عبدالغفور ندیم، علامہ فلان و فلان۔۔۔۔ طویل لسٹ ہوجائے گی۔ ان تمام رسائل کو پڑھا ہے لیکن مع الاسف شدید ان میں تعصب بہت ہیں۔ آپ کے احترام کی خاطر فی الحال ہم نے ان کے دئے ہوئے مال استدلال پر بحث نہیں کرتے لیکن جہاں یہ حضرات ہیں تو وہاں مفتی شفیع، مفتی تقی عثمانی و دیگر علماء اہلسنت نے تشیع پر تکفیر سے پہلو تہی کی ہے اگرچہ وہ اس عقیدے تحریف القرآن کو جانتے تھے، تو دو صورت میں سے ایک ہے کہ آیا ان کے نزدیک تحریف قرآن کا قائل کافر نہیں جو ممتنع لگتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ ان کے نزدیک تشیع سے تحریف ثابت نہیں جو ممکن لگتی ہے۔ خیر اللہ بہتر جانے۔ برادر محترم کسی کو کافر قرار دینا اول یہ بڑی جسارت ہے، بندہ احقر آج کل اصول تکفیر پر ایک چترال کے دیوبند عالم دین کی کتاب سے استفادہ کررہا ہے انہوں نے اس روش کی اتنی نفی کی ہے جس کی کوئی حد نہیں اور اصول تکفیر کے اصول و قوانین کے تحت بہت ساری باتوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ یقینا اس کو پڑھ کر احساس ہوا کہ یہ مناظرین و شہسواران میدان تو ایک طرف خود افتاء و مفتیان کی حالت قابل رحم ہے، اگرچہ ان میں سے کافیوں نے تشیع کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا۔ 
برادر ویسے تردید مذاھب باطلہ اگر معیار میزان تحقیق و افتاء ہے تو اس اصول کے مطابق علامہ امین صفدر اوکاڑوی، علامہ الیاس گھمن، علامہ اسماعیل محمدی، علامہ عابد، علامہ ابوبکر غازی پوری کے نزدیک غیر مقلد یعنی اہلحدیث چھوٹے رافضی ہیں تو اس فتوے کے صغری کبری ملا لیجئے اور ان ہر بھی فتویٰ تکفیر لگا دیں۔ اسی طرح تردید بریلویت شہسوار علامہ حماد نقشبندی وغیرہ کے نزدیک تو بعض علماء بریلوی قطعی طور پر کافر تھے۔ چنانچہ اس فتوے کو بھی مان لیں۔ اب آج کل مماتیت کی نفی میں حیاتی علماء اہلسنت بڑھ چڑھ کر ان کو معتزلی، منکر حدیث واللہ اعلم کیا کیا فتاوے دے رہے ہیں چنانچہ ان شہسواران تردید کے نزدیک بعید نہیں یہ بھی کافر ہو تو باقی مسلمان کون بچے گا۔۔۔ فقط و فقط دیوبندی حضرات۔ خیر یہ بڑا کج اصول وضع کیا ہے۔
رادر اب ایک اہم بات کی طرف توجہ کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے ہاں شیخ الاسلام علامہ تقی الدین ابن تیمیہ الحرانی کا قول آپ کے سامنے پیش کریں۔ جو تحریف قرآن کے معتقدین کے بارے میں حد فاصل ہے- سردست یہ بتاتے چلیں کہ اس تحریف قرآن کی بعض صورتوں کے قائل کو خطاء سے تعبیر کیا گیا ہے-
چنانچہ علامہ ابن تیمیہ رقم طراز ہے:

وَكَانَ الْقَاضِي شريح يُنْكِرُ قِرَاءَةَ مَنْ قَرَأَ: {بَلْ عَجِبْتَ} وَيَقُولُ: إنَّ اللَّهَ لَا يَعْجَبُ؛ فَبَلَغَ ذَلِكَ إبْرَاهِيمَ النَّخَعِي فَقَالَ: إنَّمَا شريح شَاعِر يُعْجِبُهُ عِلْمُهُ. كَانَ عَبْد اللَّه أُفُقه مِنْهُ فَكَانَ يَقُولُ: {بَلْ عَجِبْتَ} فَهَذَا قَدْ أَنْكَرَ قِرَاءَةً ثَابِتَةً وَأَنْكَرَ صِفَةً دَلَّ عَلَيْهَا الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَاتَّفَقَتْ الْأُمَّةُ عَلَى أَنَّهُ إمَامٌ مِنْ الْأَئِمَّةِ وَكَذَلِكَ بَعْضُ السَّلَفِ أَنْكَرَ بَعْضُهُمْ حُرُوفَ الْقُرْآنِ مِثْلَ إنْكَارِ بَعْضِهِمْ قَوْلَهُ: {أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا} وَقَالَ: إنَّمَا هِيَ: أو لَمْ يَتَبَيَّنْ الَّذِينَ آمَنُوا وَإِنْكَارِ الْآخَرِ قِرَاءَةَ قَوْلِهِ: {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إلَّا إيَّاهُ} وَقَالَ: إنَّمَا هِيَ: وَوَصَّى رَبُّك. وَبَعْضُهُمْ كَانَ حَذَفَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَآخَرُ يَكْتُبُ سُورَةَ الْقُنُوتِ. وَهَذَا خَطَأٌ مَعْلُومٌ بِالْإِجْمَاعِ وَالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ وَمَعَ هَذَا فَلَمَّا لَمْ يَكُنْ قَدْ تَوَاتَرَ النَّقْلُ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ لَمْ يُكَفَّرُوا وَإِنْ كَانَ يَكْفُرُ بِذَلِكَ مَنْ قَامَتْ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ.
صفحہ 7 از 29