تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 8 از 29

قاضی شریح قرآن مجید کی اس آیت بَلْ عَجِبْتَ کی قرات کا انکار کرتے اور کہتے کہ بتحقیق خدا کبھی تعجب نہیں کرتا، جب یہ بات علامہ ابراھیم النخعی کو پہنچی تو انہوں نے کہا کہ شریح ایک شاعر اور اس کے علم نے اس کو معجب کردیا ہے، درحالآنکہ عبداللہ ان سے زیادہ علم و فہم والے ہے جو بل عجبت کی قرات کیا کرتے تھے۔ پس اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جو ثابت شدہ قرات تھی اور جو صفت قرآن اور سنت سے ماثور تھی اس کا انکار شریح نے کیا، حالاںکہ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ آئمہ میں سے ایک امام تھے- اسی طرح بعض سلف نے بعض حروف قرآنی کا انکار کیا۔ جیسا کہ:
1۔ بعض سلف نے قرآن مجید کی آیت

''أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا''

کا انکار کیا اور وہ یوں قرات کرتے

'' أو لَمْ يَتَبَيَّنْ الَّذِينَ آمَنُوا ''۔

2۔ بعض سلف نے قرآن مجید کی آیت

''وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إلَّا إيَّاهُ''

کا انکار کیا اور وہ یوں قرات کرتے

''وَوَصَّى رَبُّك أَلَّا تَعْبُدُوا إلَّا إيَّاهُ''

3۔ بعض سلف معوذتین یعنی سورہ فلق اور سورہ الناس کو قرآن مجید کا حصہ نہیں مانتے تھے

4۔ بعض سلف سورہ القنوت کو لکھا کرتے تھے۔

نیز یہ تمام باتیں اجماع اور متواتر روایات کی بنا پر صریح غلطیاں ہیں۔ چناچنہ یہ اس لئے کہ یہ تمام چیزیں ان حضرات کے نزدیک تواتر روایات سے ثابت نہیں تھیں۔ پس وہ کافر نہیں قرار دئے جاسکتے، تکفیر اس شخص کی، کی جائے گی جس کے نزدیک تواتر روایات کے واشگاف ہونے کے بعد حجت قائم ہو جائے اور وہ جب بھی انکار کرے-

حوالہ: مجموع الفتاوى، جز 12 صحفہ 493، الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية

تبصرہ: علامہ ابنِ تیمیہؒ نے ایسا قول فیصل پیش کیا ہے جس کے تناظر میں ہم آرام سے یہ تاویل کرسکتے ہیں کہ بالفرض صحت انتساب تحریف اگر بعض لوگوں سے ثابت بھی ہو جائے تو اس کو زیادہ سے زیادہ خطاء سے تعبیر کیا جائے۔ 
اب ہم ایک اہم فتویٰ آپ کے گوش گذار کرتے ہیں، فتاوی عالمگیری، 'الباب التاسع فی احکام المرتدین' میں یہ عبارت واضح موجود ہے:

إذَا أَنْكَرَ الرَّجُلُ كَوْنَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنْ الْقُرْآنِ لَا يَكْفُرُ وَقَالَ بَعْضُ الْمُتَأَخِّرِينَ: يَكْفُرُ لِانْعِقَادِ الْإِجْمَاعِ بَعْدَ الصَّدْرِ الْأَوَّلِ عَلَى أَنَّهُمَا مِنْ الْقُرْآنِ وَالصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ؛ لِأَنَّ الْإِجْمَاعَ الْمُتَأَخِّرَ لَا يَرْفَعُ الِاخْتِلَافَ الْمُتَقَدِّمَ كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ.

اگر کوئی شخص یہ انکار کرے کہ معوذتین قرآن کا حصہ نہیں تو اس نے کفر نہیں کیا، اگرچہ بعض متاخرین علماء نے یہ کہا ہے کہ صدر اول میں اجماع ہونے کی وجہ سے اس کا قرآنیت کا منکر کافر ہوگا، لیکن صحیح بات یہی ہے وہ کافر نہیں ہوگا، کیونکہ بعد والوں کا اجماع متقدمین کے اختلاف کو ختم نہیں کرسکتا جیسے کہ ظہیریہ میں لکھا ہے-

حوالہ: فتاوی عالمگیریہ، جز 2، ص 267، الباب التاسع، تحت مطلب فِي مُوجِبَاتُ الْكُفْرِ أَنْوَاعٌ مِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِالْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، مطبوعہ دار الکفر بیروت۔
صفحہ 8 از 29