عاملین خراج کا امانت و وفا کی صفت سے متصف ہونا
علی محمد الصلابیارشادِ الہٰی ہے:
اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا ۞(سورۃ النساء: آیت 58)
ترجمہ: (مسلمانو) یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔
ارشادِ الہٰی ہے:
وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَاعُوۡنَ ۞
(سورۃ المؤمنون: آیت 8)
ترجمہ: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔
خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے محصلینِ خراج سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ امانت کی صفت سے متصف ہوں، اور جو بھی مالی اُمور سے منسلک ہوں ان سب کے لیے یہ صفت انتہائی لازم ہے، اگر ان کے اندر یہ صفت نہ پائی گئی تو وہ بیت المال کے حقوق پر ظلم ڈھائیں گے اور مال فراہم کرنے والوں پر ظلم ڈھائیں گے اور مال فراہم کرنے والوں اور بیت المال کے درمیان تعلقات خراب ہوں گے۔ قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ امانت کو لازم پکڑنے پر ابھارتے ہیں۔
خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفانؓ نے اسی طرح محصلینِ خراج سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ وفا کی صفت سے متصف ہوں اور آپؓ کے خطوط میں مطلق وفا کی تاکید کی گئی، جو بیت المال اور مال فراہم کرنے والے دونوں کے ساتھ وفا کو شامل ہے بایں طور پر کہ بیت المال کا حق رعایا سے پورا پورا وصول کیا جائے اور مال فراہم کرنے والوں پر مطلوبہ مال کی تعیین میں حد سے تجاوز کر کے ان پر ظلم نہ کیا جائے۔ اور اسی طرح اس وفا کا تعلق اہلِ ذمہ سے بھی ہے کہ ان کے ساتھ نرمی اور حسن معاملہ کیا جائے اور جزیہ و خراج سے متعلق جو صلح کی شرائط طے پائی ہیں بلا کم و کاست نافذ کیا جائے۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 69)