Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مالی سیاست، زمام حکومت سنبھالتے ہوئے جس کا اعلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا

  علی محمد الصلابی

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے گورنروں کے نام، خراج وصول کرنے والوں کے نام اور رعایا کے نام خطوط تحریر کیے جس کی تفصیل اس سے قبل آپؓ کے منہجِ حکومت کے بیان میں ہم کر چکے ہیں۔ ان خطوط کی روشنی میں مالی سیاست کے عام عناصر جن کا اعلان تیسرے خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفانؓ نے کیا، مندرجہ ذیل اسس و مبادی پر قائم تھے:

٭ عام اسلامی مالی سیاست کی تنفیذ۔

٭ خراج کی وصولی کا رعایا کی حفاظت و خبر گیری میں خلل انداز نہ ہونا۔

٭ مسلمانوں سے بیت المال کا حق وصول کرنا۔

٭ بیت المال سے مسلمانوں کے حق کو ادا کرنا۔

٭ ذمیوں پر ظلم نہ کرنا، ان سے بیت المال کا حق وصول کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا۔

٭ محصلین خراج کا امانت و وفا کی صفت سے متصف ہونا۔

٭ عوام کی خوش حالی کی وجہ سے رونما ہونے والے مالی انحرافات سے بچنا۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان، قطب ابراہیم: صفحہ، 61)

ان اسس و مبادی کی تفصیل درج ذیل ہے:

عام اسلامی مالی سیاست کی تنفیذ کی نیت:

یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ نے عام اسلامی مالی سیاست کی تنفیذ کا عزم مصمم کر رکھا تھا۔ کیوں کہ آپؓ کی بیعت حکمِ الہٰی، سنتِ نبوی اور آپؓ کے پیشرو خلفائے راشدین سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیاست کی تنفیذ کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مالی سیاست وغیرہ کے سلسلہ میں قرآن و سنت کے احکام کو نافذ کیا اور حضرت عمر فاروقؓ نے مالی ادارے کو ترقی دی، اس کے قواعد منظم کیے، اس کے مبادی کو مضبوط کیا، ذرائع مال میں اضافہ کیا اور انفاقِ مال کی صحیح تعلیمات بہم پہنچائیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے طریقہ پر گامزن ہوئے اور بعض ان امور میں اجتہاد کیا جو قابلِ اجتہاد تھے، چنانچہ آپؓ نے مال اور دیگر امور میں حکمِ الہٰی کو نافذ کیا۔ زکوٰۃ کو بیت المال میں جمع کرنے اور مستحقین کے درمیان تقسیم کرنے کی مکمل نگرانی کی اور اہلِ کتاب پر زور دیا کہ اسلامی سلطنت کے بیت المال میں جزیہ جمع کریں اس طرح وہ اسلامی حکومت کی حفاظت و حمایت میں داخل ہو جائیں اور پھر اسلامی حکومت ان کی مکمل حفاظت کرے گی اور ان کے لیے امن و امان مہیا کرے گی اور تمام پبلک سروسز ان کے لیے فراہم کرے گی۔ مجاہدین مالِ غنیمت جمع کریں اور اس کا خمس بیت المال کو روانہ کریں اور پھر بیت المال اس کو مساکین و ایتام اور دیگر مستحقین کے درمیان اس آیت کریمہ کی روشنی میں تقسیم کرے گا:

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ‌ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

(سورۃ الأنفال: آیت 41)

ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مالِ غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسولﷺ‏ اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی۔ جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کے دیگر مالی وسائل و ذرائع کی نگرانی فرمائی اور اس کے انتظام و انصرام کا مکمل اہتمام فرمایا۔ سیدنا ذوالنورینؓ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے دور میں پبلک مالیاتی شعبہ اس حیثیت سے ممتاز رہا کہ وہ مکمل اسلام کے ساتھ مرتبط رہا۔ اسلامی تعلیمات کو نافذ کیا گیا، مالی آمدنی کی حفاظت کی گئی اور عام طور سے اسلام کی نشر و اشاعت اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر اس کو خرچ کیا گیا، خرچ میں میانہ روی کو اختیار کیا گیا کیوں کہ اسلامی تعلیم اسراف سے روکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسلامی شریعت بے وقوفوں کو مال میں من مانی اور تصرف کرنے سے روکتی ہے۔ اسلام کا مالی نظام بہترین پبلک مالی نظام ہے۔ اس کے بعض ذرائع آمدنی کو رعایا کے کمزور ڈھانچے کے لیے مخصوص کر دیا جاتا ہے۔ اسلام کا مالی نظام گندگی سے پاک ہے، اس کے اندر کسبِ حرام کا گزر نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسبِ حرام میں برکت عطا نہیں کرتا۔

خراج کی وصولیابی کا رعایا کی حفاظت و خبر گیری میں خلل انداز نہ ہونا

گورنروں کے نام اپنے خط میں سیدنا عثمان بن عفانؓ نے اس حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا کہ بیت المال کے لیے مال کی وصولی گورنروں کے اولین فریضہ رعایا کی حفاظت و خبر گیری پر اثر انداز نہ ہو۔ اس لیے کہ خراج وغیرہ کی وصولی رعایا کے حقوق میں سے ایک ہے جس کا صدرِ مملکت مکلف ہے لہٰذا یہ مناسب نہیں کہ یہ باقی تمام فرائض واجبات پر اثر انداز ہو کر اسے ختم کر دے۔

(السیاسیۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 62) 

فقہائے امت نے طریقہ نبوی اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طرزِ عمل سے امت کی حمایت و حفاظت سے متعلق خلیفہ کے فرائض مستنبط کیے ہیں جو درج ذیل ہیں:

علامہ ماوردیؒ فرماتے ہیں عام پبلک مسائل جو خلیفہ پر لازم ہیں دس ہیں:

1: دین کو اس کے ثابت اصولوں اور سلف صالحین کے اجماع کے مطابق محفوظ رکھنا۔

2: جھگڑنے والوں کے درمیان احکامِ شریعت کو نافذ کرنا، ان کے جھگڑے کو چکانا تاکہ انصاف عام ہو، تاکہ ظالم زیادتی نہ کرے اور مظلوم کمزور نہ پڑے۔

3: بچوں اور خواتین کی حمایت و حفاظت تاکہ لوگ جان و مال کی فکر کیے بغیر پورے امن و امان کے ساتھ طلبِ معاش میں لگ سکیں اور سفرِ زندگی جاری رکھ سکیں۔

4: شرعی حدود کا نفاذ تاکہ ایک طرف اللہ کے محارم کا ارتکاب نہ کیا جائے اور دوسری طرف بندوں کے حقوق کو تحفظ ملے۔

5: اسلامی حدود کی مکمل حفاظت اور اس کے لیے صحیح فوجی ساز و سامان اور دفاعی قوت فراہم کرنا تاکہ دشمن موقع پا کر گھس نہ آئے اور پھر کسی مسلمان یا معاہد کا خون بہائے یا کسی حرمت کو پامال کرے۔

6: دعوت پیش کرنے کے بعد معاندین اسلام کے خلاف اعلان جہاد کرنا یہاں تک کہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ ادا کرنے پر تیار ہو جائیں تاکہ اللہ کا دینِ اسلام تمام ادیان پر غالب آ جائے۔

7: بغیر کسی ظلم و زیادتی کے مالِ فے اور صدقات کو وصول کرنا۔

8: بیت المال سے مستحقات اور عطیات کو بغیر اسراف و بخالت کے مقرر کرنا اور بغیر کسی تقدیم و تاخیر کے وقت مقررہ پر ادا کرنا۔

9: با صلاحیت، امانت دار اور خیر خواہ افراد کو جمع کرنا اور ان کے ذمہ اعمال و اموال سپرد کرنا تاکہ باصلاحیت افراد کے ذریعہ سے اعمال صحیح طریقہ پر انجام پائیں اور امانت دار افراد کے ذریعہ سے مال محفوظ رہے۔

10: خود امور و مسائل کی نگرانی کرے اور حالات کا جائزہ لے تاکہ امت کی سیاست اور ملت کی حفاظت میں ترقی کے منازل طے کرے، لذت یا عبادت میں مشغول ہو کر دوسروں پر تکیہ نہ کرے۔

(الاحکام السلطانیۃ والولایات الدینیۃ، ابو الحسن الماوردی: صفحہ، 16، 17) 

بالاختصار خلیفہ کے فرائضِ بیعت کے دو شرائط حفاظتِ دین اور سیاستِ دنیا سے متفرع ہوتے ہیں،

(مقدمۃ ابنِ خلدون: صفحہ، 191) 

جو رسول اللہﷺ‏ کے فرائضِ منصبی میں سے ہیں جن کا یہ خلیفہ ہے۔ علامہ ماوردیؒ اور فراء ہم عصر ہیں، فرائضِ خلیفہ سے متعلق ان دونوں کی تعیین ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ ان دونوں کا اجتہاد ہے جو ان کے دور میں امت کی ضروریات کے مطابق تھا لیکن یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ ایک عالم نے اُمت کے جو حقوق شمار کرائے ہیں اسی پر اکتفاء کیا جائے خواہ وہ فضیلت اور وسعتِ علم میں کتنے ہی اونچے مقام پر کیوں نہ فائز ہو اور اس موضوع سے متعلق اس کی نگاہ کتنی ہی وسیع اور ہمہ گیر کیوں نہ ہو اور وہ معاصرین ہی میں سے کیوں نہ ہو چہ جائے کہ صدیوں قبل کے آراء و اجتہادات پر اکتفا کیا جائے۔

(الخلافۃ بین التنظیر و التطبیق، محمد المرداوی: صفحہ، 66)

لہٰذا ضروری ہے کہ خلیفہ کے فرائض کی تعیین مذکورہ بیعت کی دونوں شرائط حفاظتِ دین اور سیاستِ دنیا کی بنیاد پر کی جائے اور علمائے امت کی کمیٹیاں اپنے دور کے لوگوں کے لیے اس کام کو انجام دیں۔

(الخلافۃ بین التنظیر و التطبیق، محمد المرداوی: صفحہ، 67) 

یہ خلیفہ کے بعض فرائض ہیں جسے فقہائے امت نے بیان کیا ہے، عصور و ازمان میں تطور کے ساتھ ان میں بھی تطور ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ تطور نصوص کتاب و سنت اور احکامِ دین کے مخالف نہ ہو۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 63)

مسلمانوں سے بیت المال کا حق وصول کرنا

خراج وصول کرنے والے بیت المال کے حقوق کو جمع کرنے کے لیے حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں جب انہوں نے مسلمانوں پر عائد شدہ حقوق حاصل کر لیے تو انہوں نے اپنی ڈیوٹی ادا کر دی اور اگر انہوں نے بیت المال کے حقوق کو وصول کرنے میں غلو سے کام لیا تو انہوں نے مال ادا کرنے والوں پر ظلم ڈھایا، انہیں نقصان پہنچایا اور ان کی طاقت سے بالاتر ان کو مکلف کیا اور رسول اللہﷺ‏ نے بیت المال کے حق کو حاصل کرنے میں غلو سے منع فرمایا ہے اور زکوٰۃ میں لوگوں کا بہترین مال لینے سے منع فرمایا ہے اور پھلوں کی زکوٰۃ وصول کرنے میں آسانی و تخفیف کا حکم فرمایا ہے۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 64)

بیت المال سے مسلمانوں کا حق ادا کرنا

بیت المال سے مسلمانوں کا عطیہ یا تو براہِ راست ہو گا جیسے زکوٰۃ کو مستحقین پر صرف کرنا اور بیت المال سے زائد مال کو عطیات کے نظام کے تحت مسلمانوں کے مابین تقسیم کرنا، یا براہِ راست نہ ہو گا جیسے خدمات عامہ (پبلک سروسز) جو حکومت اپنی رعایا کے لیے پیش کرتی ہے، اس پر بیت المال سے خرچ کیا جائے گا۔ دونوں طرح کے عطیات میں لازم ہے کہ حق کو قائم رکھا جائے براہِ راست عطیات ظلم و زیادتی سے پاک ہوں۔ بایں طور کہ مقررہ اصولوں کی مخالفت نہ کی جائے کہ بلا سبب اور کسی وجہ جواز کے بغیر کسی کو فائدہ اور کسی کو نقصان پہنچایا جائے، اور یہ جائز نہیں کہ عطیات کو ان کے مقررہ وقت سے مؤخر کیا جائے خواہ یہ تاخیر کارروائی کی پیچیدگی کی وجہ سے ہو یا ان رکاوٹوں کی وجہ سے جن کی وجہ سے وہ حضرات جو حق تلفی کا شکار ہیں ذمہ داروں تک نہیں پہنچ پاتے کہ وہ عطیات کی تاخیر یا قلت یا عدمِ وصول کے سلسلہ میں بات کر سکیں۔ اور اسی طرح خدمات عامہ (پبلک سروسز) کی شکل میں حکومت عوام کو جو عطیات پیش کرتی ہے اس میں یہ جائز نہیں کہ فردِ معین کی منفعت پیشِ نظر ہو بلکہ ضروری ہے کہ پوری امت کی منفعت پیشِ نظر رہے۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 66)