تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ - سنی شیعہ مناظرے…

تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ

  رانا مظہر

صفحہ 9 از 29

عزیزی یہ مسئلہ خود مختلف فیہ ہے کہ آیا جو حضرات بعض ظنی دلائل کی وجہ سے تحریف کے قائل ہوں ان پر فتویٰ تکفیر لگایا جائے گیا یا نہیں، عوام کے جوش کو ورغلانے کے لئے اگرچہ فتویٰ تکفیر اور واجب القتل کے فتاویٰ لگائے جاسکتے ہیں لیکن جب بات کتب فتاویٰ کی ہو تو اس میں اختلاف کثیرہ آپ کے سامنے ہی ہے۔ ہم چونکہ افتاء و فتویٰ دینے کے اہل نہیں اس لئے ہم اس معاملہ میں اپنی رائے دینا پسند نہیں کرتے-
خير طلب :محترم یقیناً ایک دو افراد کی آراء پورے مذہب کی متفقہ رائے نہیں سمجھی جاتی ،لیکن اول کیا تحریف کے مدعی مذہب شیعہ میں سے صرف ایک دو افراد ہیں ،کیا آپ اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ تحریف کے مدعی صرف چند افراد ہیں ؟صرف نوری نے دو درجن کے افراد ذکر کیے ہیں اور وہ سارے وہ افراد ہیں جن کی مدح سے کتب رجال بہری پڑی ہیں؟؟
محترم علامہ محمد حسین نوری کی تحقیق اور دیگر اصحاب کی تحقیق میں فرق آںا بعید نہیں۔ علامہ صاحب نے جن حضرات سے تحریف کو منسوب کیا ہے، ہمارے نزدیک ان سے وہ تحریف کا صدور ہی ثابت نہیں۔ اب اگر چاہیں تو ہر کسی کے بارے میں بحث کی جاسکتی ہے۔ ان متضافر و کثیر افراد کی نفی تو کم سے کم ہماری تحقیق کے مطابق پایہ ثبوت تک پہنچی ہوئی ہے جس میں ہمیں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ مجرد دعویٰ شاید دعوے کے اثبات میں کافی نہیں-
اب تفضیل امام علی ع بر جناب ابوبکر کا مسئلہ ہی لے لیجئے۔ اس میں آپ لوگ کتنے مختلف فیہ ہیں، سردست ہمیں اس مسئلہ سے بحث نہیں لیکن بات کو سمجھانے کے لئے ایک زاویہ سے بات کررہا ہوں۔ اب جناب ابوبکر کی افضلیت بر سائر الصحابہ پر بڑی شدومد کےساتھ اجماع و قطعی کا دعویٰ بھی ہے اور وہی بعض متکلمین کے نزدیک یہ مسئلہ مختلف فیہ بھی ہے۔ چنانچہ علامہ اشعری، علامہ ملا علی قاری، علامہ احمد سر ہندی، علامہ احمد رضا خان بریلوی و کثیر علماء کے نزدیک قطعی و اجماعی ہے- اس کا منکر اہلسنت سے خارج ہے وہی ہم دیکھتے ہیں کہ علامہ قاضی باقلانی متکلم اہلسنت نے اس کو 'ظنی' قرار دیا اور ان اصحاب کی لسٹ دی جو جناب علی ع کو تمام اصحاب پر فضیلت دیتے ملاحظہ ہو ان کی کتاب ''مناقب الأئمة الأربعة'' اور اس کے علاوہ ابن عبدالبر نے الاستعیاب میں تو ان اصحاب کے نام بھی گنوائے جو جناب ابوبکر کی افضلیت کے بجائے مولائے کائنات امیر المومنین ع کی افضلیت کے قائل تھے۔ چنانچہ ہمیں اس سے سردست کوئی بحث نہیں آیا ان محققین اہلسنت کا اصحاب سے مذھب تفضیل کا نقل کرنا صحیح تھا یا نہیں، لیکن انہوں نے اس 'اجماعی و قطعی' مسئلہ کے برخلاف بعض اصحاب سے اس عقیدے کو منسوب کیا، اب ایک محقق اس مسئلہ کی تحلیل کے لئے ان کے منسوب کرنے پر اکتفاء نہیں کرے گا بلکہ اس کی تنقیح کرے گا اور دعوے پر دلیل طلب کرے گا۔ چنانچہ محدث نوری کا ان لوگوں سے تحریف کو منسوب کرنا خود عند التحقیق ہے-
ثانیا دستور یہ ہے کہ جب مذہب میں سے کچھ لوگ عمومی مسلک کے بنیادی اصولوں سے ھٹ کر راے اختیار کریں تو مذہب کے علماء اس سے براءت ظاہر کرتے ہیں اس کے بارے میں گمراہی یا کفر کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں
محترم میں اس جواب کو بات کو بالفرض مانتے ہوئے دوں گا کہ 'فصل الخطاب' کتاب میں فقط شیعہ روایات کا تذکرہ ہیں اور اس سے تحریف کا اثبات کیا گیا ہے۔ اس پر کلام جلد آگے آرہا ہے۔ محترم معاف کیجئے گا، ہمارے ہاں فتاوی اتنے سستے نہیں۔ یہ بات اظہر و واضح ہے کہ ہمارے علماء نے اس کتاب کا رد بھی لکھا اور اس کتاب کے مندرجات کا خوب ڈٹ کے مقابلہ کیا۔ اگر آپ ان اشخاص و عبارات کے طالب ہوں جنہوں نے محدث نوری کا خوب رد کیا ہے تو آپ کو وہ میں بقید جلد نمبر و صفحہ نمبر مع مطبوعات دے سکتا ہوں۔ بس انصاف شرط ہے۔
یہ فتاویٰ جات کا ہی ماحصل ہے کہ آپ احناف دو عظیم گروہ میں بٹ گئے یعنی بریلوی/دیوبندی- علمی اختلاف ہونا بعید نہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن ان فتووں کی کثرت کا نتیجہ ہے آج بعض مشدد بریلوی حضرات حفظ الایمان، براہین قاطعہ، تقویتہ الایمان، صراط مستقیم، تحذیر الناس، یک روزہ، فتاوی رشیدیہ وغیرھم کی عبارات اٹھائے پھیرے اچھے خاصے فتاویٰ سے نوازتا ہے، دوسری طرف دیوبندی حضرات ملفوظات، دیوان محمدی، جاء الحق، فوائد فریدیہ کتب اٹھائے فتاوی کفر و شرک سے نوازتے ہیں۔ خیر ہم دخل در معقولات سے پرہیز کرتے الزامی جواب سے برھانی جواب پر آتے ہیں۔ محترم آپ کے سلف میں بھی بعض ایسے گذرے ہیں جن سے شدید قبیح الفاظ قرآن مجید کے لئے سرزد ہوئے، ان شاء اللہ حوالہ مانگنے پر دیا جائے گا لیکن ابنِ تیمیہؒ نے ان پر 'خطا کار' کا فتویٰ لگایا اور تکفیر سے پرہیز کی، معوذتین کے منکرین پر عدم تکفیر کا فتویٰ بھی علماء احناف میں موجود ہیں، بسم اللہ کے عدم جز قرآن پر بھی فتوے عدم تکفیر موجود ہے- چنانچہ محترم ان عدم تکفیر کے فتاوے جات بتاتے ہیں کہ 'سقیم فہم' کو تکفیر پر محمول نہیں کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ محدثین و سلف اہلسنت کے نزدیک خدا کے صفات میں تاویل کرنا ایک ایسا عظیم جرم تھا جو جہمی و حشویہ بنانے کے لئے کافی تھیں اور ان کی تکفیر کی بھی۔ البتہ متاخرین میں آپ دیکھیں کہ تاویل و تفویض کو کس طرح قبول کیا گیا۔ اس ضمن میں بھی متاخرین کے نزدیک نوبت تکفیر کی نہیں آئی۔ لہذاء مروجہ دستور سے ہٹ جانا ہرگز کبھی بھی فتوے تکفیر و گمراہ کو لازم نہیں کرتی۔ جب ہی آپ دیکھیں کہ جمہور تشیع کا عقیدہ ہے کہ نبی محمد ع پر سھو مطلقا جائز نہیں لیکن شیخ ابن ولید، شیخ صدوق وغیرھما سھو نبی ص کے قائل تھے۔ اس وقت بھی اس عقیدے پر کڑی تنقید ہوئی لیکن نہ وہ دائرہ تشیع سے خارج ہوئے اور نہ دائرہ اسلام سے؟آپ کے مسلک والوں کا تو حال یہ ہے کہ نوری نے فصل الخطاب میں کتنے زور سے تحریف کی صداء بلند کی اور وہ تاریخ اسلام میں وہ واحد شخصیت ہے جس نے تحریف قرآن کا صرف عقیدہ اختیار نہیں کیا بلکہ اس کے اثبات پر ایک ضخیم کتاب لکھی (اگرچہ شیعہ تاریخ میں مزید کتب بھی لکھی گی لیکن بعض ہل تشیع کے انکار کی وجہ سے صرف اس کا ذکر کیا)لیکن اہل تشیع نے اسے کافر تو کجا گمراہ بھی نہیں کہا 
برادر محترم، آپ کی باتوں سے کافی لطف اندوز ہوئے، آپ بعض گذارشات ہماری بھی اس مسئلے پر سنئے، اس سلسلے میں ہم یہ بات بتاتے چلیں کہ ہم قطع و یقین کے ساتھ کوئی حتمی رائے اس معاملے میں نہیں دیں گے بلکہ ہم علماء کی تحقیقات کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور فیصلہ آپ کی صوابدید پر چھوڑتے ہیں۔
اولاً: علماء امامیہ کا اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا یہ کتاب تحریف کے اثبات میں لکھی گئی ہے یا عدم تحریف کے اثبات میں۔ اس سلسلہ میں ہماری پیش نظر جو اہم بات ہے وہ یہ کہ آیا یہ کتاب تحریف کے اثبات میں لکھی بھی گئی ہے یا نہین۔ بعض ثقات کے تحت آیت اللہ مرعشی نجفی اعلی اللہ مقامہ کے نزدیک جو کتب، رسائل و مخطوطات کے جم غفیر کے جامع ہیں (یہاں تک علامہ ابن تیمیہ کی بعض کتب بھی ان کے مکتب سے اخذ کردہ مخطوطات کی مدد سے دوبارہ چھاپی گئی ہیں)، اس کتاب میں دراصل عدم تحریف کا بیان ہے جس کو نام کی اشتباہ کی وجہ سے غلط رنگ دیا گیا۔
دوم: علماء امامیہ کی کتب کا موسوعہ جمع کرنے والے اور شیخ محدث محمد نوری کے شاگرد بزرگوار آغا بزرگ طہرانی نے الذريعة إلى تصانيف الشيعة کے جز 16 صحفہ 231 میں فصل الخطاب کتاب کے ذیل میں رقم طراز ہیں کہ 'جب علامہ محدث نوری کے جواب میں کتاب لکھی گئی تو علامہ نے اس کتاب کے جواب میں فارسی میں ایک رسالہ لکھا اور یوں گویا ہوئے:

صفحہ 9 از 29