Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ذمیوں پر ظلم نہ کرنا، ان سے بیت المال کا حق وصول کرنا اور ان کے حقوق کو ادا کرنا

  علی محمد الصلابی

اہلِ کتاب سے جزیہ وصول کرتے وقت ان پر ظلم کرنا جائز نہیں کیوں کہ اہلِ کتاب ان ذمیوں میں سے ہیں جو اسلامی سلطنت میں اقامت اختیار کرتے ہیں اور وہ اس کی حفاظت و امان میں ہوتے ہیں جب تک جزیہ ادا کرتے ہیں چنانچہ رسول اللہﷺ‏ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت فرمائی ہے، آپﷺ‏ نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہلغ ذمہ سے جزیہ وصول کرنے پر مقرر فرمایا جب وہ آپؓ کے پاس سے جانے لگے تو آپﷺ‏ نے انہیں بلایا اور فرمایا:

الا من ظلم معاھدا او کلفه فوق طاقته او انتقصه او اخذ منه شیئا بغیر طیب نفسه فأنا حجیجه یوم القیامۃ

(المنتخب من السنۃ: صفحہ، 261 ابوداود: حدیث 3052 البیہقی: جلد، 9 صفحہ، 205 دیکھیے: صحیح الجامع الصغیر، البانی: حدیث، 2655 (مترجم)

ترجمہ: خبردار جو کسی معاہد پر ظلم کرے یا اس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف کرے یا اس کی تنقیص کرے یا اس کی رضا کے بغیر کوئی چیز اس سے لے تو قیامت کے دن میں اس کے خلاف دعوے دار ہوں گا۔

اس کی بنیاد پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی۔ فرمایا:

میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اہلِ ذمہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، ان کے عہد کو پورا کرے، اور ان کے دفاع میں قتال کرے اور ان کو ان کی طاقت سے زیادہ مکلف نہ کرے۔ 

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 67)

لہٰذا اگر جزیہ وصول کرنے والے ذمیوں کو اذیت پہنچائیں یا ان کی طاقت سے زیادہ ان کو مکلف کریں یا انہیں سزا دیں، یا اس بوڑھے شخص سے جزیہ وصول کریں جس کے پاس کچھ نہیں اور نہ وہ کام کر سکتا ہے یا اس ذمی سے جزیہ لیں جو اسلام قبول کر چکا ہے تو یہ سب ظلم میں شمار ہو گا۔ تعلیماتِ رسول اللہﷺ‏ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خلیفہ ثالث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عاملینِ خراج کے نام اپنے خطبہ میں مذکورہ ظلم کے عدمِ ارتکاب کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 67)

اہلِ ذمہ جو ان زمینوں کی کاشت کاری کرتے ہیں جو اسلامی فتوحات کے نتیجہ میں اسلامی سلطنت کے ہاتھ آئی ہیں وہ جزیہ کے علاوہ خراج بھی بیت المال کو ادا کریں گے۔ عاملینِ خراج پر واجب ہے کہ وہ خراج کی قیمت مقرر کرتے ہوئے حق کا خیال رکھیں بایں طور کہ ان اسباب و عوامل کا اعتبار کریں جو اثر انداز ہوتے ہیں کیوں کہ ان اسباب و عوامل کو نظر انداز کر دینے سے اہلِ ذمہ پر ظلم کا وقوع یقینی ہو جاتا ہے۔ وہ اسباب و عوامل جو قیمت کی تحدید میں اثر انداز ہوتے ہیں چار ہیں:

1: زمین کی نوعیت، اچھائی و خرابی کے اعتبار سے: اگر زمین اچھی ہے تو پیداوار زیادہ ہو گی اور اگر زمین اچھی نہیں تو پھر پیداوار میں کمی ہو گی۔

2: غلوں اور پھلوں کی نوعیت: بعض کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور بعض کی کم۔

3: آب پاشی کی نوعیت: چنانچہ جن زمینوں کی آب پاشی مشینوں سے کی جاتی ہے اس پر اخراجات زیادہ آتے ہیں اور جو زمین بارش یا تالاب وغیرہ سے سیراب ہو جاتی ہے اس پر کم۔

4: خراج مقرر کرتے وقت اعلیٰ مقدار کو نہ مقرر کرے بلکہ زمین والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دے جسے وہ مشکلات و پریشانیوں میں کام میں لا سکیں۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 67)

اگر اسلامی سلطنت نے اہلِ کتاب کے ساتھ کوئی معاہدہ یا مصالحت کی ہے تو اسلامی حکومت اور عاملینِ خراج کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان شرائط کی پاسداری کریں جو معاہدہ و مصالحت میں طے پائی ہیں اور انہی شرائط میں سے وہ شرائط بھی ہیں جن میں جزیہ اور خراج کی قیمت کی تحدید کی گئی ہے۔ کیوں کہ مسلمان جب کوئی عہد و پیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ 

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 67)