Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یتیم پر عدم ظلم

  علی محمد الصلابی

عام مال میں نصوصِ قرآنی کی روشنی میں یتیم کو حقوق حاصل ہیں اگر یتیم فقیر ہے تو وہ مالِ زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ ارشادِ الہٰی ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡعٰمِلِيۡنَ عَلَيۡهَا وَالۡمُؤَلَّـفَةِ قُلُوۡبُهُمۡ وَفِى الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِيۡنَ وَفِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞

(سورۃ التوبة: آیت 60)

ترجمہ: صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز انہیں غلاموں کو آزاد کرنے میں اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

مالِ غنیمت کے خمس میں یتیم کا حصہ ہے۔ ارشادِ الہٰی ہے:

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ‌ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

(سورۃ الأنفال: آیت 41)

ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مالِ غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسولﷺ اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی۔ جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یتیم کو بیت المال کے عطیات میں حق حاصل ہے، چنانچہ بیت المال سے بچوں کے لیے عطیات مقرر کیے جاتے تھے اور اس ضمن میں ایتام بھی داخل تھے۔ اگر یتیم مال دار ہو تو وہ اپنے مال پر عائد شدہ زکوٰۃ ادا کرے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق و عدل کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرے تاکہ نا حق اس کے ظلم کی وجہ سے یتیم کا مال یا اس کا بعض حصہ ضائع نہ ہو۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 68)