لوگوں کی خبر گیری
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ لوگوں کی محبت سے سرشار اور انتہائی شفیق و رحیم تھے، لوگوں کے حالات برابر دریافت کرتے رہتے۔ ان کی مشکلات و پریشانیوں کو معلوم کرتے، غائب کی خبر گیری کر کے اطمینان حاصل کرتے اور حاضرین کے ساتھ ہمدردی و غم خواری کرتے، مریضوں کے حالات معلوم کرتے، چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے حضرت موسیٰ بن طلحہؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپؓ منبر پر تشریف فرما تھے اور لوگوں سے ان کے احوال اور سامان کا نرخ معلوم کر رہے تھے۔
(فضائل الصحابۃ: صفحہ، 812 اسنادہ صحیح)
ابنِ سعد نے طبقات میں سیدنا موسیٰ بن طلحہؓ سے روایت نقل کی ہے:
میں سیدنا عثمانِ غنیؓ کو دیکھتا تھا کہ آپؓ جمعہ کے دن زرد کپڑے پہنے ہوئے تشریف لاتے، اور منبر پر بیٹھتے، پھر موذن اذان دیتا، پھر آپؓ بیان کرتے، اور لوگوں سے مسافرینِ سفر سے واپس آنے والوں اور مریضوں کے احوال دریافت کرتے۔
(الطبقات: جلد، 3 صفحہ، 59 یہ واقعہ ضعیف ہے کیونکہ زرد کپڑے پہننے سے نبی کریمﷺ نے منع فرمایا ہے، نیز حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کو ڈانٹا جو زرد کپڑے پہن کر آیا۔ (مسند احمد: صفحہ، 517)
رعایا کے امور کا خیال رکھتے، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے، نو مولود بچوں کے وظائف بیت المال سے جاری کرتے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 396)
چنانچہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت پایا ہے، آپؓ کے دورِ خلافت میں کوئی مسلمان ایسا نہیں تھا کہ جس کو بیت المال سے وظیفہ نہ ملتا رہا ہو۔
(المصنف، ابی شیبۃ: جلد، 3 صفحہ، 1023)