باصلاحیت افراد سے استفادہ
علی محمد الصلابیباصلاحیت افراد کی تعریف اور امت کو ان کے احترام و تکریم کا حکم اور ان کے مقام پر انہیں رکھنے، ان کی حق تلفی سے اجتناب کرنے، ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی رہنمائی ان امور میں سے ہیں جس کی وجہ سے اس امت کے سلف صالحین اور قرونِ مفضلہ کے لوگوں نے عزت و شرف اور زمین میں غلبہ و قوت حاصل کی۔
(الکفاءۃ الإداریۃ: صفحہ، 157)
یہ صفت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں نمایاں ہوئی جب کہ آپؓ نے قرآن کی جمع و تدوین میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے استفادہ کیا۔
یہ ہیں وہ بعض اوصاف جن کا مشاہدہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں کیا، یہ ان مسلم قائدین اور عوام کے لیے اسوہ و نمونہ ہے جو نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتداء کرنا چاہتے ہیں۔
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے اوصاف کی معرفت اور ان کی اقتداء کی کوشش ربانی قائدین کے اوصاف کی معرفت کی طرح صحیح قدم ہے جو امت کو متعین اہداف اور ثابت نقوش کی طرف قیادت کر سکتے ہیں۔ پس ان ربانی قائدین کو تیار کرنا جن کے دلوں اور رگوں میں تقویٰ دوڑ رہا ہو اور اس کے آثار ان کے اعضاء و جوارح پر منعکس ہوں اور ان کے اعمال، احوال اور حرکات و سکنات میں تقویٰ جوش مار رہا ہو، دینِ الہٰی کو غلبہ دینے کے اسباب میں سے ہے۔ حکیمانہ ربانی قیادت اللہ کی شریعت کے نفاذ کی خاطر امت کی صلاحیتوں اور قوتوں کو بروئے کار لانے کے لیے کوشاں ہوتی ہے، اسلام کو سینے سے لگاتی ہے اور ظاہر و باطن، عقیدہ و شریعت اور دین و دنیا میں اس کو اپنا منہج قرار دیتی ہے، یہ مشاکل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہوتی ہے، اور پوری محنت و اخلاص کے ساتھ داخلی و خارجی غلبہ و قوت کی راہ میں حائل ہونے والے امور کا صفایا کرتی ہے۔