Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زہد اور شکر

  علی محمد الصلابی

امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفانؓ نے مال داری و ثروت میں شہرت حاصل کی لیکن اس کے باوجود آپؓ زہد کے پیکر تھے، متعدد روایات اس کا بین ثبوت ہیں، چنانچہ سیدنا حمید بن نعیم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کو کھانے کی دعوت دی گئی، جب دونوں چلے تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا ہم ایسے کھانے کی محفل میں شرکت کر رہے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ہم یہاں نہ آتے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں؟ فرمایا: مجھے خوف ہے کہ کہیں فخر و مباہات کے لیے یہ کھانے کی محفل نہ سجائی گئی ہو۔

(الزہد، الإمام احمد: صفحہ، 126) 

اسلامی سخاوت کے میدان میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی فقاہت یہ تھی کہ سخاوت اسلام میں فخر و مباہات کی خاطر انواع و اقسام کے زیادہ کھانے پیش کرنے کا نام نہیں، بلکہ مال کو بغیر اسراف کے اور کبر و غرور سے دور رہ کر منعم حقیقی کے شکر اور لوگوں کے ساتھ تواضع اور فروتنی اختیار کرتے ہوئے خرچ کرنے کا نام ہے۔ سیدنا عثمانِ غنیؓ کا یہ نظریہ دنیاوی جاہ و حشمت سے بے نیازی پر مبنی ہے، اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپؓ دنیا بیزار لوگوں میں سے تھے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد، 4 صفحہ، 17، 18)

وہ روایت بھی حضرت عثمان بن عفانؓ کے زہد و تواضع کی دلیل ہے جسے امام احمد رحمۃ اللہ نے میمون بن مہران کی حدیث سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں: مجھے ہمدانی نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپؓ خچر پر سوار ہیں، اور اپنے پیچھے اپنے غلام نائل کو سوار کیے ہوئے ہیں جب کہ آپؓ خلیفۃ المسلمین کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔ (الزہد: صفحہ، 127) 

اسی طرح امام احمد رحمۃ اللہ نے ہمدانی کی یہ روایت بیان کی ہے: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو، جب کہ آپؓ امیر المؤمنین تھے، دیکھا کہ مسجد میں ایک چادر پر سوئے ہوئے ہیں اور آپؓ کے پاس کوئی نہیں ہے۔

(الزہد: صفحہ، 127) 

اور سیدنا شرحبیل بن مسلم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ لوگوں کو امارت کا کھانا کھلا دیتے اور خود اپنے گھر جا کر سرکہ اور روغن پر گزارہ کرتے۔

(الزہد: صفحہ، 129) 

امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زہد کی یہ عظیم مثالیں ہیں، اگر زاہد متوسط درجہ کا ہو تو پھر اس کا زہد قابلِ التفات اور تعجب خیز نہیں ہوتا لیکن جب مال دار ہو تو یقیناً اس کا زہد حیرت انگیز اور عبرت آموز ہوتا ہے، کیوں کہ کثرتِ مال انسان کو لذت کوشی اور اخراجات میں فراخی و اسراف کی طرف راغب کر دیتی ہے، لہٰذا مال دار کے زاہد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے فہم کا استیعاب کیے ہوئے ہو یہاں تک کہ اس کو نفس پر مکمل کنٹرول حاصل ہو، اور اپنے دل کو وعظ سنانے والا ہو، دنیا اس کی نگاہوں میں حقیر اور آخرت عظیم نظر آئے،

حضرت عثمانِ غنیؓ ایسے ہی تھے۔ مسلمانوں میں آپؓ سب سے زیادہ مال دار تھے، آپؓ کی ایمانی قوت، شہوت و خواہشات پر غالب تھی، بہت بڑے زاہد تھے اور آپؓ نے تمام مال داروں کے لیے مثال قائم کی ہے کہ مال داری اور زہد دونوں اکٹھا ہو سکتے ہیں۔ 

(التاریخ الاسلامی: جلد، 4 صفحہ، 17، 18)

شکر:

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ زبان و قلب اور اعضاء سے اللہ تعالیٰ کا شکر کثرت سے ادا کرنے والے تھے، ایک دن آپؓ کو خبر دی گئی کہ کچھ لوگ غلط کام میں لگے ہیں، آپؓ ان کے تعاقب کے لیے نکلے، لیکن وہاں پہنچنے سے قبل وہ لوگ بھاگ لیے، اس پر حضرت عثمان بن عفانؓ نے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپؓ کے ہاتھوں کوئی مسلم ذلیل نہیں ہوا، پھر ایک غلام آزاد کیا۔

(علوالہمۃ: جلد، 5 صفحہ، 481)